داونگیرے:۔ملک میں مسلمانوں کو اپنی ذمہ داری کا احساس ضروری ہے کہ فرقہ پرست طاقتوں کے برسرِ اقتدار سے زیادہ متاثر یہی قوم ہوتی چلی آرہی ہے ، انصاف پسند سکیولر ذہنیت کے حامی افراد کے گھروں سے اُن کے بچوں کے دماغوں میں بھی فرقہ پرستی کا زہر بھرنے کی کوشش ہوتی چلی آرہی ہے، یہی وجہ ہے کہ ہزار ہا کوشش کے باوجود اس پر قابو پانا مشکل ہوتا جارہا ہے۔ان خیالات کااظہار رُکن ِ کونسل و کے پی سی سی چیرمن شعبہء اقلیت کے عبدالجبارنے کیاہے۔انہوں نے اس تعلق سے اخباری بیان جاری کرتے ہوئے کہاکہ مسلم قوم جو دُنیاں پرسینکڑوں سالوں تک امن بھائی چارہ اور انصاف کو قائم رکھتے ہوئے جو نظام فراہم کیا کہیں ہماری نسلیں اس نظام کے قر یب ہوکر اُس سے متاثر نا ہوں یہی خوف اِن فرقہ پرستوں کو ہمیشہ کھائے جاتا ہے،یہی وجہ ہے کہ اس قوم کی تاریخ کو مسخ کرنے کی بھی اِن کی کوشش ہوتی رہتی ہے،مسلم قوم ملک کی محبت کو اپنے ایمان کا حصہ سمجھتی ہے،اور یہی درس اسلام نے بھی دیا ہے،جو لوگ بھیسہ چراتے ہوئے ملک میں داخل ہوئے اور یہان پر بسنے والے لوگوں میں تفریق پیدا کرتے ہوئے ،اونچ ،نیچ، کالے، گورے ، اعلیٰ ،ادنیٰ ،ہندو ،مسلم ،کے نام پر مانوواد کو جنم دیا در حقیقت وہ انسانوں کو اپنی غلامی کی زنجیروں میں جکڑے رکھنا چاہتے ہیں ،اور مسلمان اپنے خیر اُمت کے فرض کو نبھاتے ہوئے دیگر اقوام کوغلامی کی زنجیرون میں جکڑے رکھے جانے کو برداشت نہیں کریں اور وہ پسماندہ اقوام کی حمایت میں اُتر آئیں گے لہذاء پہلے ہی ہندو مسلم کے درمیان مذہب کے نام کی دیوار کھڑی کردی جائے اسی سوچ کے تحت منواواد کے پیروکار چھپے بیٹھےدیگر پسماندہ قوموں و افراد کو مسلم مخالف ہوا کے دوش پر چلنے کے لئےمجبور کرتے رہتے ہیں ،شیر میسور حضرت ٹیپو سلطان شہید ؒکی شہادت بعدکے ملک پوری طرح انگریزون کی غلامی میں چلا گیا ،اُس وقت بھی جو لوگ خوش تھے وہ یہی تھے کہ جن کے ہاتھ میں حکومت تھی وہ اِنہے برداشت نہیں تھی،ایک عرصہ تک ملک کی عوام پر انگریزوں نے ظلم روا رکھا کیا تاریخ میں کہیں کوئی ایساء واقعہ مل سکتا ہے۔؟ کہ اِن پر انگریزوں نے ظلم کیا ہو ،بلکہ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے مجاہدین آزادی کی سرگرمیوں کی مخبری کرتے ہوئے انگریزوں پرفاش کیا ،آزادی کے بعد اس طبقہ کو اپنا منوواد نافذ کرنے میں کامیابی نا ملی اور ملک میں جمہوری نظام کو پسند کیاگیا ،مسلمان چونکہ پہلے ہی انسانوں میں ایک دوسرے کی برابر ی کے قائل تھے اور جمہوری نطام میں تمام کو اُن کے بنیادی حقوق فراہم کئے گئے ،کثیر مذاہب پر منحصر اس ملک کو کسی بھی مذہب کی جانب نہیں موڑا جاسکتا اور ایک گلشن کی یہ علامت بھی نہیں کہ مخصوص قسم کے ہی بھول ہوں دیگر پھول بھی اگر گلشن میں نا ہوئے تو وہ گلشن نہیں کہلاتا ،جمو ری نظام میں تمام کے حقوق کے تحفظ کے ساتھ ملک بھارت ایک گلشن کی مانند ہے ،اور آج فرقہ پرست طاقتیں اس گلشن کو تاراج کرنے کے در پہ ہیں ،اللہ رب العزت نےخیرِ اُمت کے عظیم منصب جو فائز کیا،ذمہ داری بنتی ہے کہ دستور، ہند کےتحفظ ااور جمہوریت کی بقاء کے لئے بہت ساری قربانیوں کیلئے خود کو پیش کرنا ہوگا ،ملک میں دبے ،کچلے ،معاشی اقتصادی ،بدحالی کا شکار ہم ہی نہیں بلکہ بہت ساری قومیں اور بھی ہیں جن کے تحفظ کے لئے ہمیں اپنی قربانیوں کا مظاہرہ کرنا ہوگا ،رہا ہمارا حق ہم اپنے حق کے تحفظ کی اُمیدکسی سے نہیں کرتے اور یہ اس قوم کا شیوہ بھی نہیں،رہی بات اپنے حقوق کی وہ تو دستورِ ہند میں ہے مگر نظام پر فرقہ پرستی کے اثر انداز ہونے کی وجہ پوری طرح حقوق کی حفاطت ممکن نہیں ہوپائی اب پانی گلے تک پہنچ چکا ہے ،اپنے حقوق کو بالائے طاق رکھ کر ملک کی سالمیت دستورِ کا تحفظ اور جمہوریت کی بقاء کے لئے کمر بستہ ہوجانا ملک کی خاطر مسلم قوم کی ذمہ داری ہے ،پھر جب بادل چھٹ جائیں تو اپنے حقوق کا تحفط خود بہ خود ہوہی جائے گا ،شاد ہر ناکام ہوہی جائے گا ، حالات پر مزیدنظر ڈالتے ہوئے عبدالجبار نے کہا کہ ریاست میں عام اسمبلی انتخابات میں مسلمان اپنے سو فیصد ووٹ کا استعمال کرین اور جن کے نام ووٹر لسٹ میں نہیں وہ اپنے ناموں کے اندراج میں کوتاہی نا برتیں کسی صورت ووٹوں کو ضایعہ نا کرین اور فرقہ پرست طاقتوں کو شکست دینےکی حتمہ کوشش کریں،ووٹ ایک امانت ہے اور امانت کو صحیح ہاتھوں میں سونپنا ضروری ہے جس پارٹی میں بلاتفریق مذہب و ملت رنگ و نسل اونچ نیچ سے اُوپر اٹھ کر سارے باشندگانِ ملک کو ساتھ لے کر چلنے صفت موجود ہووہی ہمارے ووٹوں کی حقدار ہوگی ،اقتدار کے صحیح ہاتھوں میں ہونے ہی ملک اور قوموں کی ترقی ممکن ہوگی، کسی کی باتوں میں آئے بغیر ملک کی بڑی اور آزادی میں شریک مذہبی رواداری امن انصاف کے ساتھ تمام کو اپنے حقوق دینے کی پابند پارٹی کو اپنا ووٹ دیںتاکہ ملک میں امن بھائی چارے کا ماحول قائم رہ سکے ، نا کہ کسی کی چکنی چکیی باتوں کا شکار ہوں اور نا ہی وقتی طور پر کسی طرح کی لالچ کا شکار ہوکر اپنے ووٹوں کا بٹوارہ ہو اور فرقہ پرستون کا فائدہ ہویہ کام کسی صورت نہیں ہونا چاہیئے ورنہ ہر مسلمان شریک اور جواب دہ ہوگا کل جس پر بھی ہوگا بھاچپا کی جانب سے ظلم اُ س کیلئے ۔اسی لئے ہر مسلمان دستورِ ہند کے تحفظ اور جمہوریت کی بقاء کو اپنی ذمہ داری سمجھیں ۔
