ایک ہفتے میں اڈانی گروپ کا90 ارب ڈالر کا نقصان 

سلائیڈر نیشنل نیوز
دہلی:۔ امریکی ریسرچ کمپنی ہنڈن برگ کی رپورٹ کے بعد اڈانی گروپ کی تباہ کاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ایک ہفتے کے اندر اب تک مجموعی طو رپر ۹۰ ارب ڈالر کا نقصان ہوچکا ہے۔ ریزروبینک آف انڈیا بھی حرکت میںآگیا ہے اور اس نے تمام بینکوں سے اڈانی کی کمپنی میں سرمایہ کاری کی رپورٹ طلب کی ہے۔ ادھر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں آج اپوزیشن نے زبردست شور شرابہ اور ہنگامہ کیا ،اور پورے معاملے کی جانچ سپریم کورٹ یا مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے ذریعہ کرانے کا مطالبہ کیا۔ ہنگامے کی وجہ سے دونوں ایوانوں کی کارروائی دن بھر کے لیے ملتوی کردی گئی۔ دریں اثناء گوتم اڈانی کا ایک اور بیان سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے ۲۰ ہزار کروڑ کا ایف پی او واپس لے لیا اور سرمایہ کاروں کو یقین دہانی کرائی ہے۔ تفصیلی خبر کے مطابق جمعرات کو بھی اڈانی گروپ کی کمپنیوں کے حصص میں زبردست گراوٹ ہوئی۔ بیشتر کمپنیوں کے حصص نچلے سرکٹ پر بند ہوئے۔ گروپ کی سب سے نمایاں کمپنی اڈانی انٹرپرائزز میں بھی آج مسلسل دوسرے دن کمی آئی۔ دوپہر ڈیڑھ بجے تک اس کا اسٹاک ۱۹ فیصد سے زیادہ گر گیا۔ ایک دن پہلے یعنی بدھ کو اس کے حصص میں ۲۸ فیصد سے زیادہ کی کمی واقع ہوئی۔ہنڈن برگ ریسرچ کی رپورٹ کے بعد اڈانی کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتوں میں زبردست گراوٹ آئی ہے اور اب تک گروپ کو ۹۰ ہزار ارب ڈالر کا نقصان ہوچکا ہے۔ فاربس ریل ٹائم بلینرس انڈیکس کے تازہ اعدادوشمار کے مطابق گوتم اڈانی کی کل مالیت کم ہوکر محض 64.7ارب ڈالر رہ گئی ہے ، اتنی مالیت کے ساتھ وہ دنیا کے ارب پتیوں کی لسٹ میں کھسک کر اب ۱۶ویں پائیدان پر آگئے ہیں۔ ادھر ڈانی گروپ نے اپنے ۲۰ ہزار کروڑ روپے کے ایف پی او یعنی فالو اپ پبلک آفر کو منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اڈانی انٹرپرائزز لمیٹڈ کے چیئرمین گوتم اڈانی نے کہا ہے کہ مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کو دیکھتے ہوئے کمپنی کے بورڈ نے ایف پی او کو منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ گوتم اڈانی نے کہا کہ کمپنی نے یہ فیصلہ اسٹاک مارکیٹ میں زبردست ہلچل اور مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کے پیش نظر سرمایہ کاروں کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایف پی او سے وصول کی گئی رقم سرمایہ کاروں کو واپس کر دیں گے اور اس سے متعلق لین دین بند کر دیں گے۔ادھر ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) نے تمام بینکوں سے پوچھا ہے کہ انہوں نے اڈانی گروپ میں کتنی رقم کی سرمایہ کاری کی ہے۔ نیوز پورٹل نو جیون انڈیا میں شائع خبر کے مطابق، آر بی آئی نے بینکوں سے کہا ہے کہ وہ اڈانی گروپ کی کمپنیوں، حکومت اور بینکنگ ذرائع کے لئے اپنے خطرات کی تفصیلات بتائیں۔رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ آر بی آئی پہلے سے ہی کچھ سرکردہ بینکوں کے ساتھ رابطے میں ہے جو اڈانی گروپ کو قرض دینے والے ہیں اور رسک پروفائل کی تصدیق کے لیے قرض دہندگان کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں۔دریں اثناء کریڈٹ سوئس کے بعد اب سٹی گروپ انکارپوریشن کی ویلتھ یونٹ نے اڈانی گروپ کی کمپنیوں کے بانڈز کے خلاف مارجن قرضوں پر پابندی لگا دی ہے۔ سٹی گروپ انکارپوریشن نے یہ قدم کریڈٹ سوئس کی پابندی کے بعد اٹھایا ہے۔ مارکیٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ سٹی گروپ کے اس فیصلے سے پہلے سے ہی پریشان اڈانی گروپ کی مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔سٹی گروپ نے کہا کہ حالیہ دنوں میں ہم نے اڈانی کی طرف سے جاری کردہ سکورٹیز (بانڈز) کی قیمتوں میں ڈرامائی کمی دیکھی ہے۔ بینک نے میمورنڈم میں کہا کہ اس نے ‘فیصلہ کیا ہے کہ اڈانی کے ذریعہ جاری کردہ تمام سیکیورٹیز کے خلاف قرض نہ دیا جائے۔ یعنی سٹی گروپ کا ویلتھ یونٹ صرف سیکیورٹیز کے عوض قرض نہیں دے گا۔ سٹی گروپ نے اس معاملے پر کوئی آفیشیل تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ وہیں آج پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں راجیہ سبھا اور لوک سبھا میں بھی ہنڈن برگ کی رپورٹ موضوغ بحث رہی، اور اڈانی معاملے کو لے کر ایوانوں میں زبردست ہنگامہ، شور شرابہ ہوا جس کے بعد کارروائی ملتوی کردی گئی۔ اطلاعات کے مطابق  لوک سبھا میں کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے ارکان نے جمعرات کو ایل آئی سی اور پبلک سیکٹر کے بینکوں میں عام لوگوں کے پیسہ ڈوبنے کے معاملے پر بحث کا مطالبہ کرتے ہوئے ہنگامہ کیا، جس کی وجہ سے لوک سبھا کی کارروائی دن بھر کے لیے ملتوی کر دی گئی۔