کیا دکشن کنڑا میں کانگریس اور یوٹی قادر کے لئے ایس ڈی پی آئی دے گی سخت ٹکر؟

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر
منگلورو:۔دکشن کنڑا میں سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا آئندہ اسمبلی الیکشن کے سلسلے میں جو تیاریاں کر رہی ہے اس سے کانگریس پارٹی اور اس کے واحد رکن اسمبلی یو ٹی قادر کے لئے سخت ٹکر دینے کے پورے امکانات پیدا ہوگئے ہیں۔ ایس ڈی پی آئی نے دکشن کنڑا میں دیگر سیاسی پارٹیوں کو پیچھے چھوڑتے ہوئے اسمبلی الیکشن کے لئے اپنے پانچ امیداواروں کے ناموں اعلان کیا ہے جن میں چار مسلم اور ایک عیسائی ہے ۔ اسی کے ساتھ  بوتھ لیول کمیٹیوں کی تشکیل، پارٹی کے لئے رکنیت مہم ، الیکشن سے متعلق دیگر امور کی تکمیل، خون عطیہ کیمپس اور دوسری سماجی خدمات انجام دینے میں تیزی لانے کے ساتھ عام آدمی یا ووٹرس سے قریب ہونے والی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں۔ پارٹی کی طرف سے ووٹرس کو اس بات کا یقین دلانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ وہ فرقہ وارانہ اور فسطائی طاقتوں کا مقابلہ کرنے پرعزم ہے اورالیکشن جیتنے کے ساتھ پوری طرح سیکیولر پارٹی کے طور پر کام کرے گی اور سرکاری سہولتوں اور اسکیموں سے عام افراد کو فائدہ پہنچانے میں کسی قسم کی مذہبی یا سماجی تفریق نہیں کرے گی۔ ایس ڈی پی آئی کی طرف سے اپنے آپ کو سیکیولر ظاہر کرنے کے پہلو کو مسترد کرتے ہوئے کانگریسی ایم ایل سی اور ڈسٹرکٹ کانگریس کمیٹی صدر کے ہریش کمار نے پرانا راگ الاپتے ہوئے اپنی پارٹی کو ہی سیکولر قرار دیا ہے اورایس ڈی پی آئی کو بی جے پی کی طرح ایک فرقہ وارانہ پارٹی قرار دیا ہے۔جنوبی کینرا میں ایس ڈی پی آئی کی الیکشن سے متعلقہ تیاریوں کا جائزہ لیں تو محسوس ہوتا ہے کہ اس کا سب سے اہم نشانہ الال میں کانگریسی رکن اسمبلی یو ٹی قادر کی سیٹ ہے ۔  مسلمانوں کے مسائل حل کرنے میں یو ٹی قادر کی ناکامی سے ایس ڈی پی آئی پورا فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ایس ڈی پی آئی جنوبی کینرا کے جنرل سیکریٹری انور سادات باجاتھور کا کہنا ہے :” حجاب معاملے میں یو ٹی قادر کی طرف سے مسلم طالبات کی حمایت کرنے اور جعلی معاملات میں مسلم نوجوانوں کی گرفتاریوں کے خلاف آواز اٹھانے میں یو ٹی قاڈر نے جس بے دلی اور عدم دلچسپی کا مظاہرا کیا تھا اس کی وجہ سے  کانگریس کے حامیوں میں قادر کے خلاف شدید مخالف جذبات پیدا ہوگئے ہیں۔الال حلقہ اسمبلی کے پوڈو گرام پنچایت الیکشن میں سات ایس ڈی پی آئی امیدواروں نے جو جیت حاصل کی تھی اس سے وہاں پر پارٹی کارکنان کے حوصلے مزید بلند ہوگئے ہیں ۔ ایس ڈی پی آئی کی تیاریوں سے لگتا ہے کہ  پڑوسی حلقہ بنٹوال میں بھی وہ کانگریس کی جیت پر منفی اثرات ڈالنے میں بڑی حد تک کامیاب ہوسکتی ہے۔