دہلی:۔شردھا والکر قتل کیس میں دہلی پولیس جنوری کے آخری ہفتے میں ملزم آفتاب پونا والاکے خلاف چارج شیٹ داخل کریگی۔ ذرائع کے مطابق پولیس نے تقریباً 3000 صفحات کی چارج شیٹ تیار کی ہے۔ اس میں 100 سے زائد گواہوں کے علاوہ فارنسک اور الیکٹرانک شواہد کو بنیاد بنایا گیا ہے۔چھتر پور کے جنگل سے برآمد شدہ ہڈیاں اور ڈی این اے رپورٹ کو بھی چارج شیٹ میں شامل کیا گیا ہے۔ پولیس نے کہا تھا کہ جنگل سے برآمد کیے گئے بالوں اور ہڈیوں کے نمونے شردھا کے نمونوں سے میل کھاتے ہیں۔جنوبی ضلع کے پولیس کمشنر چندن چودھری نے بتایا کہ ان کے پاس آفتاب کو سزا دینے کے لیے کافی ثبوت ہیں۔ جلد ہی ساکیت کورٹ میں چارج شیٹ داخل کی جائے گی۔واضح ہو کہ ملزم آفتاب نے گزشتہ سال 18 مئی کو دہلی کے چھتر پور علاقے میں شردھا کا گلا دبا کر بے رحمی سے قتل کر دیا تھا۔ اس کے بعد اس کے جسم کے 35 ٹکڑے کر دیے گئے۔ پولیس افسروں کا ماننا ہے کہ آفتاب نے جس طریقہ سے قتل کیا، لاش کے کئی ٹکڑے کئے، انہیں فرج میں رکھا اور کئی دنوں تک ان ٹکروں کو دہلی کے کئی حصوں میں پھینک کر ٹھکانے لگایا، اس درمیان آفتاب ممبئی اپنے گھر گیا اور اس نے پرانا گھر بدل لیا ۔وہیں قتل کے بعد اس نے ایک نئی گرل فرینڈ بنائی اور اس کو بھی اپنے اسی چھترپور والے فلیٹ پر گلایا، جہاں لاش رکھی ہوئی تھی ۔ ان سب کے درمیان کئی سوالات کے جواب کیلئے اس کا نارکو ٹیسٹ کرانا ہوگا اور اس ٹیسٹ کے بعد ہی پردہ فاش ہوسکے گا۔پولیس افسر نے بتایا کہ آفتاب بہت ہی شاطر ہے ۔ اس نے قتل کے بعد اپنے کپڑے اور شردھا کے کپڑوں کو تبادہ کردیا ، بلکہ فرش پر گرے خون کو بھی ایسڈ سے صاف کیا تھا ۔ ایسے مجرموں سے سچ نکلوانے کیلئے نارکو ٹیسٹ ہی ضروری ہوتا ہے ۔
