بنگلورو:۔الیکشن میں سیاستدان ایک دوسرے پر الزامات لگاتے ہوئے ضرور دیکھا ہے، رشوت لینا، دینا، عوام کو لبھانے کے لئے تحفوں کی شکل میں نقد دینا، قیمتی اشیاء دینا بھی اب الیکشن کا حصہ بن چکاہے، الیکشن میں پیسے لینے کے تعلق سے میڈیا کو بھی نشانہ بنایا جاتا ہے اور میڈیا کی جانب سے کی جانے والی تشہیر کو سوچے سمجھے بغیر گودی میڈیا کانام دیا جاتاہے، جبکہ میڈیا کا کام ہی پبلسٹی کرنا، مارکیٹنگ کرنا اور انفارمیشن دیناہے لیکن اس دفعہ کرناٹک کے میں ایک امیدوار نے کھلے عام اس بات کا الزام لگایا ہے کہ اسکے پاس سے مذہبی لوگوں نے لاکھوں روپئے بطور رشوت لی ہے وہ بھی مسجدوں کے نام پر ۔۔ جی ہاں بنگلور کے چک پیٹ اسمبلی حلقے کے آزاد امیدوار کے جی یف بابو نے الزام لگایا ہے کہ انہوں نے الیکشن میں تعاون کرنے کے عوض میں بنگلورو کی 17 مسجدوں کو لاکھوں روپئوں کا چندہ دیا ہے، اب انہوں نے حضرت شاہ ولی اللہ کے درالافتاء کے فتوے کا حوالہ دیتے ہوئے رقم واپس مانگی ہے۔ انہوں نے ریاست کے دو اخبارات میں اشتہار جاری کرتے ہوئے اپنی رقم واپس طلب کی ہے ۔ سوال یہ ہے کہ کیا مسجدوں کے ذمہ داران ایسا کرسکتے ہیں؟ کیا مسجدوں کے علماء اور آئمہ کو اس بات کا علم نہیں تھا کہ ووٹ کے عوض نوٹ لینا حرام ہے۔ اگر کے جی یف بابو نے رقم دی بھی ہے تو کیا آئمہ نے یہ ضروری نہیں سمجھا کہ کے جی یف بابو کی آمدنی کا ذریعہ پوچھا جائے؟ جب مسجدوں کے لئے زکوٰۃ کا پیسہ نہیں چلتاہے تو کیسے ووٹ کے بدلے نوٹ لئے جاسکتے ہیں؟.. کے جی یف بابو نے اپنے اشتہار میں جو اپیل کی ہے وہ اس طرح سے ہے ۔ ان حالات میں یہ بھی یہ سوالات اٹھ رہے ہیں کہ کے جی یف بابونے ہمت کرتے ہوئے بھانڈا پھوڑ دیاہے ممکن ہے کہ ریاست میں اوربھی مسلمان ،مسجد اور مدرسوں کے نام پر ووٹ کے بدلے نوٹ لئے ہوں۔ اگرایسا ہوتاہے تو مسلمانوں کو ذلیل ہونے کے لئے تیار ہونا پڑیگا۔ واضح ہوکہ آئی یم اے جیسی پونزی کمپنیاں بھی کئی مدارس اور دینی اداروں کی کفالت قبول کرچکی ہیً جسکا خمیازہ مسلمانوں کو اٹھانا پڑ سکتا ہے ۔
