ترکی اور شام میں ہولناک زلزلے سے2300سے زائد ہلاکتیں

انٹرنیشنل نیوز سلائیڈر
ترکی کے10 شہروں میں تباہی ٭ پے درپے تین زلزلوں سے2818عمارتیں زمین بوس ٭ہر طرف چیخ و پکار٭شام میں 783افراد لقمہ ا جل٭ دونوں ممالک میں زخمیوں کی تعداد10 ہزار سے تجاوز٭ لبنان اور اسرائیل بھی لرزاُٹھا٭ ترک صدر نےکیا ملک بھر میں ایمرجنسی 
انقرہ؍ دمشق؍ تل ابیب؍ دہلی:۔ مشرق وسطی کے کئی ممالک میں پیر کی صبح زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے۔جس سے قیامت صضریٰ برپا ہوگئی، ہر طرف چیخ وپکار اور آہ وبکا سے آسمان لرز اُٹھا۔ اطلاعات کے مطابق ترکی ، شام ،لبان اور اسرائیل میں ۷ اعشاریہ ۸ کی شدت والے زلزلے نے کئی عمارتوں کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا ہے جس کے نتیجے میں اب تک2300سے زائد افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ ہلاکتوں میں اضافے کے خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں۔خبر کے مطابق ترکی میں سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں، یہاں1121جبکہ جنگ متاثرہ ملک شام میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد783ہو چکی ہے۔دونوں ممالک میں زخمیوں کی تعداد س ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ ترکی میں آدھے گھنٹے کے اندر پے درپے مسلسل زلزلے کے تین جھٹکے محسوس کیے گئے۔اور دن میں بھی ہندوستانی وقت کے مطابق ۱۲ بجے ایک جھٹکا محسوس کیاگیا ۔ ترکی شہر انقرہ، غازیاں ٹونپ، قہرامارس، ڈیربکر، مالٹیا، نوردگی شہر سمیت دس شہروں میں زبردست تباہی ہوئی ہے، یہاں 2818 سے زائد عمارتیں زمین بوس ہوگئی کئی افراد اب بھی ملبے کے اندر پھنسے ہوئے ہیں، راحت رسانی کا کام جنگی پیمانے پر کیاجارہا ہے۔ادھر ترک صدر رجب طیب اردوغان نے انقرہ میں محکمہ آفات و ہنگامی حالات AFAD کے انتظامی مرکز میں ترکیہ کے ضلع قاہرمان ماراش کی تحصیل پازارجک میں آنے والے اور ۱۰ اضلاع میں محسوس کئے گئے، زلزلے کا جائزہ لیا ہے۔اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب میں انہوں نے کہا ہے کہ پیر کی صبح چار بج کر17منٹ پر آنے والازلزلہ حالیہ ایک صدی میں1939میں ضلع ارزنجان  کے زلزلے کے بعد بڑا ترین زلزلہ تھا۔ زلزلے کے بعد، ہماری حکومت، اپنے تمام اداروں کے ساتھ، فعال ہو گئی ہے۔ ہمارے گورنر دفاتر اپنے اضلاع کے تمام امکانات کو حرکت میں لے آئے ہیں۔ فی الوقت9000 رضا کاروں کے ساتھ امدادی کاروائیاں جاری ہیں اور دیگر اضلاع سے زلزلہ زدہ علاقوں میں پہنچنے والے کارکنوں کے ساتھ رضاکاروں کی تعداد میں مستقل اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ زلزلے سے شدید متاثرہ اضلاع میں ملبے تلے دبے افراد کی نشاندہی اور امدادی کاروائیاں بلا تعطل جاری ہیں۔ اس وقت تک دوہزار470افراد کو ملبے سے نکالا جا چُکا ہے اور منہدم عمارتوں کی تعداد2818ہے۔صدر ایردوان نے کہا ہے کہ "بین الاقوامی امداد کے لئے ہمارے ملک سے رابطے قائم ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ ہمیں، نیٹو اور یورپی یونین کے ساتھ ساتھ45 ممالک سے امداد کی پیشکش کی گئی ہے”۔ترک نائب صدر فواد اُکتائی نے بتایا کہ زلزلے کے بعد غازیانتپ اور حاطے ایئر پورٹ پر سول پروازیں معطل کر دی گئی ہیں۔ ترکیہ میں710امکانات مکمل طور پر تباہ ہو گئے ہیں۔ ترک صدر رجب طیب اردوگان نے ملک بھر میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔زلزلے کے بعد بعض علاقوں میں سخت سردی نے بھی حالات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے اور زلزلے سے متاثرہ افراد کھلے آسمان کے نیچے گھنٹوں گزارنے پر مجبور ہو گئے۔ترک سرکای ٹی وی کے مطابق زلزلے سے دس صوبے متاثر ہوئے۔ترک حکام کے مطابق زلزلے کے زیادہ شدید جھٹکے ملک کے جنوب مشرقی حصے میں محسوس کیے گئے جہاں بڑے پیمانے پر نقصان ہوا ہے۔زلزلے کا مرکز ترکیہ کے جنوب میں واقع صوبے غازی انٹپ کا علاقہ نرداگی تھا جبکہ زلزلے کی گہرائی تقریباً 18کلومیٹر تھی۔جرمن ریسرچ سینٹر کی ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ریکٹر سکیل پر زلزلے کی شدت سات اعشاریہ آٹھ تھی جبکہ امریکی جیولوجیکل سروے (یو ایس جی ایس) کا کہنا ہے کہ شدت 8.7تھی۔امریکن جیولوجیکل سروے کا کہنا ہے کہ ’زلزلہ مقامی وقت کے مطابق صبح چار بج کر ۱۷منٹ پر آیا جو کہ عالمی معیاری وقت جی ایم ٹی کے مطابق رات تقریباً سوا ایک بجے کا وقت کا بنتا ہے۔زلزلے کے جھٹکے قبرص، یونان اور لبنان میں بھی محسوس کیے گئے۔ترک ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی کا کہنا ہے کہ زلزلے کی شدت سات اعشاریہ چار تھی جبکہ یو ایس جی ایس نے یہ بھی بتایا ہے کہ کچھ جھٹکے15منٹ بعد بھی محسوس کیے جن کی شدت چھ اعشاریہ سات تھی۔یروشلم اور بیروت کے انٹرنیٹ صارفین نے بھی سوشل میڈیا پر پوسٹوں میں بتایا کہ وہاں بھی شدید جھٹکے محسوس ہوئے اور انہی کی وجہ سے ان کی آنکھ کھلی۔صارف ناسپ نے لکھا کہ ’میں غازی انٹپ میں رہتا ہوں۔ میں سو رہا تھا جب جھٹکے لگنا شروع ہوئے جو بہت خوفناک تھے۔‘ایمی ڈی نارڈو نے لکھا کہ ’یروشلم میں بھی جھٹکے محسوس ہوئے۔‘ادھر تباہ حال ترکیہ اور شام کے لیے ہندوستان، ا مریکہ سمیت دنیا کے کئی ممالک نے جلد سے جلد راحتیں بھیجنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ وزیر اعظم مودی کے حکم پر ترکی کو فوراً امداد دینے کے معاملے پر وزیر اعظم کے چیف سکریٹری پی کے مشرا نے اہم میٹنگ طلب کی، میٹنگ میں طے ہوا کہ سرچ اور یسیکو نے مہم کے لیے این ڈی آر ایف او رمیڈیکل ٹیم ترکی بھیجی جائے گی، اس کے ساتھ ہی امدادی اشیا بھی روانہ کی جائے گی، این ڈی آر ایف کی دو ٹیموں میں ۱۰۰ جوان ہوں گے ان میں ڈاگ اسکوا ڈ بھی شامل ہے، اس کے علاوہ یہ ٹیمیں ضروری چیزیں بھی اپنے ساتھ لے جائیں گی، میڈیکل ٹیم میں ڈاکٹر، اور دیگر اسٹاف اور ضروری دوائیں ہوں گی۔  امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے کہا ہے کہ امریکہ ترکیہ میں آنے والے زلزلے کے حوالے سے تمام ضروری مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم تمام ضروری مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں۔ صدرجو بائیڈن نے امریکی ایجنسی برائے بین الاقوامی ترقی (USAID) اور دیگر وفاقی حکومت کے شراکت داروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ زلزلے سے سب سے زیادہ متاثر علاقوں کے لوگوں کی فوری امداد کریں۔بحران کے انتظام اور انسانی امداد کے ذمہ دار یورپی یونین کمیشن کے رکن ہینز لینارک نے سوشل میڈیا پر اس موضوع  پر بیان د یتے ہوئے کہا کہ زلزلے کے بعد، یورپی یونین کے شہری تحفظ کے  ادارے نے  ترکیہ کے لیے اپنی  امداد کو تیز کردیا  ہے۔انہوں نے کہا کہ  EU ایمرجنسی رسپانس کوآرڈینیشن سینٹر پورے یورپ سے امدادی ٹیموں کی روانگی کو مربوط کرتا ہے، Lenarcic نے کہا، "اس وقت نیدرلینڈز اور رومانیہ کی ریسکیو  ٹیمیں علاقے پہنچنے والی ہیں۔نیٹو کے سیکرٹری جنرل ہینز اسٹولٹن برگ نے کہا کہ  قہارامان ماراش  مرکز میں آنے والے زلزلے کے بعد، اتحادی ترکیہ  کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے امداد کو زیادہ  فعال طریقے  سے پہنچا رہے ہیں۔شمالی قبرصی ترک  جمہوریہ کے وزیر اعظم اونال اوستل نے کہا ہے کہ30افراد پر مشتمل سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم، 8 گاڑیوں کے ذریعے ترکیہ روانہ کردی گئی ہیں ۔روس کی ہنگامی صورتحال کی وزارت نے اطلاع دی ہے کہ زلزلے کے باعث دو Il-76 طیارے اور ۱۰۰افراد پر مشتمل سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم ترکیہ روانگی کے لیے تیار ہے ۔ اسرائیلی وزیر خارجہ ایلی کوہن نے کہا کہ انہیں   قہارامان ماراش  میں آنے والے زلزلے پر  شدید افسوس ہے  اور انہوں نے  اپنی وزارت کو ہنگامی امدادی پروگرام تیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسرائیلی وزیر دفاع یوز گیلنٹ نے بھی اسرائیلی فوج اور وزارت کے اداروں کو انسانی امداد فراہم کرنے کی ہدایات کی ہیں۔یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی نے کہا کہ زلزلے کے بعد یوکرین دوست ترک عوام کو ضروری مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔