داونگیرے :۔جنتادل یس ریاستی سکریٹری ٹی اضغر نے اپنے ایک اخباری بیان کے ذریعہ ملک میں چھوٹی چھوٹی سیاسی پارٹیوں کو اس جانب توجہ دلائی ہے کہ مہاراشٹر ا مراٹھا سماج کے سپرم لیڈر ہندوؤں کا دل جن کو سمجھا جاتا بالاصاحب ٹھاکرے کی جہدِ مسلسل سے قائم شیوسینا پارٹی میں اختلافات کو ہوا دے کراُن کے فرزند اُدے ٹھاکرے کو وزیر اعلیٰ کی کرسی سے اُتا ر کر اُن کی ہی پارٹی کے ایکناتھ شنڈے کو وزیر اعلیٰ بناکر پارٹی نشان کو بھی اُسی گروپ کے حوالے کیا جانا ملک میں موجود چھوٹی چھوٹی سیاسی پارٹیوں کے لئے خطرےکی گھنٹی سمجھنا چاہیئے،آنجہانی بالاصاحب ٹھاکرے نے مہاراشٹرا میں مراٹھی زبان والوں کے حق میں ملک کے حق میں مختلف موقعوںپر پُرزور احتجاجوں کے ذریعہ کے اپنی پہچان بنائی ہوئی اور اُن کے فرزند غیور ادے ٹھاکرے نے بی جی پی سے ہاتھ نا ملایا اور اپنے باپ کی غیرت کا سودہ نا کیا اس کی سزا کے طور پر اُنہے وزیر اعلیٰ کی کپرسی سے اُتار کر ان کی ہی پارٹی کے ایکناتھ شنڈے کو وزیراعلیٰ بنایا جانا اور شیو سینا پارٹی کے نشان کو ایکناتھ شنڈے گروپ کے حوالے کئے جانے میں بھاچپا کی سازشوں سے انکار نہیں کیا سکتا ،مگرملک کی تماچھوٹی چھوٹی سیاسی پارٹیوں کو اس سے سبق لیتے ہوئے اپنی صفوں کو سیدھا کرلینا ضروری ہے ورنہ جمہوریت مخالف دستورِ ہند کی دشمن بھاچپا کسی بھی وقت صفوں میں انتشار پید اکرتے ہوئے سیاسی پارٹیوں کو توڑنے کی کوشش کرسکتی ہے،ریاست کرناٹک میں بالاصاحب ٹھاکرے کے حامی ومراٹھا سماج عنقریب منعقد ہونے عام اسمبلی انتخابات میں ضرور اس کا حساب لین گےاور بھاچپا کو اس کی کرداوں کی سزاء ضرور ملے گی۔
