بنگلورو:۔بجلی،پٹرول ڈیزل اور رسوئی گیس کی قیمتوں کومن چاہے اور من مانے طریقے سے بڑھائے جارہے ہیں،لوگ پہلے ہی کورونا کی وجہ سے پریشان ہیں،لاک ڈائون نے ان کی روزی روٹی چھین لی ہے اور پھر قیمتوں میں اضافہ کرنا عام لوگوں کی زندگی پر پتھر ڈالنے کے برابرہے۔اس بات کااظہار سابق وزیر اعلیٰ سدرامیا نے کیاہے۔انہوں نے آج یہاں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہاکہ وزیر اعظم نریندرمودی نے جن اچھے دنوں کی بات کہی تھی کیا وہ یہی اچھے دن ہیں؟،بجلی کی قیمتوں میں ریاستی حکومت نے پچھلے ایک سال میں30 فیصد اضافہ کیاہے،یہ تاریخی بات ہے،اس سے پہلے کسی بھی حکومت نے اتنے بڑے پیمانے پر بجلی کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کیاتھا۔من موہن سنگھ جب وزیر اعظم تھے تواُن کے دورِ حکومت میں صرف ایک روپئے کا اضافہ پٹرولیم اشیا پر اُس وقت کیاگیاتھا۔موجودہ وزیر اعظم نریندرمودی گجرات کے وزیراعلیٰ تھے،انہوں نے ساری ریاست کو بند کرواکر احتجاج کیاتھا۔اس وقت ریاست میں پٹرول کی قیمتیں 100 روپئے سے تجاویز کرتی جارہی ہیں،باوجود اس کے حکومت نت نئے بہانے بنا کر عوام کے سامنے مزید پریشانیاں کھڑی کررہی ہے۔سدرامیا نے مزید بتایاکہ ریاست میں اس وقت بجلی کی پیداوار بہترہے،باوجود اس کے ریاستی حکومت ادھانی کمپنی سے بجلی خریدتے ہوئے رشوت خوری ومنافع بازاری کو بڑھاوادے رہی ہے۔کوروناکے ان سنگین حالات میں لوگوں کو راحت دینے کے بجائے حکومت نے قیمتوں میں اضافہ کرتے ہوئے عام لوگوں کومزید مشکلات میں کھڑاکیاہے۔من موہن سنگھ نے اپنے دورِ حکومت میں قیمتی تیل لیکر بھی لوگوں پر بوجھ نہیں ڈالاتھا،جس وقت وہ وزیر اعظم تھے تو بین الاقوامی بازارمیں کچے تیل کی قیمت125 ڈالر تھی،باوجود اس کے کبھی بھی انہوں نے عام لوگوں پر اس کا بوجھ پڑنے نہیں دیا۔جبکہ اس وقت کچے تیل کی قیمت صرف45 ڈالر ہے ،لیکن عام لوگوں کو اس کم قیمت کا فائدہ نہیں ہورہاہے۔پٹرول وڈیزل کے ٹیکس پر سال14-2013 میں 45.3 روپئے اور 25.9 روپئے تھا،اب84.31 روپئے اور98.32 روپئے کا ٹیکس وصولاجارہاہے،جبکہ ریاستی حکومت پٹرول کی قیمت پر35 فیصدکا ٹیکس اور ڈیزل پر24 فیصد کا ٹیکس وصول کررہی ہے۔گیس سلنڈر 414 روپئے تھا،اب اسے بڑھا کر 800 روپئے کردیا گیا ہے،کیا یہی اچھے دن ہیں ؟ ۔ بڑھتی ہوئی قیمتوں کے خلاف احتجا ج کرنے کیلئے پارٹی ہائی کمان نے5 دنوں کا احتجاج کرنے کیلئے صلاح دی ہے،لیکن کوروناکی وجہ سے خاموشی اختیار کی گئی ہے،اسی خاموشی کو مودی حکومت نے کمزوری سمجھ رکھاہے۔اس موقع پر سدرامیانے مزیدکہاکہ حکومت نے مسجدوں ومندروں کے مذہبی پیشوائوں کو جو مالی امدادینے کا فیصلہ لیاہے وہ اگلے لاک ڈائون کے خاتمے تک جاری کئے جائیں۔
