از:۔ عطاء الرحمن القاسمی،شیموگہ

رمضان المبارک اللہ تبارک و تعالیٰ کا خصوصی مہینہ ہے جس میں روزے کے ذریعہ اللہ رب العزت نے اپنے بندوں کو بہت سے فوائدو برکات سے بھی نوازا ہے،اس ماہ ِ مقدس میں اللہ نے ایمان والوں کی تربیت ،رجوع الی اللہ،خشیت مع اللہ،ورع وتقویٰ ،صبر وتجمل ،ہمدردی وغمخواری ،نیک اعمال اپنانے کی ہدایت کے بے پناہ ایمانی وانسانی جذبات کے مواقع فراہم کئے ہیں ،چنانچہ روزے کے ذریعے انسان ابتاع ِ شریعت کے ساتھ اللہ کی رضا مندی حاصل کرنے کی کوشش میں مشغول رہتا ہے ،پھر روزے کے مزید فوائد بھی حاصل ہوتے ہیں۔
ماہ ِ رمضان میں روزوں کے علاوہ عبادتوں اور نیکیوں کے مختلف طریقے ہیں ،جن میں ہرنیکی کا اجر سترگنا بڑھ جاتا ہے ،ان میں خاص طور پر تراویح ،تلاوت ِ قرآن کریم ،تہجد،شب قدر کی عبادت کے علاوہ صدقات و خیرات کا پہلو بھی ہے، ماہ ِ رمضان میں صدقات و خیرات کے ضمن میں خاص طور پر صدقۃ الفطر اس کے لوازمات اور خصوصیات میں سے ہے ،جو ہر صاحب ِ نصاب پر فرض ہے ،ہم یہاں اس کا تذکرہ نہیں کررہے ہیں،بلکہ دیگر صدقات و خیرات کی وضاحت کررہے ہیں ،جو اگر ماہ ِ رمضان میں ہو اس پر اجر بھی بڑھتا ہے۔
قرآن میںنماز کے ساتھ زکوٰۃ و صدقات کا ذکر:۔
اللہ رب العزت نے اسلام کے ارکان میں نماز کے ساتھ ہی زکوٰۃ کا تذکرہ قرآن میں زیادہ تر جگہوں پر کردیاہے ،ایمان والوں کی پہچان بتائی گئی کہ جو نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور اس مفہوم پر مشتمل بے شمار آیتیں ہیں اور ان کی تشریح میں نبی ٔ کریم ﷺ کے ارشادات بھی،یہاں چند آیتیں جن میں زکوٰۃ کا تذکرہ ہے ،یہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی تاکیداور اس کی اہمیت پیش ہیں:۔
٭ (قرآن کریم) راستہ بتانے والاہے خدا سے ڈر نے والوں کے لئے جو غیب کی چیزوں پر یقین رکھتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے دیا ہے اس میں خرچ کرتے ہیں۔(بقرۃ)
٭(اورقائم کرو نماز کو اور زکوٰۃ دو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو) (بقرہ)
٭(اور میری رحمت تمام چیزوں کو محیط ہے،تو ان لوگوں کے لئے (خاص طورپر) لکھوں گا جو خدا سے ڈرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں۔(اعراف)
٭ (اور تم اللہ کے راستے میں خرچ کیا کرو اور اپنے آپ کو اپنے ہاتھوں تباہی میں نہ ڈالو) (بقرہ)
٭ اے ایمان والو! خرچ کرو ان چیزوں میں سے جو ہم نے تم کو دی ہیں اس سے پہلے کہ وہ دن آجائے جس میں نہ تو خرید و فروخت ہوسکتی ہے ،نہ دوستی ہوگی،نہ کسی کی (اللہ کے بغیر اجازت )سفارش
٭ (اے مومنو!)تم نیکی حاصل نہیں کرسکتے یہاں تک کہ اس چیز کو خرچ نہ کرو جو تم کو محبوب ہو۔ (آل عمران)
قرآن کریم کی یہ چند آیتیں ہیں جس میں اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی تلقین اور زکوٰۃ کی ادائیگی کا بیان ہے اور صدقات و خیرات کی فضلیت کا ذکر ۔
صدقات و خیرات کی اہمیت:۔
خیال رہے کہ صدقات کی اہمیت ،ضرورت اور اس کی برکت پر نبی کریم ﷺ کا عمل اور آپ کا ارشاد امت مسلمہ کیلئے اس بات کی رہنمائی ہے کہ انسانی معاشرہ خاص طور پر اسلامی معاشرے کی فلاح وبہبود اور تمام انسانوں کی خوشحال زندگی کے لئے اللہ کا مقرر کردہ نظام ہے کہ اگر مسلمان اس پر مکمل پابندی سے عمل پیرا ہوں تو غریبوں اور ضرورت مندوں کی بنیادی ضرورتوں کی تکمیل بآسانی ہوجاتی ہے اور مجبوری کے زیر سایہ جنم لینے والے بہت سے جرائم اور بیشتر برائیوں کا خاتمہ بھی ممکن ہے، اسی لئے دین ِ اسلام میں صدقات کا نظام قائم کیاگیا ہے۔
پھر صدقات کی دو قسم ہیں،ایک وہ جو فرض اور واجب ہیں اور دوسرے وہ جو نفل ہیں۔زکوٰۃ اسلام کا بنیادی رکن ہے جو صدقہ ٔ واجبہ ہے اور بعض وہ صدقات جو انسان خود پر نذریا منّت کی شکل میں واجب کرلے، ان کی ادائیگی لازمی ہے اور ایمان کا ایک حصۃ ہے ،ادا نہ کرنے پر گناہ گار اور آخرت میں عذاب کا مستحق بنادیتا ہے۔دین ِ اسلام میں زکوٰۃ کی ادائیگی پر اتنا ہی زور دیا گیا جتنا نماز ادا کرنے پر،اس لئے بیشتر آیات ِ قرآنی میں دونوں کا ذکر ساتھ ساتھ ہے،اس فرض کی ادائیگی کے علاوہ دین میں صدقات نافلہ کی بھی ترغیب ہے اوراس کی اہمیت وبرکت کا بیان بھی۔عام مسلمانوں کے ساتھ ہمدردی اور ان کی دادرسی ،امداد اور دستگیری کی سب سے بہتر صورت اسی طرح بنی نوع انسان کے ساتھ بھی خیر خواہی اورتعاون کا بہترین ذریعہ ،اس سے پوراسماج سدھرتا ہے اور انسان کی بنیادی ضرورتوں کی تکمیل ہوتی ہے۔
زکوٰۃ تو اسی وقت صاحب نصاب مومن پر فرض ہوجاتی ہے جب ایک سال اس مال پر پورا ہوجائے اور فوری طورپر ادا ئیگی ہر عبادت میں مستحن ہے،زکوٰۃ ادا کرنے کیلئے ماہِ رمضان المبارک کا انتظار کرنے کی ضرورت نہیں ،البتہ اگر کوئی غنی مسلمان رمضان کی فضیلت کے پیش نظر اس مبارک مہینے میں زکوٰۃ ادا کرنا چاہے تو یقینا اجر میں اضافہ ہوگا، مگر جس مقصد کے لئے زکوٰۃ کی مشروعیت ہے اس کے لحاظ سے غریب وضرورت مند افراد کی ضرورتوں کے پیش نظر درمیان سال میں زکوٰۃ ادا ضرور کرنی چاہیے،صرف اس واسطے کہ رمضان خیروبرکت کا مہینہ ہے اس میں ادائیگی کا التزام کیا جائے تو اس کامقصد پوری طرح حاصل نہیں ہوپاتا۔
مگر چوں کہ رمضان کی ہر عبادت با عث برکت واضافہ ٔ اجر ہے ،اسلئے اس ماہ میں صدقات نافلہ کا اہتمام ہونا چاہیے یعنی صدقات و خیرات اور ضرورت مند مسلمانوں کی مالی امداد، مالی سخاوت کے لئے یہ مہینہ نہایت ہی موزوں اور بہتر ہے ،مطلب یہ کہ صرف زکوٰۃ اور صدقہ ٔ فطر کی ادائیگی کے صاحب ثروت مسلمان یہ نہ سمجھ لے کہ اللہ کی طرف سے مالی مطالبہ ختم ہوگیا،بلکہ اس کے علاوہ بھی اپنے مال میں سے ضرورت مند افراد کی مالی مدد کا حق باقی رہتا ہے ،چنانچہ ایک حدیث میں آنحضور ﷺ کا ارشاد ہے۔:
٭ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا کہ مال میں زکوٰۃ کے علاوہ بھی (اللہ کا)حق ہے،پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی(ترمذی ،ابن ماجۃ)
٭اصل نیکی اور بھلائی (کا معیار) یہ نہیں ہے کہ (عبادت میں)تم مشرق کی طرف اپنا رخ کرو یا مغرب کی طرف،بلکہ اصل نیکی کی را ہ بس اُن لوگوں کی ہے جو ایمان لائے اللہ پر اور آخرت کے دن پر،اور ملائکہ پر اور اللہ کی کتابوں اور اس کے نبیوں پر اور جنھوں نے مال کی محبت کے باوجود اس کو خرچ کیا قرابت داروں پر اور یتیموں ،مسکینوںپر اور مسافروں اور سائلوں پر،اور غلاموں کو آزادی دلانے میں اور اچھی طرح قائم کی انہوں نے نماز اور ادا کی زکوٰۃ۔ (بقرہ)
اس حدیث میں آپ نے زکوٰۃ کے علاوہ بھی صدقات وخیرات کی ترغیب دی اور فرمایا کہ واجب صدقے کے علاوہ بھی دولت مندوں پر اللہ کے کچھ مالی مطالبے اور حقوق ہیں،دلیل کے طور پر آں حضور ﷺ نے وہ آیت تلاوت فرمائی جس میں ایمان کے ساتھ ساتھ نیک اعمال کا ذکر ہے،خاص طورپر یتیموں،مسکینوں، مسافروں،سائلوں اور ضرورت مندوں کی مالی مدد کا ذکر ہے،اس کے بعد ہی نماز اور زکوٰۃ کا ذکر ہے، معلوم ہوا کہ ان کمزور اور ضرورت مندوں کی مالی امداد کا جو بیان ہے وہ زکوٰۃ کے علاوہ ہے کیوں کہ زکوٰۃ کا ذکر توآگے الگ آرہا ہے۔
ان واجب مالی صدقات کی ادائیگی تو دولت مندوں پر فرض ہے اور مزید صدقات وخیرات کا مطالبہ اس مذکورہ بالاحدیث و آیت کی روشنی میں واضح ہوجاتا ہے ،مگر جو خود غریب و محتاج ہوں کیا وہ صدقات وخیرات کے اجر سے محروم رہیں گے؟قطعی نہیں! نبی کریم ﷺ نے فرمادیا کہ صدقہ ہر مسلمان پر لازم ہے اور یہ صدقہ مالی بھی ہوسکتا ہے اور غیر مالی بھی ،اس میں دولت مند اور غریب دونوں کو اجر حاصل کرنے کا موقع ملتا ہے ، حدیث ہے: ترجمہ: حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:ہر مسلمان پر صدقہ لازم ہے ۔لوگوں نے عرض کیا کہ اگر کسی آدمی کے پاس صدقہ کرنے کیلئے کچھ نہ ہوتو وہ کیا کرے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اپنے دست و بازو سے محنت کرے اور کمائے پھر اس سے خود بھی فائدہ اٹھائے اور صدقہ بھی کرے۔عرض کیا گیا اگر وہ یہ نہ کرسکتا ہوتو کیا کرے؟آپ ﷺ نے فرمایا کہ کسی پریشان حال محتاج کا کوئی کام کرکے اس کی مدد ہی کردے (یہ بھی ایک طرح کا صدقہ ہے)عرض کیا گیا کہ اگر وہ یہ بھی نہ کرسکے تو کیا کرے؟آپ ﷺ نے فرمایا تو اپنی زبان ہی سے لوگوں کو بھلائی اور نیکی کے لئے کہے۔ لوگوں نے عرض کی کہ اگر وہ یہ بھی نہ کرسکے تو کیا کرے؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ (کم از کم)شر سے اپنے کورو کے (یعنی اس کا اہتمام کرکے کہ اس سے کسی کو تکلیف اور ایذانہ پہنچے)یہ بھی اس کے لئے ایک طرح کا صدقہ ہے۔(صحیح بخاری و صحیح مسلم)
اس طرح صدقہ کرنے کی فضیلت اور برکت کا تذکرہ بھی ارشاد رسول ﷺ میں موجود ہے : ترجمہ :حضرت انسؓ کی روایت ہے آں حضور ﷺ نے فرمایا صدقہ اللہ کے غضب کو ٹھنڈا کرتا ہے اور بری موت کو دفع کرتا ہے ۔ (ترمذی)
اس حدیث میں صدقہ کی دوخوبی کا تذکرہ ہے،ایک تو یہ کہ اگر انسان کو ئی غلطی یا گناہ کرے جس سے اللہ کی ناراضگی ہوسکتی ہوتو صدقہ اس ناراضگی اور غضب کو زائل کرنے کا ذریعہ بن جاتا ہے ،دوسرے یہ کہ بُری موت سے انسان کو بچاتا ہے ،صدقہ کی برکت سے خاتمہ اچھا ہوجاتا ہے۔
ایک دوسری روایت ہے: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن مومن پر اس کے صدقے کا سایہ ہوگا یعنی قیامت کے دن جو تپش اور گرمی ہوگی اس سے یہ صدقہ محفوظ رکھے گا اور اس کیلئے سایہ کردیگا۔(مسند آحمد بن حنبل ؒ)
اللہ تعالیٰ ہمیں صدقات و خیرات اور زکوٰۃ پابندی سے صحیح مصرف اور صحیح ہاتھوں تک پہنچانے کی توفیق عطاء فرمائیں۔آمین
