از:۔محمد ہاشم القاسمی۔بنگال۔ 9933598528
رمضان المبارک درحقیقت رحمتوں اور برکتوں کا موسم بہار ہے، اس مہینہ میں انسانوں کے گناہ خزاں کے پتوں کی طرح جھڑتے ہیں اور موسم بہار کی طرح خیر و بھلائی کی تازہ کونپلیں پھوٹتی ہیں، اس مقدس مہینہ میں مغفرت کی تیز ہوائیں چلتی ہیں اور رحمت کی پھوار برستی ہیں، یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا بدلہ جنت ہے، یہ لوگوں کے ساتھ غم خواری کرنے کا مہینہ ہے، اس مہینہ میں بندہ مؤمن کا رزق بڑھادیا جاتا ہے، اس مہینہ میں نوافل کا ثواب فرضوں کے برابر اور فرضوں کا ثواب ستر گنا بڑھا دیا جاتا ہے، اس مہینے کا پہلا عشرہ رحمت کہلا تاہے ، دوسرا عشرہ مغفرت کہلاتا ہے اور تیسرا عشرہ جہنم کی آگ سے خلاصی کہلاتا ہے ۔ (صحیح ابن خزیمہ، سنن بیہقی) اسی مبارک مہینے میں اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام آسمانی کتابیں اور صحیفے نازل فرمائے ہیں، چنانچہ قرآن مجید لوحِ محفوظ سے آسمانِ دُنیا پر تمام کا تمام اسی مہینہ میں نازل ہوا اور وہاں سے حسب موقع تھوڑا تھوڑا تیئس سال کے عرصہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے قلب اطہر پر نازل ہوا، اس کے علاوہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اسی ماہ کی یکم یا تین تاریخ کو پچاس صحیفے عطاء کئے گئے، حضرت داؤد علیہ السلام کو بارہ یا اٹھارہ رمضان میں” زبور” عطاء کی گئی، حضرت موسیٰ علیہ السلام کو چھ رمضان میں کوہ طور پر "تورات” عطاء کی گئی، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بارہ یا تیرہ رمضان میں "انجیل” عطاء کی گئی، اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کو چوبیس یا ستائیس رمضان میں” قرآن مجید” جیسی مقدس کتاب عطاء کی گئی۔(مسند احمد، معجم طبرانی) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس ماہِ مبارک کو کلام الٰہی کے ساتھ ایک خاص قسم کی مناسبت حاصل ہے، اسی وجہ سے اکابرین و مشائخ کے قرآنِ پاک کی تلاوت کی کثرت اس مہینہ میں خاص معمول رہا ہے۔ روایت ہے کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام ہرسال رمضان میں تمام قرآن مجید نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کو سناتے تھے اور بعض روایات میں آیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم سے سنتے تھے، علماء نے ان دونوں حدیثوں کے ملانے سے قرآنِ پاک کے (مروّجہ) باہم دَور کرنے کے مستحب ہونے پر استدلال کیا ہے. (فضائل رمضان) علماء سیر و مؤرخین نے لکھا ہے کہ حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ پورے رمضان المبارک میں اکسٹھ قرآنِ مجید ختم کیا کرتے تھے، ایک ختم قرآن دن کا، ایک ختم قرآن رات کا اور ایک ختم قرآن تمام رمضان شریف میں تراویح کا۔ اسی طرح حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ پورے رمضان المبارک میں ساٹھ قرآنِ مجید ختم کیا کرتے تھے، اس طرح کہ روزانہ دو قرآنِ مجید پڑھ لیتے تھے اور اس کے علاوہ عام دنوں میں روزانہ ایک قرآنِ مجید ختم فرمایا کرتے تھے ۔(فضائل قرآن)اس کے علاوہ روزانہ دس، پندرہ پارے پڑھنا تو اکابرین و مشائخ کا عام معمول رہا ہے.
رمضان المبارک کے بابرکت مہینہ میں جنت کے تمام دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم کے تمام دروازے بند کردیئے جاتے ہیں۔ چنانچہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا”جب رمضان المبارک کا مہینہ شروع ہوتا ہے تو جنت کے (تمام) دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم کے (تمام) دروازے بند کردیئے جاتے ہیں اور شرکش شیاطین کو قید کردیا جاتا ہے۔” (صحیح بخاری)
رمضان المبارک کے تین عشروں میں پہلا عشرہ، عشرئہ رحمت ہم سے رخصت ہو گیا اب دوسرا عشرہ، عشرئہ”بخشش و مغفرت” اپنی تمام تر فیوض و برکات، رحمت و مغفرت کے ساتھ ہمارے اوپر سایہ فگن ہے۔
گویا ،ہمارے پاس اب بھی موقع ہے کہ ہم اِس ماہِ مقدّس کے گزرے ایّام میں اپنے رویّوں اور عمل و کردار کا محاسبہ کرتے ہوئے اگلے دنوں میں زیادہ سے زیادہ فوائد سمیٹنے کی منصوبہ بندی کریں
آئیے، اب مغفرت کے اس دوسرے عشرے میں شب کی تنہائیوں میں اشک ندامت بہا کر اپنے گناہوں پر شرمندگی کا اظہار کرتے ہوئے توبہ و استغفار کریں اور اپنے رب کو راضی کرلیں یہی ہمارے لئے سب سے بڑی کامیابی ہے کون جانے، اگلے سال برکتوں والا یہ مہینہ، رحمت، مغفرت اور نجات کے یہ عشرے میسر بھی آتے ہیں یا نہیں؟ ماہِ صیام کے دوسرے عشرے میں ہمیں اپنے والدین، رشتہ دار، احباب و متعلقین اور جملہ اہلِ ایمان کی بخشش و مغفرت کے لیے پہلے سے زیادہ خشوع و خضوع کے ساتھ دعائیں اور التجائیں کرنی ہیں۔ حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا” جبرائیل امین میرے پاس آئے اور جب میں نے منبر کے پہلے زینہ پر قدم رکھا، تو انہوں نے کہا کہ ہلاک ہو جائے، وہ شخص، جس نے رمضان المبار ک کا مہینہ پایا اور پھر بھی اس کی مغفرت نہ ہوئی۔ میں نے اس پر آمین کہا. (الترغیب والترہیب) عشرہ مغفرت کا ایک تقاضہ تو یہ ہے کہ ہم زیادہ سے زیادہ توبہ و استغفار کریں، استغفار خود ایک عبادت ہے اور احکم الحاکمین سے اپنے گناہوں کی معافی کے لیے درخواست بھی ہے، استغفار سے انسان کے اندر تکبر کا مادہ ختم ہوتاہے، نامہ اعمال میں بھی استغفار ایک قیمتی اضافہ ہے۔ ایک حدیث میں آتا ہے کہ جس شخص کے نامہ اعمال میں استغفار کی کثرت ہو اس کے لیے بڑی خوش بختی کی بات ہے۔
استغفار آخرت کے اعتبار سے بڑی فضیلت کی بات ہے اور استغفار کرنے والے کے لیے نہایت قیمتی خزانہ ہے، لیکن اللہ رب العزت نے دنیا میں بھی استغفار میں بڑی فضیلت رکھی ہے۔ قرآن مجید میں استغفار کے فوائد میں یہ بھی لکھا ہے کہ جب تک لوگ استغفار کرتے رہیں گے اس وقت تک وہ عذاب سے محفوظ رہیں گے۔ (سورۃ الانفال) گویا استغفار کی کثرت سے اللہ تعالی دنیائے انسانیت کو عذاب سے اور بلاوں سے اور وباوں سے محفوظ رکھتے ہیں.
قرآن مجید کی ایک اور آیت میں ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی فوج سے کہا کہ تم اپنے رب سے استغفار کرو۔ وہ بہت مغفرت کرنے والا ہے۔ اس کی وجہ سے وہ تم پر بکثرت بارش برسائے گا، مال اور اولاد سے تمھاری مدد کرے گا اور تمھارے لیے باغ بنائے گا اور تمھارے لیے نہریں جاری کرے گا۔ ( سورہ نوح) اس آیت کریمہ میں اور قرآن مجید کی اور آیات میں بھی بہت واضح طور پر آیا ہے کہ استغفار کی برکت سے انسان کے دنیا کے سارے مسائل حل ہو جائیں گے۔ اللہ تعالی اس کو فقر اور محتاجی سے بچائے گا۔ اس کو مال و دولت بھی دے گا اوراس کو دنیا میں قوت و شوکت بھی عطا فرمائے گا۔
احادیث میں بھی استغفار کے فضائل بڑی کثرت سے وارد ہوئے ہیں، ایک حدیث میں اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ جو شخص استغفار کو اپنے اوپر لازم کر لے گا تو اللہ تعالیٰ اس کو ہر رنج و غم سے نجات دیتا ہے اور اس کو ہر تنگی سے نکلنے کا راستہ بنا دیتا ہے اور اسے ایسی جگہ سے روزی عطا کرتا ہے جہاں سے اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتا۔ (ابن ماجہ)
عشرہ مغفرت کو اگر استعارے کے طور پر مغفرت سے منسوب مانا جائے تو اس کا دوسرا تقاضہ یہ ہے کہ ہم جس چیز کی امید اللہ رب العزت سے اپنے لیے کرتے ہیں، وہی کام ہم اپنے طور پر اپنے بھائی اور اس کی مخلوق کے لیے کریں۔ یعنی اپنے دل سے کینہ، حسد، بغض، عداوت اور بدلے کے تمام جذبات کو نکال باہر کریں، اگر کسی نے ہمارا حق مارا ہے، ہمارے ساتھ نازیبا حرکت کی ہے، ہم کو اپنی زبان سے یا اپنے عمل سے کوئی تکلیف پہنچائی ہے، تو ہم یکطرفہ طور پر اس کو معاف کر دیں۔ اپنے دل کی گہرائیوں میں جھانکیں اور جس شخص سے بھی کوئی عداوت کا جذبہ ہو اس کا نام لے کر اس کو معاف کر دیں، اور اگر ممکن ہو تو فون کر کے اس سے بات کریں تاکہ ہمارا دل پوری طرح صاف ہو جائے۔
اس عشرے میں مسلسل اس کی مشق کریں کہ ہمارے دل میں ہر ایک کے لیے محبت ہو، نفرت جیسے منفی جذبات ہمارے دل میں گزر نہ پائیں۔ آج کا دور بڑا عجیب دور ہے۔ اس میں درد بڑھ رہے ہیں، نفرتیں بڑھ رہی ہیں، عداوتیں بڑھ رہی ہیں۔ اس ماہ مبارک کا تقاضہ ہے کہ ہم اپنے طور پر محبتیں بڑھائیں، الفتیں بڑھائیں، پیار بانٹیں۔ انشاء اللہ ماہ مبارک کی برکت سے ہم کو وہ سب کچھ ملے گا جو ہم بانٹیں گے، قرآن مجید میں ہے کہ بری بات کو بھی بھلی بات سے دفع کرو۔ یعنی دوسروں کی بات کے جواب میں بھلی بات کرو، اس کا اثر یہ ہوگا کہ جس آدمی کو تم سے شدید نفرت ہوگی، عداوت ہوگی وہ بھی تمھارا جگری دوست بن جائے گا۔
رمضان میں صبح صادق سے غروب آفتاب تک مسلمان رضاء الٰہی کے لیے بھوکے پیاسے رہتے ہیں ۔اللہ کو صرف بھوکے پیاسے انسان کی عبادت کی ضرورت نہیں بلکہ اس کی تعریف و عبادت تو فرشتے ہر وقت کرتے ہیں، پر روزے کا مقصد یہ ہے کہ انسان ایسی حالت میں آجاۓ کہ نہ کسی کا برا کرے، نہ کسی کا برا سوچے، نہ کسی کی برائی دیکھے، نہ ہاتھ سے کسی کو تکلیف پہنچا، اور نہ زبان سے کسی کو گالی گلوچ دے، دل و دماغ سے کسی کے لیے سازشیں نہ سوچے۔ یعنی روزہ صرف پیٹ کو بھوکا رکھنے کا نام نہیں، بلکہ آ نکھ، کان، زبان کا بھی روزہ ہونا چاہیے اور یہی تقویٰ ہے جو روزے دار سے مطلوب اور مقصود ہے۔
