دوبارہ بی جے پی حکومت آئیگی تومدرسوں پر لگے گا تالا:بی جے پی رکن اسمبلی یتنال کاوعدہ

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر نیشنل نیوز
نئے بھارت کو مدرسوں کی ضرورت نہیں، آسام کے تمام مدرسے جلد بند ہوں گے، ہیمنت بسوا سرما٭م
سلمانوں کا ووٹنگ رائٹ ختم کر دینا چاہئے!ہری بھوشن ٹھاکر
بنگلورو/دہلی:۔آسام میں مدرسوں کو بند کرنے کی بات وہاں کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرمانے کہی ہے،یہ قابل ستائش بات ہے،ریاست میں دوبارہ بی جے پی کی حکومت آتی ہے تو کرناٹک میں بھی مدرسوں پر تالالگایاجائیگا۔اس بات کااظہار بی جے پی کے رکن اسمبلی بسوان گوڈا پاٹل یتنال نے کیاہے۔انہوں نے بلگائوی میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہاکہ اگلی بی جے پی کی حکومت آتی ہے تو کرناٹک میں آسام کی طرح مدرسوں پر تالالگایاجائیگا،بھارت صرف ہندوئوں کیلئے ہے،اگر آج میں بسوان گوڈا پاٹل یتنال ہوں تو وہ صرف شیواجی کی وجہ سے ہوں،ورنہ میرا نام بھی بشیر احمد پٹیل ہوتا،ابھئے پاٹل،اظہر الدین پٹیل بن جاتا۔ آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما نے کہا کہ وہ اپنی ریاست کے تمام مدارس کو بند کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ کرناٹک کے بیلگاوی میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت پہلے ہی 600 مدارس کو بند کر چکی ہے اور باقی تمام مدرسوں کو بھی جلد ہی بند کر دیا جائے گا۔جب ایک رپورٹر کے ذریعہ اس اقدام کے پیچھے مقصد کے بارے میں پوچھا گیا تو آسام کے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ نئے ہندوستان کو مدارس کی نہیں اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا ’’نئے ہندوستان کو مدارس نہیں چاہیے، اسے یونیورسٹیوں، اسکولوں اور کالجوں کی ضرورت ہے۔‘‘ماضی میں بھی ہیمنت بسوا سرما نے اکثر مدارس کی تعداد کم کرنے یا وہاں دی جانے والی تعلیم کا جائزہ لینے کے اپنے ارادے کا اظہار کیا ہے۔ آسام میں اس وقت 3000 رجسٹرڈ اور غیر رجسٹرڈ مدارس ہیں۔خیال رہے کہ ہیمنت بسوا سرما سال 2020 میں ایک قانون لائے تھے جس کے ذریعے تمام سرکاری مدارس کو ‘ریگولر اسکولوں’ میں تبدیل کیا جائے گا۔ آسام کے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ریاستی پولیس بنگالی مسلمانوں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے، جن کا تعلیم کے تئیں رویہ مثبت ہے، جس کا مقصد مدارس میں اچھا ماحول پیدا کرنا ہے۔ مدارس میں سائنس اور ریاضی کو بھی مضامین کے طور پر پڑھایا جائے گا، اور تعلیم کے حق کا احترام کیا جائے گا، اور اساتذہ کا ڈیٹا بیس رکھا جائے گا۔ بہار میں بی جے پی کے رکن اسمبلی ہری بھوشن ٹھاکر نے آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسد الدین اویسی کے خلاف بیان دیتے ہوئے مسلمانوں کے تئیں اپنی نفرت کا اظہار کر دیا۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق ہری بھوشن نے متنازعہ بیان دیتے ہوئے کہا کہ اویسی جیسے لوگ ملک میں رہے تو تباہی مچے گی، مسلمانوں کا ووٹنگ رائٹ ختم کر دینا چاہئے!بی جے پی کے رکن اسمبلی ہری بھوشن ٹھاکر نے مسلمانوں کے خلاف یہ بیان ایسے وقت میں دیا جب بہار میں بجٹ اجلاس کے حوالہ سے ایوان کے اندر اور باہر ہنگامہ آرائی کی جا رہی ہے۔ہر بھوشن ٹھاکرنے مزیدکہاکہ ملک میں ان لوگوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ اویسی سیمانچل میں گھوم کر مر جائیں گے لیکن انہیں کوئی فائدہ نہیں ملے گا۔ یہ لوگ 2047 تک ہندوستان کو اسلامی ملک بنانا چاہتے ہیں۔ ملک کو مذہب کی بنیاد پر تقسیم کیا گیا۔ مسلمان پاکستان چلے گئے۔ بی جے پی جاگ گئی ہے۔ امتیازی سلوک کی اجازت نہیں دی جائے گی۔‘‘ خیال رہے کہ اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی بہار آنے والے ہیں۔ ان کا 18 اور 19 مارچ کو سیمانچل کا دورہ ہے۔ یہاں وہ ریلیاں نکالیں گے اور مارچ کریں گے۔ سیمانچل کا علاقہ مسلم اکثریتی علاقہ ہے۔ لوک سبھا انتخابات 2024 میں ہونے والے ہیں۔ اس کے پیش نظر اب بی جے پی کی طرف سے ایسے بیانات سامنے آ رہے ہیں۔بی جے پی ایم ایل اے کے اس بیان پر آر جے ڈی کے چیف ترجمان اور ایم ایل اے بھائی ویریندر نے شدید رد عمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہری بھوشن ٹھاکر کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہئے اور ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے۔ انہوں نے کہا ’’یہ لوگ انگریزوں کے دلال ہیں۔ آزادی کے وقت وہ انگریزوں کے مخبر تھے۔ اڈوانی، مرلی منوہر جوشی نے اپنی بیٹیوں کی شادی مسلمانوں سے کیوں کرائی؟ کیا اڈوانی، مرلی منوہر جوشی کے مسلمان دامادوں کو ملک سے باہر نکالاجائیگاگا؟‘‘