بنگلور:۔کرناٹک میں اسمبلی انتخابات کو لے کر سیاسی سرگرمی بڑھ گئی ہے۔ الیکشن کمیشن کی ایک ٹیم انتخابات کی تیاریوں کا جائزہ لینے کے لیے جمعرات (9 مارچ) کو کرناٹک پہنچی۔ پی ایم مودی بھی لگاتار کرناٹک کا دورہ کر رہے ہیں۔ اسی سلسلے میں وزیر اعظم 12 مارچ کو ایک بار پھر ریاست پہنچنے والے ہیں۔ وہیں کانگریس نے بھی ٹکٹ کی تقسیم کو لے کر بڑا دعویٰ کیا ہے۔ خیال رہے کہ انتخابی ریاست کرناٹک میں حکمراں بی جے پی واپسی کی پوری کوشش کر رہی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی 12 مارچ کو کرناٹک کے دورے پر ہوں گے۔ اس سال وزیر اعظم چھٹویں بار کرناٹک کا دورہ کریں گے۔ کچھ دن پہلے مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ بھی کرناٹک کے دورے پر تھے۔ وزیر اعظم بنگلورو- میسور ایکسپریس وے کوملک کے نام وقف کرنے منڈیا ضلع پہنچیں گے ۔ وزیراعظم اپنے دورے کے دوران روڈ شو کریں گے۔ اس کے ساتھ ہی وزیراعظم ترقی سے متعلق منصوبے کا افتتاح بھی کریں گے۔ بی جے پی کے قومی صدر جے پی نڈا بھی ریاست کا دورہ کر رہے ہیں۔ نڈا جمعرات (9 مارچ) کی شام بنگلور پہنچے۔ جہاں انہوں نے جلسہ عام سے خطاب کیا۔ نڈا پارٹی کی وجے سنکلپ یاترا کے تحت منعقد ہونے والے پروگراموں میں حصہ لینے کے لیے کرناٹک پہنچے۔اس دوران چیف الیکشن کمشنر راجیو کمار کی قیادت میں الیکشن کمیشن کی ایک ٹیم بنگلورو پہنچی۔ اس ٹیم میں الیکشن کمشنر انوپ چندر پانڈے اور ارون گوئل بھی شامل ہیں جو کرناٹک کے تین روزہ دورے پر ہیں۔ ریاست میں اسمبلی انتخابات مئی میں ہونے والے ہیں۔ دارالحکومت پہنچنے کے بعد، ٹیم کے ارکان نے کرناٹک کے چیف الیکٹورل آفیسر منوج کمار مینا اور دیگر عہدیداروں کے ساتھ میٹنگ کی۔کمیشن کی یہ ٹیم مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندوں سے ملاقات کرے گی اور ان کی تجاویز اور آرا حاصل کرنے کے علاوہ ان کی شکایات بھی سنے گی۔ یہ ٹیم شہر میں منعقد ہونے والے جامع انتخابات اور انتخابی خودمختاری کے موضوع پر بین الاقوامی سیمینار میں شرکت کرے گی۔ الیکشن کمیشن کی یہ ٹیم 10 مارچ کو تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کے ساتھ میٹنگ کر کے انتخابی تیاریوں کے بارے میں معلومات حاصل کرے گی۔وہیں کانگریس بھی انتخابات کی تیاریوں میں لگی ہوئی ہے۔ کرناٹک کانگریس کے صدر ڈی کے شیوکمار نے جمعرات کو کہا کہ پارٹی کی اسکریننگ کمیٹی نے اب تک تقریباً 170 اسمبلی سیٹوں پر ٹکٹوں کی تقسیم کے بارے میں بات چیت کی ہے اور ان سیٹوں کے امیدواروں کے ناموں پر لیڈروں کے درمیان اتفاق رائے ہے۔شیوکمار نے کہا کہ ہم نے 170 سیٹوں پر بات کی ہے اور اب 50 سیٹیں رہ گئی ہیں، اس سلسلے میں ہم بحث کریں گے اور پھر اپنی رائے سنٹرل الیکشن کمیٹی کو بھیجیں گے۔ اتفاق رائے ہے، سب کچھ ٹھیک چل رہا ہے اور کوئی الجھن نہیں ہوگی۔
