کرناٹک قرضوں کے جال میں پھنستا جارہاہے،آمدنی اٹھنی خرچہ روپیہ!

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر نمایاں
بنگلورو:۔کرناٹک کی حکومت نے سال24-2023 کیلئے09.3لاکھ کروڑروپیوں کا بجٹ پیش کیاہے،اس بجٹ کو پیش کرتے ہوئے حکومت نے عوام کو متوجہ ضرورکیاہے،لیکن حقیقت یہ ہے کہ ریاست کے پاس آمدنی کم خرچہ زیادہ ہے۔اسی وجہ سے اس وقت حکومت نے4 لاکھ کروڑ روپیوں سے زیادہ قرضہ کیاہے۔جمعہ کو ریاستی حکومت نے سال24-2023 کا بجٹ پیش کیا ہے،جس میں اندازاً77750 کروڑ روپیوں کا قرضہ لینے کی بات کہی گئی ہے۔اس طرح سے آنےوالے اقتصادی سال کے آخر تک ریاستی حکومت کا قرضہ 64.5لاکھ کروڑ روپئے ہوجائیگا۔ایکنامک ریسپانسیبلٹی ایکٹ کے تحت قرضہ کا جملہ جی ایس ڈی پی( گراس اسٹیٹ ڈومیوسٹک پروڈکٹ)سے25 فیصد تک ہی ہونا چاہیے،تمام حکومتیں اسی حدمیں قرضہ لینے کیلئے مجبورہیں۔اگلے اقتصادی سال میں77750کروڑ روپیوں کا قرضہ لیاجائے ،تب بھی ریاست جی ایس ڈی پی کی مقررکردہ حدکے2.24 فیصد ہی قرض دار رہنے کی بات وزیر اعلیٰ بومئی کررہے ہیں۔ریاست میں ہر سال قرضہ کی شرح بڑھتی جارہی ہے۔دس سالوں کی مدت میں ریاست کا قرضہ چارلاکھ کروڑسے زیادہ ہوچکا ہے ۔ سال13-2012 میں قرضہ کی شرح118155لاکھ کروڑ روپئےتھا،اس کےبعد سال17-2016 میں قرضہ بڑھ کر211331لاکھ کروڑ روپئے ہوا ، سا ل 20-2019 میں قرض کی شرح بڑھ کر337520لاکھ کروڑ روپئے ہوچکی ہے ، سال 21-2020 میں403520 لاکھ کروڑ روپئے کاقرضہ کرناٹک پر واجب الادا قرار دیاگیا،اس کے بعد کوویڈکے دوران اقتصادی حالت کمزور ہوئی جس کی وجہ سے کرناٹک نے سال23-2022 میں کرناٹک نے 518366 لاکھ کروڑ روپئے کا افزودقرضہ حاصل کیا تھا،مگر سال24-2023 میں یہ قرضہ بڑھ کر 564896 لاکھ کروڑ روپئے ہوچکاہے۔ا س سے یہ بات سامنے آرہی ہے کہ ریاست قرض داری کے بوجھ سے دبتی جارہی ہے۔