کیرےبلچی:۔چنگیری تعلقہ کے قصبہ کیرےبلچی میں پری میٹرک لڑکیوں کے ہاسٹل طلباء نے باورچی کے ذریعہ ہراسانی پر ہاسٹل کے سامنے احتجاج کیا،سماجی بہبودی ِاطفال کے ماتحت چلنے والے ہاسٹل میں اپنے قیام سے اب تک چارٹ کے تحت ایک دن بھی ٹھیک سے کھانے کا انتظام نہیں روز ہاسٹل میں بننے والا کھانا میعاری نہیں ہوتا ،اس بات کی شکایت باورچی سورنمہ سے کرتے ہوئے اگر میعاری کھانہ بناے کی درخواست کی جائے تو طلباء سے بدسلوکی اور اور مارپیٹ تک کی جاتی ہے بدلحاذالفاظ سے گالی گلوج طلباء روز برداشت کرتے ہوئے تنگ آچکے ہیں ،ہاسٹل طلباء میں حُسنہ بانو ،عائشہ ، مسکان اور رضیہ وغیرہ نے مین باورچی سورنمہ کے خلاف اپنے غصہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ،ہاسٹل سُپر وائزر کُسُمہ ہفتہ میں تین چار مرتبہ ہاسٹل آتی ہے،مگر کبھی بھی طلباء کی خیریت دریافت نہیں کرپاتی ،ہاسٹل کی پوری ذمہ داری مین باورچی سورنمہ کے سُپرد کرتے ہوئےغیر ذمہ دارانہ انداز اختیار کئے ہوئے ہےسُپر وائزر کُسُمہ کی لاپرواہی کا نتیجہ میں اس طرح کے واقعات ہوتے رہتے ہیں ،مقامی افراد نے کُسُمہ کی لاپرواہی پر برہمی کا ظہار کیا ،ایک طالبہ نے روتے ہوئے کہا سوشیل میڈیا پر وائرل ہوئے ویڈیوز کی وجہ ناراضگی سے والدین اپنے بچوں کو ہاسٹل میں نہ رکھنے کے فیصلہ کے ساتھ گھر سے ہی روز اسکول آنے جانے والدین اپنے بچون کو کہہ پر مجبور ہیں طلباء کے والدین میں اقبال اور عمران نے کہا کہ دکھی طلباء کی حمایت کے لئے حکومت اقدام کرتے ہوئے فوری سورنمہ کو ذمہ داری سے معطل کرے ،اس موقع پرسابق نائب صدر اے پی یم سی چنگری وجئے کمار دوڈگٹہ ،گرام پنچایت رکن سویتمہ ،گرام پنچایت ممبر ہنے باگی محمد اسلم ،افسر ،رحمت اُللہ ،وغیرہ شریک رہے ۔ہاسٹل طلباء پر ہراسانی کی ویڈیوز سوشیل میڈیا پر وائرل کا معاملہ کی اطلاع پانے کے بعد سماجی بہبودی اطفال کے تعلق افسر ڈاکٹر منجوناتھ اور سنتے بنور پولس سب انسپیکٹر دیوراج ہاسٹل پہنچ کر سُپر وائزر اور باورچی اور پورے عملہ سے تحقیقات کی تقریبا 32 طلباء سے جانچ پڑتال کرنے کے بعد اخباری نمایندوں سے سماجی بہبودی اطفال کے تعلق افسر ڈاکٹر منجوناتھ اور پی یس آئی دیوراج نے اس بات کی جانکاری دی کہ طلباء کی جانب سے الزام میں سچائی پائی گئی ہے،مین باورچی سورنمہ اور نازیہ دونوں کو ذمہ داری سے معطل کرنے اور اِن کی جگہ پر دوسروں کونامزد کرنے اعلیٰ افسران سے گذارش کی گئی ،اس پر طلباءکے والدین نےکہا کہ” بیل کو بخار تو بھینس کو داغنا کیساء” یہ تو انصاف کے برخلاف ہے ،ہاسٹل طلباء کے ساتھ زیادتی سورنمہ کرے اور سزاء نازیہ کو جبکہ معاؤن باورچی نازیہ ہاسٹل کے بچوں کو اپنے بچوں کی طرح دیکھتی ہاسٹل طلباء کےوالدین نے مطالبہ کیا کہ سزاء اُسی کو ہو جس نے طلباء کو ہراساں کیا اور نازیہ کو بحال رکھا جائے۔
