شیموگہ :۔ضلع انتظامیہ اور محکمہ پولیس کی جانب سے انسداد گائوکشی قانون کے مطابق کارروائی کرتے ہوئے پچھلے دنوں قصائی خانوں پر پابندی لگائی گئی تھی،جس کے بعد شیموگہ شہرمیں بڑے کے گوشت کی خریدوفروخت پر پابندی لگانے کیلئے اجتماعی طورپر قصائی خانوں نے فیصلہ لیاتھا،لیکن اس فیصلے کے بعد بھی شیموگہ وبھدراوتی کے مختلف علاقوں میں جانوروں کی چوری کی وارداتوں کی شکایتیں پولیس کو موصول ہورہی ہیں۔حدتو یہ ہے کہ بھدراوتی کے بی آرپی میں ایک گھر پر رکھی ہوئے بھینسوں کو کسی نے کاٹ کر وہاں سے گوشت لیکر ر فو چکر ہوئے ہیں۔منجوناتھ نامی شخص نے دودھ فروخت کرنے کیلئے چار بھینس اور آٹھ گائےپال رکھے تھے،مگر آج صبح کسی نے چار بھینسوں کو چُراکر گھرکے قریب موجود کھلےمیدان میں ہی بھینسوں کے سر ،پیر اور کھال چھوڑکر فرار ہوئے ہیں۔صبح جب منجوناتھ نے اپنے بھینسوں کی گمشدگی سے پریشان ہوکر تلاشی شروع کی تو اُسے اپنے گھرکے قریب ہی کھال، سر اور پیر دستیاب ہوئے ۔ منجوناتھ نے نامعلوم افرادکے خلاف شکایت تو درج کروائی ہے،لیکن سوال یہ ہے کہ آخرچوری کئے ہوئے جانوروں کا گوشت چور قصائی کسے فروخت کررہے ہیں ۔ اس سے پہلے بھی چور قصائیوں کی وجہ سے ہی پولیس نے سخت کارروائی کی تھی اور حالات اس قدر بدترہوئے کہ نیت کے ساتھ کاروبارکررہے قصائی خانوں پر بھی پابندی لگانے پڑی،ساتھ ہی ساتھ انسداد گائوکشی قانون کو بھی سخت کیاگیا۔عام طورپر مسلمان حلال گوشت کی تلاش میں نکلتے ہیں لیکن چوری کیاگیاگوشت کھلاکر کونسے حلال کا کام کررہے ہیں یہ بات چور قصائیوں کوسوچنے کی ضرورت ہے۔
