رُکنِ کونسل کی ضمانت پر تعلق سے سدارامیا کے ہاتھ مضبوط کرنے سے ملت کے مفادات کا تحفظ یقینی ہوسکتا ہے: سنتے بنور کے اعجاز احمد
چنگیری:۔تعلقہ کے لئے جیسے ہی کانگریس اور بی جے پی سے اُمیدوار ں کے نام کا اعلان ہوا ،جبکہ جنتادل یس پہلی فہرست میں چنگیری سے اُمیدوارکے نام کا اعلان ہوچکا ہے،اس کے بعد تعلقہ میں بہت ساری سیاسی تبدیلیاں وقعو پذیر ہونے لگی ہیں ،ان میں سابق رکنِ اسمبلی وڈنال راجنا کے بھتیجے وڈنال اشوک کی جانب سے آزادانہ طور پر یا پھر کسی پارٹی کی جانب رخ کرنے کے امکانات ظاہر ہونے لگے ،دوسری جانب سابق وزیر اعلیٰ آنجہانی جے ہیچ پٹیل کی فیملی سے اُن کے بھائی کے بیٹے بسواپٹن حلقہ کے ضلع پنچایت رُکن تیجسوئی پٹیل نے بھی کانگریس پارٹی اُمیدواری کے دعویدار رہے جنہوں نے اس مرتبہ کسی بھی سورت میں الیکشن میں لینے کا عزم ظاہر کیا تھا ،اور جنتادل سے اعلان شدہ نام میں تبدیلی کے امکانات دیکھے جارہے ہیں ،تیجسوئی پٹیل کا نام جنتادل یس سے سامنے آنے کے امکا نات پائے جارہے ہیں ،ایک اور جانب رُکنِ اسمبلی ماڈال ویروپاکشپا جو اس وقت بدعنوانی کے سلسلہ میں لوک آیکتہ کی تحقیقات جھیلتے ہوئے جیل میں ہیں اُن کے فرزند ماڈال ملیکارجن بی جے پی ٹکٹ کے لئے ایڑی چوٹ کا زور لگائے ہوئے تھے جیسے ہی بی جے پی سے ہیچ یس شیو کمار کے نام کا اعلان ہوا ،اُن کے حامیوں کی جانب سے ایک بڑا اجلاس اُن کے فارم ہاؤس میں منعقد کیا گیا، ابھی بات چل رہی تھی اور حامیوں کی جانب سے پُر زور مطالبہ کیا جارہا تھا کہ آزادانہ طور پر میدان میں اُترین اتنے میں ایک فون کال آتے ہی سارے معاملات کو چھوڑ کر ماڈال ملیکارجن نے پارٹی سے وفاداری اور سنگھ پریوار سے اپنی بے انتہاء محبت کا اظہار کردیا،پھر راتوں رات بُلساگر سید کلیم کو اُن کے حامیوں نے آزادانہ طور پر الیکشن میں حصہ لینے کی مانگ کرتے ہوئے سوشیل میڈیا پر پوسٹر س وائرل کئے جس پر تعلق کے مختلف قریوں کے مسلم عوام کاعآلیہ پیالیس نلورمیں بعدِنمازِ جمعہ چنگری تعلق انجمن صدر احمد جان عرف بابو کی صدارت میں ایک اجلاس منعقد ہوا ،جس میں کیرےبلچی ، چنگیری ،ہُنے باگی ، سنتے بنور ،کرے کٹہ ،نگے ہلی،نلور ، بُلساگر،اگر بنے ہٹی، تاوریکرے،گالے ہلی وغیرہ قریوں سے مساجد مدارس و ملی اداروں اور سیاسی پارٹیوں سے وابستہ مسلمان شریک رہے ، تلاوتِ کلامِ پاک سے اجلاس کے آغاز کے بعدایک کے بعد دیگر بہت سارے لوگوں نے اپنے اپنے مشورے پیش کئے ،جس میں داونگیرے ضلع کانگریس نائب صدر امان اُللہ چنگیری نے سید کلیم اُللہ کو سمجھاتے ہوئے کہا کہ اگر پہلے سے محنت ہوتی تو کوئی بات نہیں تھی اچانک اس طرح کے فیصلہ سے خود کو قوم کو دونوں کو نقصان کا اندیشہ رہتا ہے ،اس میں کوئی دورائے نہیں کہ ہمارے ووٹوں کی تعداد بھی کم نہیں ہے ،ملک و ریاست کے معاملات الگ مگر ہمارے تعلق کے حالات بالکل برعکس ہیں یہان ہم لوگ سب دوسرے کے تین بھائی چارے کےساتھ زندگی گذار رہے ہیں یہان کے غیر مسلم بھائی بھی اتنے تنگ نظر نہیں کہ کسی مسلمان کو ہم کیونکر ووٹ دین ایساء معاملہ بھی نہیں ہے،بس ہمیں پہلے سے تیاری کرنی چاہیئے تھی وہ نا کرسکےایساء ہی اس سے پہلے بھی دو مرتبہ کانگریس پارٹی سے ٹکٹ حاصل کرنے والوں کوبغیر تیاری کے میدان میں اُتر نے سےناکامی کا منہ دیکھنا پڑا ،اب ایساء نہیں ہونا چاہیئے،کرے کٹے جامعہ مسجڈ کمیٹی صدر سید سمیع اُللہ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس مرتبہ چنگیری سے شیوگنگا بسوراج کو کانگریس پارٹی سے اُمیدوار بنایا گیا ہے مگر اُمیدوار کا تعلق میں سینئرمسلم کانگریسیوں سے کوئی رابطہ نہیں ہے ،ایسے میں پارٹی کو نقصان ہونے کا خدشہ بھی رہتا ہے جنتادل یس اُمیدوار کی تبدیلی کے بعد پیدا ہونے حالات میں سکیولر ووٹ بٹنے کے امکانات بھی رہتے ہیں ،اورکانگریس اُمیدوار کی کامیابی کے بعد قوم کے مسائل کے حل کے تعلق سےاُمید بھی معدوم نظر آرہی ہے ، اِن حالات میں ہم سب کو بہت سوچ سمجھ کر فیصلے لینے کی ضروروت ہوگی،منصور بیگ نے کہا کہ اسی مقصد کے تحت تعلق میں انجمن کا وجود عمل میں لایا گیا تھا جس کے وجود کا مقصد ہم نے سمجھا نہیں اگر انجمن کے قیام کا مقصد سمجھتے اور مقصد کے تحت کام کیا گیا ہوتا تو آج تعلق میں مسلم قیادت اُبھر کر سامنے آتی ، اب بھی وقت ہے آئندہ انجمن کے وجود کو برقرار رکھتے ہوئے اس کے مقصد پر عمل کرتے ہوئے کا م کریں گے اور قوم میں اتفاق و اتحاد کو برقرار رکھنے میں سب ایک دوسرے کو برداشت کرنے لگیں تو یقینی طور پر کسی بھی پارٹی سے ٹکٹ حاصل کرنا مشکل نہیں ہوگا،صحافی الطاف رضوی ،کنڑا صحافی اسلم شیخ ،سابق گرام پنچایت چیرمن ہُنے باگی محمدذبیع اُللہ ،امتیاز بیگ ،وغیرہ نے بھی اپنے مشوروں پیش کئے ،سنتے بنور جامع مسجد کمیٹی صدر ‘کے اعجاز احمد ‘ نے کہا کہ ہمارے سامنےاُمیدوار میدان میں ہیں ،کوئی بھی ہمارے ملی مفادات کےتحفظ سے متعلق مخلص ہو یہ کسی سورت یقین سے الگ بات ہےاور اس وقت ریاست میں فرقہ پرستوں کی جانب سے جب بھی مسائل پیدا کئے جاتے ہیں تب سینہ سپر ہوکر ہمارے ساتھ کھڑے رہنے والے سیاسی لیڈر سدارامیا کے ہاتھ مضبوط کرنے کا وقت ہے علاوہ تعلق میں بھی ملت کو بہت سارے مسائل درپیش ہیں ضروری ہے کہ تعلق سطح ایک کمیٹی کے ساتھ ضلع میں ایک مسلمان یم یل سی اور کے پی سی سی شعبہ اقلیت کے چیرمن عبدالجبار کی شخصیت بھی ہے لہذاء یم یل سی کی ضمانت پر ہمیں چنگری تعلق سے سدارامیا کےہاتھ مضبوط کرنے میں ملت کے مفادات کا تحفظ ہونے کے امکانات ہیں لہذاء سید کلیم سےتعلق کے جملہ مسلمانوں کی جانب سے یہی کہنا مناسب سمجھوں گا کہ اس مرتبہ فسطائی طاقت کو شکست دینے کے لئے کسی سورت انتخابی میدان میں نا اُترین اور اس الیکشن کے بعد ایک اجلاس کے ذریعہ نامزد فرد آئندہ کی تیاری شروع کرے اگلی مرتبہ تعلق کاہر مسلمان قوم کے فرد کو پارٹی سے ٹکٹ کیلئے انتھک کوشش کریگا،اور اس مرتبہ کانگریس اُمیدوار کی کامیابی کے امکانات روشن ہیں جو ایک خوش آئند پہلو ہے ،چنگری سے کانگریس اُمیدوار کی ذمہ داری ہے کہ وہ رُکنِ کونسل کے عبدالجبار کو اعتماد میں لے اور تعلق میں عبدالجبار قوم و ملت کے مفادات کے تحفظ کی ضمانت لیں تب اس مرتبہ کانگریس کو ہی ووٹ دیں تا کہ ہم چنگیری سے سدارامیا کے ہاتھ مضبوط کر سکیں ،اجلاس میں بُلساگر سید کلیم،ضلع وقف کمیٹی نائب چیرمن کے سراج احمد،متولی جامع مسجد کمیٹی چنگری فاضل احمد ، سابق گرام پنچایت چیرمن کیرےبلچی ہدایت اُللہ خان،کیرے بلچی گرام پنچایت ممبر ہُنے باگی محمد اسلم،محمد فیع اُللہ ،محمد نجیب اُللہ امراوتی،عتیق احمد ،سید عرفان ،بی محمد نوشاد،کے الطاف حُسین،مدرس ظہیر احمد خان نلور، سید محبوب کرےکٹے وغیرہ شریک رہے ،شرکائے اجلاس کے مشوروں کے بعد صدرِاجلاس احمد جان عرف بابو نے شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس موقع پر بہت سارے معاملات سامنے آئے اس طرح سے ہم دوسرے کے ساتھ مل بیٹھتے رہیں گے تو تعلق میں ملت کو درپیش مسائل کا ذمہ داروں کو علم ہوگا اور اُن کے حل کے تعلق سے سنجیدہ کوشش کرنے میں سب ایک دوسرے کے معاؤن بنیں گے ورنہ صرف الیکشن کے موقعوں پر جمنے سے اور اجلاس منعقد کرنے سےقوم میں قوم کےذمہ داروں کی شبیہ خراب ہوگی ،لہذاآج کی یہ نشست تعلق میں ملی مسائل سے متعلق ایک سنجیدہ نشست ہوئی جو ایک خوش آئند اقدام کے طور پر کارگر ثابت ہوگی اور کارگر ثابت کرنے کی ہم سب کو کوشش کرنی ہوگی ،اگلی نشست بہت جلد منعقد ہوگی اس موقع پر ایک نتیجہ پر پہنچ کر سب کو اعتماد میں لے کر اگلا قدم آٹھا یا جائے گاجو بھی کرنا ہوگا سب ایک دوسرے سے تعلق کے ہر مسلمان سے مشورہ کرنے کے بعد ہی کیا جائیگا مسلمانوں سے مشورہ کئے بغیر اگر کوئی کچھ کرتا ہےتو یہ اُس کااپنا انفرادی معاملہ ہوگا نا کہ ملت سے جُڑاہو ا ،دُعا کے ساتھ نشست برخواست افطاری کے بعد سب اپنے اپنے قریوں کو واپس ہوئے ، اب دیکھنا ہے آئندہ نشست میں کیا اقدام اٹھایا جائے گا اور کانگریس اُمیدوار کو جو اشارے یہان سے دئے گئے ہیں اُن پر اُمیدوار کی جانب سے کس حد تک عمل ہوگا یا پھر یونہی سینئرمسلم کانگریس لیڈروں سے دوری بنائےرکھ کر ملت کے مفادات تحفظ کے تعلق سے عدم استحکام کی راہ پر عمل ہوگا ، آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا ۔
