بھٹکل : کٹر ہندوتوا لابی کی سخت مخالفت اور بدعنوانی کے الزامات کے باوجود سنیل نائک کو بی جے پی نے دیا ٹکٹ

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر
بھٹکل:۔ اسمبلی الیکشن کے دن قریب آتے ہی بھٹکل – ہوناور حلقہ سے بی جے پی رکن اسمبلی سنیل نائک کے خلاف  کٹر ہندوتوا لابی کے ایک دھڑے نے جس طرح مخالفانہ لام بندی شروع کی تھی اور بدعنوانی کے ذریعہ کروڑوں روپے  سرکاری فنڈ کو اپنے ذاتی ریسارٹ پر خرچ کرنے کا دھماکہ خیز الزام لگاتے ہوئے سنیل کے خلاف جو اینٹی پروپگنڈا چلایا جا رہا تھا وہ سب ڈھیر ہو کر رہ گیا اور سنیل نائک کو امیدوار کے طور پر دوبارہ ٹکٹ حاصل کرنے میں آخرکار کامیابی مل ہی گئی ۔ حالانکہ پارٹی کی طرف سے پہلی فہرست جاری ہونے کے  ذرا پہلے تک سیاسی گلیاروں میں یہ بات تقریباً یقینی سمجھی جا رہی تھی کہ اس مرتبہ سنیل نائک کی جگہ گووندا نائک کو بی جے پی اپنا امیدوار بنائے گی ۔ خیال رہے کہ گزشتہ مرتبہ بھی گووندا نائک کا نام ٹکٹ کے ایک مضبوط دعویدار کے طور پر سنا جا رہا تھا مگر اچانک سنیل نائک کا چہرا ابھرا اور حیرت انگیز طور پر اس نے بازی ماری  تھی جس پر کٹر سنگھی ذہنیت اور کردار کے مالک گووندا اور اس کے حامیوں کی  تلملاہٹ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں تھی ۔ اس مرتبہ چونکہ گووندا کے حامیوں اور سری رام سینا کی سوچ والے گروہ نے سنیل نائک کے خلاف باقاعدہ مخالفانہ محاذ سنبھال لیا تھا اور بڑے گھمبیر الزامات لگائے جا رہے تھے  اس لئے سیاسی صورتحال پر نظر رکھنے والوں کے علاوہ تقریباً پورا الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا یہ سمجھ رہا تھا کہ بی جے پی  کی طرف سے سنیل کو ہٹانا اور گووندا کو میدان میں اتارنا یقینی ہے ۔ لیکن سب اٹکلیں دھری کی دھری رہ گئیں اور گووندا نائک کو اس مرتبہ بھی ہاتھ ملتے رہ جانے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہا ۔ یاد رہے کہ گزشتہ مرتبہ الیکشن میں پریش میستا کی موت کا سہارا ملنے کے باوجود سنیل نائک نے اپنے قریبی حریف منکال وئیدیا  کو محض 5630 ووٹوں سے شکست دی تھی ۔ یعنی دونوں کے درمیان کانٹے کی ٹکر ہوئی تھی ۔ مگر موجودہ صورتحال اس سے کچھ مختلف ہے ۔ فی الحال سنیل یا بی جے پی کی مدد کرنے کے لئے  پریش میستا جیسا کوئی معاملہ بھی نہیں ہے ۔ اس کے لئے اندرونی مخالفت بھی کافی سخت دکھائی دے رہی ہے  اور سامنے پھر ایک بار کڑی ٹکر دینے کے لئے منکال وئیدیا کانگریس امیدوار کے طور پر موجود ہے ۔ جنتا دل ایس سے ایڈوکیٹ ناگیندرا نائک کا نام گرچہ نئے کھلاڑی کے  طور پر سامنے آیا ہے ، لیکن ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ اور سنیل نائک  کی ہی طرح نامدھاری امیدوار ہونے کی وجہ سے وہ کھیل بدلنے والا عنصر بن سکتا ہے ۔ اب یہ مقابلہ تکونا ہوگا یا پھر چو طرفہ ہوگا اس کا سارا دارومدار مسلمانوں کے اس اجتماعی موقف پر ہے کہ وہ  کس غیر بی جے پی سیاسی امیدوار کی  حمایت کا  اعلان کرتے ہیں یا عآپ یا ایس ڈی پی آئی جیسی پارٹی کے مسلم امیدوار کے حق میں فیصلہ ہوتا ہے یاپھر کسی آزاد مسلم امیدوار کے سامنے آنے پر اس کی اجتماعی حمایت کا اعلان ہوتا ہے۔لہٰذا ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ قطعی طور پر راست یا تکونی ٹکر کس کے درمیان ہونے جا رہی ہے ۔