کسانوں کی فلاح وبہبودی کیلئے حکومت کو مناسب اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے:سراج احمد

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر
چنگیری:۔ کسان روزبروز کسی نا کسی مشکل کاشکار ہوتے ہوئے کولو کے بیل کی طرح پسا جارہا ہے پچھلے سال مکئی جاری کی فصل کو قیمت نا ملی، بعدازاں گرمی کے دنوں میں آم نے ہاتھ چھوڑا جو کچھ آم کی فصل ہوئی وہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے معقول قیمتیں نہ ملنے کی وجہ سے کسانوں کو کافی پریشانیوں کا سامنا کرناپڑاہے۔اب دھان کی کٹائی کا وقت ہے ،دھان کی فروخت کیلئے مارکیٹ انتظامیہ کسانوں کو معقول قیمتیں ادا کرنے کیلئے تیار نہیں ہےجس سے کسان بہت ساری مشکلات میں پھنس چکے ہیں۔اس بات کاافسوس سابق ضلع وقف نائب چیرمن ۔کنڑا ساہتیہ پریشد ضلع کنوینر ،چنگیری تعلق ورکنگ جرنلسٹ اسوسیشن کے اعزازی صدر و دوابیج اور کھاد کے معروف کاروباری سنتے بنور کے سراج احمد نے کیا ہے ۔ انہوںنے اس تعلق سے اخباری بیان جاری کرتے ہوئے کہاکہ مزدورں کی قلت،دھان اور چاول کی معقول قیمت نہ ملنے کی وجہ سےرائس مل مالکان اورسرمایہ دار کافی نقصان سے دوچار ہوتے جارہےہیں ۔ ریاست میں اگائی جارہی دھان کو خریدنے کے بجائے حکومت بیرونی ریاستوں سے چاولوں کی خریداری کررہی ہے،جس سے ریاست کے کسانوں کا بُرا حال ہورہا ہے اور یہاں کسانوں کاکوئی پُرسان حال نہیں ہے۔ آزادی کے بعد سے ہی "غریبی ہٹاؤ” کے نعرہ کی طرح کسانوں کا حال ہواہے ۔ دھان کی قیمت پچھلے سال کی بہ نسبت فی کنٹال پانچ سو سے سات سو روپئے کم ہوئی جس سے کسان کی زندگی مشکل ترین ہوتی جارہی ہے ۔ لہٰذا حکومت کو چاہیے کہ کسانوں کی فلاح وبہبودی کیلئے مناسب اقدامات اٹھائے۔