ریاست سےسالانہ50.4لاکھ کروڑ روپئے مرکزی حکومت لوٹ رہی ہے:سدرامیا

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر
بلگام:۔کرناٹک سے ہرسال مرکزی حکومت50.4لاکھ کروڑ روپئے جی ایس ٹی کی شکل میں لوٹ رہی ہے،جس میں سے37500کروڑروپئےٹیکس کے حصے کی شکل میں اور13 ہزار کروڑ روپئےامدادکی شکل میں کرناٹک کو واپس لوٹائے جارہے ہیں،لیکن کرناٹک کی حکومت مرکز سے اس تعلق سے سوال کرنے سے قاصرہے۔اس بات کااظہار سابق وزیر اعلیٰ سدرامیانے کیاہے۔انہوں نے کرناٹک کے بیلگائوی کے دیہی اسمبلی حلقے میں منعقدہ عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ جب سے نریندرمودی وزیر اعظم بنے ہیں،اُس وقت سے کرناٹک کو جو امدادملنی ہے وہ کم ہوچکی ہے،اگلے سال کرناٹک کی حکومت77750 کروڑ روپئے کا قرض کرنےوالی ہے۔ریاست میں بی جے پی کے آنےکے بعد3 لاکھ22 ہزار کروڑ روپئے کا قرض ہواہے،ریاست کے ہر فردپر78 ہزار روپئے کاقرضہ ہے،ریاست کی عوام پر قرض کا بوجھ ڈالاجارہاہے،اس وقت ریاست دیوالیہ ہوچکی ہے۔مزیدانہوں نے کہاکہ گیس سلنڈروں کی قیمتوں میں پھر سے 50 روپئے کااضافہ کیاگیاہے،من موہن سنگھ کی دورِ حکومت میں گیس کی قیمت414 روپئے تھی،آج یہ قیمت1200 روپئے ہوچکی ہے۔بیلگائوی کو آنےوالےوزیر اعظم مودی نے کہاکہ ہم نے کسانوں کو6000 روپئے دئیے ہیں،مودی ایک طرف سے 6000روپئے دے رہے ہیں تو دوسری طرف سے12000 ہزار روپئےہر فرد سے لے رہے ہیں۔دہی،دودھ،پین پینسل پر جی ایس ٹی ڈال کرعام لوگوں کاخون چوساجارہاہے۔مزید انہوں نے کہاکہ ہم نے ریاست کی عوام سے تین وعدے کئے ہیں،جس میں ہر غریب کو10 کلو چاول،ریاست کے ہر گھرکو200 یونٹ مفت بجلی،گھر کے ہر بزرگ کو ماہانہ2 ہزار روپئے دئیے جائینگے۔ریاست کی عوام امن وسکون سے رہے،بھائی چارگی عام ہو،یہی کانگریس کا اہم مقصدہے۔