ادریس پاشاہ کا قتل اور مسلم لیڈران و علماء کی خاموشی ؛ اکھنڈا کا گھر جلنے پر تلما اٹھنے والے اب خاموش کیوں ؟

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر
بنگلورو:۔کرناٹک کے رام نگرا ضلع میں ایک مویشی تاجر کو 1 اپریل بروز ہفتہ کو ہندوتوا دہشتگردوں نے مبینہ طور پر مویشیوں کی غیر قانونی تجارت کے بہانے بے دردی سے قتل کر دیا تھا۔ متوفی کی شناخت ریاست کے منڈیا ضلع کے رہنے والے ادریس پاشاہ کے طور پر کی گئی ہے،  پولیس نے اس معاملے میں مشہور ہندوتوا کارکن پونیتھ کیریہلی اور دیگر چار کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے ایف آئی آر کےمطابق: اگرچہ پاشا نے خریداری کے دستاویزات دکھائے کہ مویشی مقامی بازار سے خریدے گئے تھے، پونیت نے اس کےباوجود اس کےساتھ غنڈہ گردی کی، اور 2 لاکھ روپے کا مطالبہ کیا۔ پھر پونیت نے ادریس پاشا کو "پاکستان واپس جانے” کو کہا، اس کا پیچھا کیا اور حملہ کیا، جس کے نتیجے میں اس کی موت ہوگئی۔ اس معاملے میں جس مرکزی مجرم پونیت کا نام سامنے آرہاہے اس کےمتعلق آپ یہ جان لیں کہ اس کا تعلق بھارتیہ جنتا پارٹی کے ممبران پارلیمنٹ اور ممبران اسمبلی سے ہے نیز مشہور ہندوتوا فسادی کپل مشرا کےساتھ بھی اسے دیکھا گیا ہے ۔  کرناٹک میں ادریس پاشا کا قتل کرنے والے مجرموں کا تعلق بی جے پی کے بڑے لیڈروں سے ثابت ہورہاہے، ہر ہندوتوا واردات کی حقیقت سے محسوس ہوتاہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے وزیروں اور ممبران اسمبلی و پارلیمنٹ نے مختلف ریاستوں میں اپنے اپنے علاقوں میں ہندوتوا، ہندوراشٹر، ہندو انتہاپسندی، راشٹرواد اور گائے کےنام پر غنڈوں کی گینگ بنا رکھی ہے، یہ لوگ خاص طور پر متحرک مسلمانوں کو ٹارگٹ کرتےہیں یا تو مسلمان تاجروں سے ہفتہ وصولی کرتےہیں جو مسلم تاجر انہیں ہفتہ نہیں دیتاہے اسے شراب پی کر گئو رکھشا کےنام پر ” جے شری رام ” اور ” پاکستان واپس جاؤ ” کے نعروں میں گھیر کر انتہائی بےدردی اور درندگی سے قتل کردیتے ہیں، اور پھر اس کے انجام کا واقعہ وائرل کرواکے دیگر لوگوں میں ڈر کا ماحول بنایا جاتاہے تاکہ وہ ٹائم پر ہفتہ پہنچایا کریں، ایسا لگتاہے کہ گئو رکھشا اور مختلف ہندوتوا ایجنڈوں کےنام پر دراصل ملک بھر میں ہفتہ وصولی اور مجرمانہ گینگ بڑھانے کا ایک اسکینڈل چل رہا ہے،  عام ہندوسماج کا المیہ ہےکہ وہ جن گئو رکھشکوں اور ہندوتوا کارکنوں کی ہندو مذہب یا ہندو راشٹر کے جذبات کے تحت حمایت کرتے ہیں  چندہ دیتے ہیں اور اپنے گھر کے بچوں کو بھی بعض دفعہ ان ہندوتوا کارکنوں کےساتھ کردیتے ہیں وہ سب کے سب قاتل چور ڈاکو اور غنڈے ہیں اس حقیقت کا علم ہونے کےباوجود ہندو سماج موجودہ بھاجپائی ہندوراشٹر کےساتھ کھڑا ہے جس ہندوراشٹر کا اصل کام ہی غنڈہ گردی ہے یہ مافیاؤں کا نیا ورژن ہے،   ان مسلمان دانشوران کے لیے عبرت کا سبق ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ بھاجپا اور سَنگھ براہ راست مسلمانوں کے قتل و خون میں شریک نہیں ہے، جو حضرات آر ایس ایس اور بی جے پی کی اعلیٰ سطحی لیڈرشپ سے امن و انصاف کی امیدیں لگاکر ان کےساتھ بیٹھتے ہیں یہ حقائق بھی اگر ان کے لیے چشم کشا نہیں ہوسکے توپھر اس کا جو مطلب ہوسکتاہے وہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہے! کرناٹک بہت پہلے سے آر ایس ایس کے ہندوتوا کی لیبارٹری بنا ہوا ہے،یہاں پر مسلمانوں کےخلاف ہندوتوا غنڈوں کے حملے اور مسلم مخالف سرکاری پالیسیاں عام ہوچکی ہیں، ملک بھر کے ہندو سماج میں بڑھتی ہوئی ہندوتوا دہشت گردی مسلم دشمنی کے جس پائیدان پر جاپہنچی ہےوہیں مسلم لیڈران کی جانب سے اب تک کوئی بیان سامنے نہیں آیا ۔ ادریس پاشاہ کے قتل پر مسلم لیڈروں کا کہنا ہے کہ اس وقت الیکشن قریب ہے اگر ہم بات کرینگے تو بی جے پی اسکا فائدہ اٹھائیگی ۔ سوال یہ ہے کہ ایسے نقصان کا کیا فائدہ جو انسانوں کی زندگیاں لے رہاہے ۔ اب مسلم قائدین کو افطار پارٹیاں ، چاپلوسی اور گنگا جمنی تہذیب کا چولا اتار کر کھل کر مسلمانوں کے تحفظ کے لئے آواز اٹھانی ہوگی ۔ واضح ہوکہ کرناٹک میں توہین رسالت کی پشت پناہی کرنے والے اکھنڈا سرینیواس کا گھر جلائے جانے پر مسلم قائدین اور علماء تلملا اٹھے تھے اب وہ قائدین و علماء خاموش کیوں ہیں ؟۔