دہلی:۔سپریم کورٹ مفرور کاروباری وجے مالیا کی درخواست کو خارج کر دیا جس میں ممبئی کی ایک عدالت میں اسے مفرور اقتصادی مجرم قرار دینے اور ان کی جائیدادوں کو ضبط کرنے کی کارروائی کو چیلنج کیا گیا۔ سپریم کورٹ مالیا کے وکیل کی جانب سے مقدمہ چلانے کی درخواست کو خارج کر دیا۔ مالیا کی نمائندگی کرنے والے وکیل نے کہا کہ انہیں اس معاملے میں درخواست گزار کی طرف سے کوئی ہدایات نہیں مل رہی ہیں۔جسٹس ابھے ایس اوکا اور راجیش بندل کی بنچ نے کہا کہ درخواست گزار کے وکیل کا کہنا ہے کہ درخواست گزار، درخواست گزار کے وکیل کو کوئی ہدایات نہیں دے رہا ہے۔ اس بیان کے پیش نظر درخواست کو غیر قانونی کارروائی کے لیے خارج کر دیا جاتا ہے۔ سپریم کورٹ نے ممبئی میں منی لانڈرنگ کی روک تھام کے ایک خصوصی عدالت (پی ایم ایل اے) کے سامنے تحقیقاتی ایجنسی کی درخواست پر کارروائی روکنے سے انکار کر دیا تھا۔ مفرور اقتصادی مجرموں کے قانون 2018 کے تحت اسے ’مفرور‘ کہا گیا۔ سابق میں سپریم کورٹ نے 7 دسمبر 2018 کو مالیا کی درخواست پر انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کو نوٹس جاری کیا تھا۔پابچ جنوری 2019 کو ممبئی کی خصوصی عدالت نے مالیا کو ایکٹ کے تحت مفرور (fugitive) قرار دیا تھا۔ ایکٹ کی دفعات کے تحت ایک بار جب کسی شخص کو مفرور معاشی مجرم قرار دیا جاتا ہے، تو استغاثہ ایجنسی کو اس کی جائیداد ضبط کرنے کا اختیار حاصل ہوتا ہے۔ مالیا مارچ 2016 میں برطانیہ فرار ہو گیا تھا۔اب بھی وہ ہندوستان میں 9000 کروڑ روپے کے ڈیفالٹ کے معاملے میں مطلوب ہے جو کنگ فشر ایئر لائنز (KFA) کو کئی بینکوں نے قرض دیا تھا۔مالیا نے 2018 میں بامبے ہائی کورٹ کے حکم کو چیلنج کرتے ہوئے سپریم کورٹ کا رخ کیا تھا جس نے نئے قانون کے تحت انہیں مفرور اقتصادی مجرم قرار دینے کی ای ڈی کی درخواست پر ممبئی کی خصوصی پی ایم ایل اے عدالت کے سامنے کارروائی پر روک لگانے کی درخواست کو مسترد کر دیا تھا۔
