علامہ اقبال کی شاعری اور عظمتِ ماہِ رمضان

مضامین
از:۔ڈاکٹر محمد نصراللہ خان ،شیموگہ ۔ 9845916982
وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہوکر
اور تم خوار ہوئے تاریکِ قرآں  ہوکر
علامہ اقبال کی فکر و ذہن کی بنیاد قرآن مجید پر ہے ۔قرآن وصحیفئہ حق ہے جس میں مکمل ضابطئہ حیات بھی ہے اور آخرت کی جملہ تصویر بھی ،  ازل سے ابد تک کے معرکئہ حق و باطل کا صاف نقشہ بھی ہے۔ اور انبیا ئے علیہ اسلام کے وہ سبق آموز واقعات بھی موجود ہیں جو رہتی دنیا تک انسانوں کے لئے مشعل راہ کا کام کرتے ہیں۔ علامہ اقبال کی شعری خدمات بحیثیت محب وطن ،مفکر اعظم، شاعرِ اعظم ، شاعر ملت ،حکیم الامت ، شاعرمشرق ، اردو اور فارسی کے عظیم شاعر جن کی شاعری کا مقصد مسلمانوں میں دین کے جذبے کوابھارناخودی کوپہچاننا قرآن مجید کی تعلیمات سے جڑ جانا حضور ﷺ کی محبت میں اپنی زندگی نچھاور کردینا ، شریعت محمدی پر عمل پیرا ہونا ۔ عملی زندگی کو اللہ و رسول کے احکامات سے گزارنا  ہے۔آپ کا کلام مرجھائے ہوئے دلوں میں تازگی ایمان کی حرارت اورمقصد حیات کی حقیقت کو بیان کرتاہے۔ اگر بچپن سے ہی بچوں کی مناسب تربیت ہوجائے، سہی رہنائی و رہبری میسر ہو تو یقیناًاقبال جیسا علمی و فکری انسان بنتا ہے ہے جو کامل انسان اور مومنِ کامل کی بات کرتا ہے ۔ اسلام وہ مذہب ہے جو حق اور باطل میں فرق واضح کرتا ہے ۔ مکمل نظامِ زندگی یا نظام فطرت کا نمونہ ہے۔ جس طرح  تمام دنوں میںجمعہ کو ایک مرتبہ حاصل ہے  جس طرح عام لوگوں میں اولیائے کرام ،صحابہ کرام ،انبیائے کرام کو ایک الگ و مخصوص مقام حاصل ہے۔ جس طرح تمام انبیائے کرام میں آپﷺکوخاتم النبین اور سردارِانبیاء کا مقام حاصل ہے ، جس طرح تمام امتوں میںامتِ محمدی ﷺکو ایک خاص مقام حاصل ہے۔بالکل اسی طرح تمام مہینوں میں رمضان کو مخصوص مرتبہ حاصل ہے ۔اس ماہ میں نمازیں ،روزہ  دیگر عبادات ، کے ساتھ صدقہ و فطر کا الگ ہی مرتبہ ہے ۔ ان سب سے اہم اس ماہ مقدس میں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو نازل کیا ۔اور ساتھ ہی قدر والی رات لیلتہ القدر بھی مخصوص طور اسی ماہ مقدس نازل فرماتاہے۔جو ایک ہزار مہینوں سے افضل ہے۔اس ماہِ مقدس کی عظمت و بڑائی ہم کیا بیان کرسکتے ہیں۔جس میںرحمتوں اور برکتوںکا نزول اس قدر کہ انسان جس کا اندازہ بھی نہیں لگا سکتا  ۔لیکن مسلمان ہے مادہ پرستی کا شکار ہے۔ دنیا کو ہی سب کچھ سمجھ بیٹھا ہے۔اور حقیقت سے پرے عارضی چیزوں کے پیچھے پڑکر اپنی زندگی اور مستقبل دونوںبرباد کر رہا ہے۔
اقبال کا کلام دین کی جانب رغب کرتا ہے اور دلوں کو جھنجوڑدیتا ہے کہ ہم کیا ہیں۔اور ہمیںکیسے ہونا تھا ۔عملی زندگی  کے غازی کے بجائے بس گفتار و رفتار کے انسان ہوکر رہ گئے ہیںدین کو اپنی زندگیوں سے دور کردیا تو ناکامی و نامرادی ہماریا مقدر بن گئی۔
گونگی ہوگئی آج کچھ زباں کہتے کہتے
ہچکچا گیا  میں خود کو مسلمان کہتے کہتے
  یہ بات نہی کہ مجھے اس پہ یقین نہیں
بس ڈر گیا  خود کو صاحبِ ایمان کہتے کہتے
توفیق نہ ہوئی مجھے ایک وقت کی نماز کی
اور چپ ہوا موذن اذان کہتے کہتے
کسی کافر نے جوپوچھا یہ کیا مہینہ ہے
شرم سے پانی ہاتھ سے گرگیا رمضان کہتے کہتے
میری الماری میں گرد سے بھری کتاب کاجو پوچھا
میں گڑ گیا زمین میں قرآن کہتے کہتے
یہ سن کے چپ سادھ لی اقبالؔ اس نے
یوں لگا جیسے رک گیا وہ مجھے حیوان کہتے کہتے
 دورِحاضر کا مسلمان جس کو نہ نماز کی فکر ہے اور نہ روزے کی نہ ایمان کی عطمت سے واقف ہے اور  نہ مسلمان کے کردار سے  بس نام کا مسلمان  بن کر رہ گیا ہے کردار سے دور دور تک مسلمان نظر نہیں آتا۔
کس قدر تم پہ گراں صبح کی بیداری ہے
ہم سے کب پیار ہے ہاں نیند تمہیں پیاری ہے
طبع ِ آزاد پہ قیدِ رمضان بھاری ہے
تمہی کہدو یہی آئینِ وفاداری ہے
مسلمانوں میںنہ عشق ہے اور نہ اسلام سے لگائو بس دنیا کو ہی سب کچھ سمجھ بیٹھے ہیں ۔ اور ہمارے علماء بھی دین کی حقیقت سے واقف نہیں نہ مسلمانون کی سہی رہنمائی ہورہی ہے اور نہ واجب رہبری ۔نہ واعظ کی تقریر سے کچھ ہورہا ہے  بس مسجدیں صرف مرثیہ خوں ہوگئے ہیں۔ علامہ اقبال خاص کر علماء  اور ہمارے رہنمائوںسے بہت بیزار ہیں اور کہتے ہیں۔
خدا نصیب کرے ہند کے اماموں کو
وہ سجدہ جس میں ہے ملت کی زندگی کا پیام
واعظ قوم کی وہ پختہ خیالی نہ رہی
برق طبعی نہ رہی شعلہ مقالی نہ رہی
رہ گئی رسم ازاں روحِ بلالی نہ رہی
فلسفہ رہ گیا تلقین غزالی نہ رہی
مسجدیںمرثیہ خواں ہیں کہ نمازی نہ رہے
یعنی وہ صاحب اوصاف حجازی نہ رہے
علامہ کے بچپن کا ایک واقعہ بہت مشہور ہے کہ بچپن میں جب آپ تلاوت قرآن میں مصروف تھے تو والد صاحب آگئے۔اقبال سے پوچھا بیٹا کیا کر رہے ہو آپ نے کہا کہ ابا جان میں قرآن پڑھ رہا ہوں تو ان کے والد محترم نے یہ جملہ کہا جو حقیقت میںان کی زندگی بدل دیا وہ  جملہ یہ تھا کہ ـــ’’ اقبال قرآن ایسا پڑھو کہ جیساقرآن تم پر ہی اتارا گیا ہو‘‘ بڑا ہی غضب کا جملہ تھا ۔ اقبال کو ساری عمر اس کا احساس رہا ۔ایسا لگتا ہے کہ اس ایک جملے میں سمندر کی گہرائی اور آسمان کی بلندی کے مصداق معنویت موجود ہے۔ مطلب صاف ہے قران صرف رسما پڑھنے کے بجائے باریکی سے سمجھ کر پڑھا جائے غور و فکر کے ساتھ تلاوت ہو۔ اس طرح اقبال نے قرآن مجید کا بڑی گہرائی و گیرائی کے ساتھ ساری عمر مطالعہ کرتے رہے۔تہجد کے وقت قرآن پڑھنے کی عادت تھی ۔صبح سویرے ان کے گھر کے نوکر کا یہی کام تھا کہ وہ قرآن کو سویرے دھوپ میں سکھاتا۔ کسی نے پوچھا کہ روز قرآن کیسے بھیگ جاتا ہے تو بتا یا کہ تہجد میں علامہ اقبال جب قرآن پڑھتے ہیں تو ان کے آنکھوں سے جو آنسو نکلتے ہیں اس کی وجہ سے ہر روز قرآن بھیگ جاتا ہے ۔ اللہ و اکبر ۔ یہ عمل معمول تھا۔اقبال کی زندگی کے آخری لمحات  جو آپ بستر مرگ پر تھے ہر کوئی آکر صحت سے متعلق دریافت کرتا کہ اقبال کیسے ہو علامہ کا جواب بھی ایسا کہ کہتے ــ’’ کہ تہجد میں قرآن پڑھنے کا جو مزہ تھا وہ  مزہ اب نہ رہا‘‘ اللہ اکبر۔  اس طرح شاعری کی ابتدا ایسے ہوتی ہے  ان کا لکھا پہلا شعر
موتی سمجھ کے شانِ کریمی نے چن لئے
قطرے جوتھے مرے عرقِ انعفال کے
آپ نے شاعری کو گل وبلبل کے نغمے ،ہجر وصال کے دکھڑے ،محبوب کی وفا وبے وفائی کے ترانے سنانے کے بجائے معاملات زندگی کے لئے پیغام کاوسیلہ بنایا ۔ پہچان وپرکھ کا نمونہ بنایا اورقوم سے براہ راست جڑنے کاذریعہ بنایا ۔ بیکار اور فرسودہ چیزوں اور خیالات سے شاعری کو پاک رکھا۔ علامہ اقبال کی شاعری کے موضوعات انسانی اقدار، مومن کامل، خودی کی پہچان،عشق خدا،عشق رسول،فلسفۂ حیات وغیرہ ہیں ۔ آپ نے پرانے اور بیکار خیالات، رسومات اور مذہب کے نام پر دھوکہ دینے والوں کے خلاف بیباک لکھا۔ خرافاتی طرز عمل سے بچ کر دین کی راہ اختیار کرنے کی بات علامہ اقبال نے کی ۔ آپ دورِ حاضر کے امت مسلمہ کے اقوال ، اعمالاور افعال پر سخت چوٹ کرتے ہیں۔کیونکہ مسلمانوں نے ایسی راہ اختیار کرلی ہے کہ اللہ ربالعزت جس سے ناراض ہوتے ہیںاور اس کا انجام صرف تباہی و بربادی ہے ۔
حقیقت خرافات میں کھو گئی
یہ امت روایات میں کھو گئی
  علامہ اقبال نے شاعری سے پیغمبرانہ کام کیا اوراپنے فن سے اپنے جذبات وخیالات کا،فکر انگیز باتوں کوبذریعہ شاعری پیش کیا۔ ،تہجد کے وقت قرآن پڑھنے کی عادت تھی  اس طرح علامہ اقبال شاعر مشرق   وشاعر ملت کے طور پر پہچانے جانے لگے ۔ صحیح معنی میں علامہ اقبال کی پہچان سفر یورپ کے بعد ہی ہوئی اگر یوں کہاجائے تو بیجا نہ ہوگا کہ اقبال کواقبال یورپ نے بنایاہے۔جیسا جیسا وقت گذرتاگیا حالات بدلتے گئے اقبال کے ذہینی ارتقاء کی راہیں طویل ہوتی گئی اب اقبال صرف ہندوستان کی حد تک نہیں بلکہ سارے عالم ، عالم انسانیت ،عالم اسلام کی باتیں اپنے کلام میںبڑے ہی موثر انداز میں پیش کرنے لگے ۔اقبال انجمن حمایت اسلام کے سالانہ جلسوں میں اکثر شریک ہوتے وہیں چند مشہور ومعروف نظمیں لکھیں جن میں شکوہ،جواب شکوہ،ترانۂ ہندی،اور ترانۂ ملی شامل ہیں۔ 1914میں پہلی عالمی جنگ چھڑ گئی اس دورکے نظموں میں ’’خضر راہ‘‘ بڑی اہمیت رکھتی ہے۔ نظم ’’طلوع ِاسلام ‘‘ لکھ کراقبال نے ساری امت مسلمہ کو غور وفکر کرنے پر مجبور کردیایہ نظم اسلامی تاریخ کی بہترین نظموں میں شمار ہوتی ہے۔ علامہ اقبال کی شاعری دراصل احکام الہٰی ،شریعت محمدی، طریقۂ صحابہ کادرس دیتی ہے۔جس کی ضرورت ہندوستان اور دنیا کے مسلمانوں کوان کے دور میں بھی تھی اور آج بھی ہے ۔ اور انشاء اللہ آئندہ بھی رہے گی۔علامہ اقبال مثنوی مولاناروم اور مولانا روم کی زندگی سے بے حد متاثر تھے ۔
اقبال امت مسلمہ کو حضور ﷺ پر محبت وقربانی کاایسا درس دیتے ہیں کہ دو مصرعوں میں زندگی کی حقیقت ہی بیان کردی ۔
کی محمدؐ سے وفا تونے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح وقلم تیرے ہیں
چودہ سوسال سے حرام وحلال کی تمیز سنتے پڑھتے آئے ہیں ۔ اس پر آشوب دور میں یہود ونصاریٰ کی چالاکیاں ،مکاریاں،حرام کو حلال بناکر پیش کرنے کا طریقہ ٔ کار اور اس میں امت مسلمہ کس قدر ملوث ہوگئی ہے بس ایسی چیزوں سے باہر نکلنے کی ضرورت ہے۔
اے طائر لاہوتی اس رزق سے موت اچھی
جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی
ظاہرمیں تجارت ہے حقیقت میں جوا ہے
سود ایک کا لاکھوں کیلئے مرگ مفاجات
علامہ اقبال امت مسلمہ کو زندگی کس طرح گزارنی چاہیے خاص کر نوجوانوںکوبڑے خوبصورت انداز میںلکھتے ہیں ۔لندن میں اپنے بیٹے جاوید کالکھا خط موصول ہونے پر ’’جاوید کے نام‘‘ ایک نظم لکھتے ہیںجاوید علامہ اقبال کے فرزند تھے علامتی طور پراقبال نے فرزندان ِ ملت ِ اسلامیہ کے لئے یہ خاص پیغام دیاہے۔
دیارعشق میں اپنا مقام پیدا کر
نیا زمانہ نئے صبح وشام پیدا کر
میرا طریق امیری نہیں فقیری ہے
خودی نہ بیچ غریبی میں نام پیدا کر
اس کے علاوہ علامہ اقبال کی بہترین نظموں میں ساقی نامہ ذوق وشوق،نوجوان مسلم سے خطاب،روح ارض آدم کا استقبال کرتی ہے۔ جبرئیل وابلیس ،ابلیس کی مجلس ِ شوریٰ ،شکوہ جواب شکوہ ، مسجد قرطبہ،طلوع اسلام وغیرہ ہیں۔غرض کہ اقبال نے  اپنی شاعری کے ذریعے اسلام اور اسلام کی باتوں کو بری ہی نفاست  اور فنکاری کے ساتھ پیش کیا ۔
  علامہ اقبال کاپیغام امت مسلمہ کویہ ہے کہ وہ ہمیشہ حق پر رہے شاہین پرندے کے مصداق زندگی گذارے شاہین پرندہ جس طرح اونچی اُڑان اُڑ تاہے درختوںاور عمارتوںکے بجائے اونچے پہاڑوں پر بسیرا کرتاہے اس طرح مومن کوہمیشہ وسعت نظری ،یقین کامل،مومن کامل بن کردنیاجہاں میں فتح پانا ہے۔ آپ کا کلام ولولہ پیدا کرتا ہے روح کو بیدار کرکے عمل کا غازی بناتاہے ۔
توشاہین ہے پرواز ہے کام تیرا
تیرے سامنے آسماں اور بھی ہیں
نہیں تیرا نشیمن قصر سلطانی کی گنبد پر
تو شاہین ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں
اور ساتھ ہی مومن کی پہچان اس طرح ہوکہ آپ لکھتے ہیں
خودی کوکر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
اپنے من میں ڈوب کر پاجا سراغ زندگی
تواگر میرا نہیں بنتا نہ بن اپنا تو بن
سبق پھر پڑھ صداقت کاعدالت کاشجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا
یقیں محکم عمل پیہم محبت فاتح عالم
جہاد زندگانی میں ہیںیہ مردوں کی شمشیریں
 بقول رشید احمد صدیقی اپنی تصنیف گنجہائے گرانمایہ میں لکھتے ہیں۔
’’ اقبال دوسروں کے نزدیک کیسے ہی کچھ ہو میرے لئے تو وہ بہت کچھ تھے ۔میں تو یہاں تک سمجھتا ہوں کہ بہت سے مقامات پر وہ خود اپنے آپ کو بہت پیچھے چھوڑ گئے ہیں۔ اگر یہ شاعری ہے تو پیمبری کیا ہے ؟ اور یہ پیغمبری ہے تو شاعری کاکیا درجہ ہے۔؟ ۔
  ایک بات سب سے اہم ہے کہ آپ نے فارسی میں زیادہ اور اردو میں کم لکھا لیکن جتنا لکھا صدیوں کی غفلت سے جگانے کیلئے کافی ہے۔ آج علامہ اقبال کے فکر و نظر سے سوچینے کی ضرورت ہے۔
  قریب ایک ہزار سالوں کی رسوائی ناکامی اور بزدلی کا احساس دلاتے ہوئے یہ بتایا کہ ایمان کیا ہے اور مسلمان کسے کہتے ہیں ۔ اقبال کی سب سے بڑی اور اہم خوبی یہ رہی کہ آپ نے قرآن مجید کا اتنا گہرائی سے مطالعہ کیا کہ دنیا وہ آخرت کے ایک ایک کرکے راز کھلنے لگے۔ دینِ اسلام دراصل دینِ فطرت  کے حقائق سامنے آتے گئے۔
اللہ رب العزت  اپنے بندوں کیلئے اتنا بے چین ہے کہ وہ کسی نہ طرح بہانہ دیکھتا ہے کہ بندہ سیدھی راہ پر آجائے اوراپنے کئے ہوئے گناہوں سے پشیمان ہوکر معافی طلب کرلے ۔اللہ معاف کرنے کے تیار ہے لیکن ہم ہیں گناہوں کے دلدل میں پھنستے جارہے ہیں۔رمضان جیسی سعادتین اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لئے پیش کئے ہین جس میں ایک نیکی کا بدل ستر گناہ زیادہ ہے ۔ دنیا کا کوئی آفر اس طرح نہیں  ہوتا کہ ایک کا ستر دیدے۔پھر بھی مسلمان ہے کہ رمضان جیسی عطیم المرتبت نعمت کو بھی سنجیدگی سے نہیں لیتا۔
بے زبان کو جب وہ زبان دیتا ہے
پڑھنے کو وہ پھر قرآن دیتا ہے
بخشنے پہ آئے جب امت کے گناہوں کو
تحفے میں گناہگاروں کو رمضان دیتا ہے
  مسلمان اپنے آپ کو پہچاننے کی ضرورت ہے ۔وقت اور حالات اسقدر سخت اور ڈرائونے  ہوتے جارہے ہیں یہ سب ہماری نادانیوں ، کمزوریوں، اور غفلتوں کا نتیجہ ہے ۔اللہ تعالیٰ کو ہم نے بہت ناراض کیا ہے ۔بس دین کو جان کر سمجھ کر ماہ مقدس کی اہمیت  وعظمت جان کر اپنی زندگیوں کو اللہ کے حکم اور رسولﷺ کیلئے طریقے پر گزارنے کی ضرورت ہے اس کے علاوہ اور کوئی چارہ ہی نہیں۔علامہ اقبال نے نہ صرف رمضان بلکہ ہرگھڑی اور ہر لمحہ کی قدر کرتے ہوئے اپنے اعمال اور اوصاف کو سدھارنے کی تلقین اپنی شاعری کے ذریعے کی ہے۔اور یہ باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ اللہ کی رضاء ہی زندگی کی حقیقی کامیابی ہے۔ بس سچا اور پکا مسلمان ہوجائے تقدیر ہی تدبیر بن جائے گی۔تب اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اے بندے بتا تیری رضاء کیا ۔
عقل ہے تیری سپر عشق ہے شمشیر تری
میرے درویش خلافت ہے جہانگیر تری
ما سوا اللہ کیلئے آگ ہے تکبیر تری
تو مسلمان ہو تو تقدیر ہے تدبیر تری
کی محمد ؐسے وفا تونے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح وقلم تیرے ہیں