چکبا لا پور:۔ریاستی وزیر برائے صحت و خاندانی بہبود اور میڈیکل ایجوکیشن ڈاکٹر کےسدھاکر نے کہا کہ ریاست میں اگر جی ڈی ایس پارٹی 120 حلقوں میں کامیاب ہوگئی تو وہ سیاست سنیاس لیے لیں گے۔ اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہیں سابق وزیر اعلی ایچ ڈی کمار سوامی کے 120 حلقوں میں جے ڈی ایس پارٹی کا کامیاب ہونے کے دعوے پر طنز کرتے ہوئے وزیر صحت نے اعتماد ظاہر کیا کے ریاست میں مخلوط حکومت کے انتظامیہ کو دیکھ کر عوام بیزار ہوگئے ہیں ریاست کے عوام بی جے پی کو اکثریت کے ساتھ اقتدار دیکر وزیر اعظم نریندر مودی کے ہاتھ مضبوط کرینگے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قدیم میسور علاقے میں آنے والے کو لار،چکبالا پور اور بنگلور دیہی ضلع میں موجود 15 اسمبلی حلقوں میں پارٹی امیدواروں کو کامیاب کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے ان اضلاع میں وزیر برائے ہارٹیکلچر منی رتنا، وزیر صنعت يم ٹی بی ناگراج اور ان حلقوں کے آنے والے اراکین پارلیمان کے ساتھ مل کر یہاں پر بی جے پی کو کامیاب کرنے کی انتھک کوشش کر رہے ہیں کم ازکم پانچ سے آٹھ حلقوں میں بی جے پی کے امیدوار کامیاب ہوں گے ۔ سابق وزیراعلیٰ سد رامیا کے متنازع بیان پر پوچھے گئے سوال پر انہوں نے کہا کہ فی الوقت وزیر اعلی کی کرسی خالی نہیں ہے خالی بھی نہیں ہوگی انتظار کرنے سے کچھ بھی فائدہ نہیں ہوگا وزیراعلی بننے کا خواب کبھی پورا نہیں ہوگا۔ سابقہ وزیراعلیٰ اور کے پی سی سی کے صدر ڈی کے شیوا کمار کے درمیان تال میل کی کمی دکھائی دے رہی ہے ریاست میں کسی بھی قیمت کانگریس کو اکثریت نہیں ملے گی انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ چکبا لاپور حلقے میں اب تک کانگریس کو امیدوار نہیں ملا ہے ایسی صورتحال میں ریاست کے کئی حصوں میں کانگریس کو دیکھنے کو مل رہی ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں وزیر صحت نے کہا کہ سابقہ وزیر این ایچ شیواشنکر ریڈی چکبالا پور میں کانگریس کے امیدوار کو کامیاب کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور بہتر ہے کہ وہ گورے دور چھوڑ کر کیونکہ وہاں پر وہ ہارنے والے ہیں دوسروں کو امیدوار بنانے کی بجائے بذات وہ خودچکبالا پور سامنا کرینگے اسمبلی حلقے میں انتخابات کا سامنا کریں ۔
