شیموگہ:۔میراتعلق بی جےپی سے ضرورہے،لیکن میں وقف بورڈکے قوانین کے ماتحت رہ کر اوقافی اداروں کیلئے کام کررہاہوں۔اس بات کااظہار شیموگہ ضلع وقف مشاورتی کمیٹی کے صدر محمد شفیع اُللہ نے کیا ہے۔انہوں نے آج روزنامہ سے خصوصی بات کرتے ہوئے کہاکہ شیموگہ ضلع وقف بورڈکے ماتحت قریب36 کمیٹیوں کی تشکیل ہونا باقی ہے،پہلے مرحلے میں بڑے اوقافی اداروں کی کمیٹیاں تشکیل دی جارہی ہیں۔شیموگہ شہرکی مرکزی سُنی جامع مسجد،حضرت سید شاہ علیم دیوان درگاہ کمیٹی،تیرتھ ہلی جامع مسجد،بھدراوتی کی یقین شاہ کالونی کی درگاہ کی کمیٹی کی تشکیل کا سلسلہ جاری ہے،بقیہ کمیٹیوں کی تشکیل جلدہوگی،اس کے علاوہ شیموگہ ضلع کے اوقافی اداروں پر جو غیر قانونی قبضہ ہے اُسے ہٹانے کیلئے ڈپٹی کمشنرکی صدارت میں جلدہی خصوصی بیٹھک ہورہی ہے،اس کے بعد فیصلے لئے جائینگے۔مزید انہوں نے بتایاکہ ریاست کے موجودہ وقف بورڈ چیرمین مولاناشفیع سعدی اوقافی اداروں کے تحفظ کو لیکر بڑے پیمانے پر سنجیدگی کے ساتھ کام کررہے ہیں،ہم اُن کی نگرانی میں ضلع کے اوقافی اداروں کے تحفظ وبقاء کیلئے بھی کام کرینگے۔مزید انہوں نے بتایاکہ شیموگہ کے اوقافی اداروں کی ترقی کیلئے مقامی عمائدین اور ذمہ داروں کے ساتھ تبادلہ خیال کیاجارہاہے اور مفید مشوروں سے اب تک کام ہواہے۔ہم نے ریاستی حکومت سے10 ایکر زمین برائے جدید قبرستان کیلئے درخواست دی ہے،جس کیلئے کوششیں جاری ہیں،ممکن ہے کہ ہمارایہ مطالبہ جلدپوراہوگا۔موجودہ سُنی مرکزی قبرستان میں تدفین کیلئے بالکل بھی جگہ نہیں ہے،اس وجہ سے مسلمانوں کو مشکلات کا سامنا کرناپڑرہاہے۔آٹو کامپلکس قبرستان کا مسئلہ بھی پیچیدہ ہے،اُسے مناسب وقت میں حل کیاجائیگااور ضلع میں جہاں کہیں بھی قبرستانوں کیلئے جگہ درکارہے وہاں پربھی قبرستانوں کیلئے جگہ مہیاکرنے کیلئے ڈپٹی کمشنر اور مقامی اراکین اسمبلی سے رجوع کیاجائیگا۔اس دوران انہوں نے نگر دروازہ قبرستان کی کمیٹی کی تشکیل کے سلسلے میں کہاکہ ہم نے وہاں جنرل باڈی میٹنگ طلب کی تھی،لیکن تکنیکی خامیوں کی وجہ سے فی الوقت اُس کام کو روک دیاگیاہے،اس کے علاوہ نوراحمد تعلیم خانہ کی املاک کو بچانے کیلئے اب تک اٹھائے گئے اقدامات کا جائزہ لینے کے بعد اُسے صحیح طریقے سے عدالت میں پیش کرنے کیلئے ریاستی وقف بورڈکے قانونی ٹیم کے ساتھ بات کی جائیگی۔انہوں نے بتایاکہ میں بی جے پی میں ضرورہوں،لیکن یہاں پر وقف بورڈکے چیرمین کے طورپر کام کررہاہوں اور میرا کام صرف اوقافی اداروں کی فلاح وبہبودی تک محدودہے۔میں اپنے کام کوصحیح طریقےسے پیش کروں ،اس کیلئے عوام اپنے مفید مشوروں سے نواز سکتی ہے۔
