بنگلورو:۔اوبی سی کمیشن کی سفارش کے بغیر ہی مسلمانوں کو دئیے گئےچار فیصد 2Bریزرویشن کومنسوخ کرنے کا فیصلہ ریاستی حکومت نے کیاہے،یہ فیصلہ غیر آئینی ہے،اگر مسلمانوں کو 2Bریزرویشن نہیں دیاجاتاہے تو اس کی ہم شدید مخالفت کرینگے۔اس بات کااظہاراوبی سی کمیشن کےسابق چیرمین ڈاکٹر سی این دوارکاناتھ نے کیاہے۔انہوں نے یہاں کے پریس کلب میں بات کرتے ہوئے کہاکہ جو ریزرویشن مسلمانوں کو دیاگیاہے اُسے بحال رکھاجائے ،اس کے علاوہ2Cاور2Dزمرے میں وکلیگا او رلنگایت سماج کو جس طرح سے ریزرویشن مہیاکیاگیاہے اُسی طرزپر مسلمانوں کو بھی افزود ریزرویشن دیاجائے،ورنہ ہم قانونی لڑائی لڑنے کیلئے تیار ہونگے۔مسلم سماج کے2Bزمرے کو ریاستی حکومت نے غیر دستور و غیر تکنیکی طورپر ایک طرفہ فیصلہ لیتے ہوئے منسوخ کیاہے،یہ قابل مذمت ہے،مذہب کی بنیادپر ریزرویشن نہ دینے کا حوالہ دیتے ہوئے آندھراپردیش نے جو فیصلہ دیاتھااسے بنیادبناکر نوٹیفکیشن جاری کیاگیاہے۔اس سلسلے میں سپریم کورٹ میں اب بھی معاملے زیر سماعت ہے،اس وجہ سے کرناٹکا حکومت کی جانب سے جاری کردہ حکمنامہ غیرقانونی ہوگا اس پر کوئی شک نہیں ہے۔سال1916 سے ہی تشکیل شدہ کمیشن کے مطابق مسلمان تعلیمی،سماجی اور معاشی اعتبار سے پسماندہ ہیں،اس مذہب کے لوگوں کی فلاح وبہبودی وترقی کیلئے مختلف منصوبوں کو جاری کرنے کیلئے ہر کمیشن نے سفارشات جاری کئے ہیں،اس وجہ سے ایس سی کیلئے15 فیصد،ایس ٹی کیلئے3 فیصد،کیٹگیری1 کیلئے4فیصد،2Aکیلئے 15 فیصد،2Bکو4 فیصد ، 3Aکو4،3B کو5 فیصد کا ریزرویشن دیا جا تا ر ہا ہے ۔ وزیر اعظم نریندرمودی نے سب کا ساتھ سب کاوکاس کا نعرہ دیاہے،اس کا مطلب یہ کہ سب کو یکساں حصہ ملے گا،لیکن یہاں ایسانہیں ہورہاہے،سب مل کر بھائی چارگی کے ساتھ زندگی کریں،اس کیلئےبھارت کے صوفی سنتھ،شرنوں نے بھی یہی پیغام دیاتھا،لیکن موجودہ حکومت نے ذات ذات کے درمیان،مذہب مذہب کے درمیان نفرتیں پیداکرنے کا کام کیاہے۔اس موقع پر کرناٹکا راجیہ مسلم جاگری ویدیکے کے صدر ڈاکٹر گلشاد احمدنے بات کرتے ہوئے کہاکہ مسلم سماج تعلیمی اوراقتصادی طورپر پسماندہ ہے،اس سماج کی ترقی کیلئےمختلف کمیٹیوں او رکمیشن نے سفارشات حکومت کے سامنے پیش کی ہیں،ان تمام سفارشات کو نظر اندازکرتے ہوئے کرناٹک کی بی جے پی حکومت نےمسلمانوں کے ریزرویشن کو منسوخ کیاہے۔اس موقع پر سابق کے اے ایس افسر عبید اُللہ خان،داداپیر وغیرہ موجودتھے۔
