بنگلورو:۔کے پی سی سی کے صدر ڈی کے شیوکمار نے کہا کہ رکن پارلیمان ڈی کے سریش ریاستی سیاست میں نہیں آ رہے ہیں، سریش سمیت کوئی بھی فردمیرے کنبہ کا ریاستی سیاست میں نہیں آ رہا ہے۔شیوکمار نے مدور میں کہاکہ وہ کے پی سی سی کے زیر اہتمام پرجادھوانی وودھیا پروگرام کے بعد صحافیوں سے بات کر تے ہوئے انہوں نے کہاکہ پہلے ہی ڈی کے سریش لوک سبھا کے رکن ہونے کی وجہ سے اگلے اسمبلی انتخابات میں انہیں میدان میں اتارنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔شیوکمارنے واضح کر دیا کہ میرے علاوہ ڈی کے سریش اور ہمارے خاندان سے کوئی بھی ریاستی سیاست میں نہیں آئے گا۔ہمیں سابق وزیر اعلیٰ کمار سوامی کو رام نگر میں باندھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ سیاست کرنی چاہیے۔ لیکن انہیں کیوں باندھاجائے؟ہم نے کمارسوامی کی پنج رتن یاترا کو نہیں روکا۔ کانگریس کے میکے داٹومنصوبے کو روکنے کی بی جے پی کی چال ناکام ہوگئی۔انہوں نے طنز کیا کہ راہل گاندھی کی زیرقیادت شروع کی گئی بھارت جوڑو یاترا کو روکنے کی بی جے پی کی کوششیں بیکار گئیں۔کاویری طاس کے لوگوں کو پانی کا انصاف فراہم کرنے کے مقصد سے کانگریس نے میکے داٹو یوجنا کے نفاذ کے لیے مارچ کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس کے علاوہ ہمارا کوئی اور مذموم ارادہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر رکن پارلیمنٹ سمالتا سمیت کوئی لیڈر کانگریس میں شامل ہونا چاہتا ہے تو ہمیں اپنی پارٹی کے ضوابط کے مطابق پارٹی میں شامل ہونے میں کوئی اعتراض نہیں ہے۔گزشتہ لوک سبھا انتخابات کے دوران ڈی کے شیوکمارکی مداخلت سے ایم پی سمالتا کانگریس ٹکٹ سے محروم ہوئے، اس الزام پر جوابی حملہ کرتے ہوئے شیوکمار نے کہاکہ میں مخلوط حکومت کے دوران کمار سوامی کی حمایت میں وزیر تھا۔ اگرچہ منڈیا میں جے ڈی ایس کے سات ایم ایل اے تھے، میں نے نکھل کمارسوامی کو لوک سبھا انتخابات میں کاغذات نامزدگی داخل کرنے کیلئے آشیرواد دیا۔ اس طرح یہ سچ ہے کہ سمالتا نے کمار سوامی سے کہا کہ وہ انہیں دھوکہ دہی کے بغیر الیکشن میں کسی اور حلقے سے لڑنے کی اجازت دیں۔
