از:۔ عبدالجلیل القاسمی چنئی۔9042957806

حدیث مبارک میں ہیکہ آقا ﷺ نے فرمایا مامن عبد صلَّ علیَّالاّّ خرجت الصلاة من فیہ مسرعة۔جوشخص مجھ پر درود بھیجتا ہے وہ درود پاک بہت جلد اس کے مونہہ سے نکل کر دریاوں ، جنگلوں اور مشرق و مغرب س گزرتاہوا یہ کہتا جاتا ہے کہ :میں فلاں بن فلاں کا درود ہوں کہ اس نے محمد ﷺ پر بھیجا ہے،: بس یہ بات سنتے ہی تمام مخلوق اس شخص پر درود بھیجنا او اس کیلئے رحمت طلب کرنا شروع کردیتی ہے ۔
بعض روایتوں میں آتا ہے کہ ساق عرش پر لکھا ہوا ہیکہ جو میرا مشتاق ہو میں اس پر رحم کرتا ہوں اور جو مجھ سے سوال کرے میں اسے دیتا ہوں ار جو شخص میرٕے حبیب ﷺ پر درود پڑھ کر میرا قرب چاہے تو میں اس کے گناہ بخش دیتا ہوں خواہ وہ سمندر کی جھا گ کے برابر کیوں نہ ہو ( دلائل الخیرات )
درود پاک پڑھنے کی وجہ سے اگلے پچھلےگناہ معاف ہوجاتے ہیں
حضرت انسؓ سے روایت ہیکہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا جب دوست آپس میں مںلتے ہیں اورمصافحہ کرتے ہیں اور رسول اکرم ﷺ پر درود پاک پڑھتے ہیں تو ان دونوں کے جدا ہونے سےپہلے پہلے اگلے پچھلے گناہ بخش دئیے جاتے ہیں۔(نزھۃ الناظر ین )
درودپاک کا ثواب احد پہاڑ کے برار
شیرِ خدا حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو مجھ پر درود پڑھے گا اسے خدائے تعالیٰ قیراط کے برابر ثواب دے گا ۔(قیراط کی مقدار احد پہاڑ کے برابر ہے ) مسند عبدالرزس ۔۔۔
درود پاک کی برکت سے شہدا کے ساتھ معاملہ
آپ ﷺ سے مرفوعاً روایت ہیکہ جو مجھ پر ایک بار درود بھیجے گا ۔اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل فرما ۓ گا ۔اور جو مجھ پر دس مرتبہ درود بھیجےگا اللہ تعالی اس پر سو رحمتیں نازل فرمائیگا ۔ جو مجھ پر سو مرتبہ درود بھیجے گاتو اللہ تعالیٰ اس کے دونوں آنکھوں کے درمیان نفاق اور جہنم سے برأت لکھ دیگا اور اسے شہدائے کرام کے ساتھ رکھے گا ۔ (طبرانی )
درود پاک کی برکت سے جہنم سے نجات اور نفاق سے برا ت
حضرت امام طبرانیؒ نےاوسط میں نبی پاک ﷺ کی ایک اور حدیث بیان فرمایا جو شخص مجھ پر درود پڑھتا ہے اس کی پیشانی پر لکھدیا جاتا ہے کہ یہ شخص آج سےنفاق سے بری اور پاک ہو گیا اور اسے دوزخ کے عذاب سے نجات مل گئی ہے اور یہ شخص میدان محشر میں شہدا کے مجمع میں اٹھایا جائیگا ۔( طبرانی ) :
حضرت علیؓ سے مرفوعاً روایت ہیکہ جو شخص سو مرتبہ درود پا پڑھے گا اس کی سو ضرورتیں پر ہوگی ۔ابو غسّان مدنیؒ نے بیان کیا کہ جو شخص رسول پاک ﷺ پر ہردن سو مرتبہ درود پڑھے گا گویا اس نےسارا دن ساری رات عبادت کیا ہے ۔(القول البدیع )
درود پاک پڑھنے والا عرش کے سایہ میں ہوگا
علّامہ سخاویؒ نے ایک حدیث میں رسول کریم ﷺ کا یہ اشاد نقل کیا ہے کہ تین آدمی بروزِ قیامت اللہ کے عرش کے سایہ میں ہونگے ۔اس دن سوائے اللہ کے سایہ کے کوئی اور سایہ نہ ہوگا ۔ایک وہ شخص جو کسی مصیبت زدہ کی مصیبت ہٹادے ۔دوسرا وہ شخص جو میری سنت کو زندہ رکھے۔ تیسرا وہ شخص جو مجھ پر کثرت سے درود بھیجے ۔ علّامہ سخاویؒ نے قوّۂ القلوب سے نقل کیا ہے کہ کثرت کی کم مقدار تین سو مرتبہ ہے اور حضرت شیخ الحدیث مولانا زکریاؒ نے اپنی کتاب فضائلِ درود شریف میں نقل کیا ہے کہ حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ بھی اپنے مریدوں کو تین سو مرتبہ درود شریف بتلایا کرتے تھے ۔ علما نے حدیثِ مذکور کی بناپر فرما یا ہیکہ قیامت کے دن رسول اکرم ﷺ کے سب سے زیادہ قریب حضراتِ محدثین ہونگے ۔کیونکہ ان حضرات کا دن رات کا مشغلہ حدیثِ رسول بیان کرنا اور لکھنا ہے ۔جس میں بار بار آقا ﷺ کا نام مبارک ﷺ آتا ہے اور ہرمرتبہ آقا ﷺ کے نامِ مبارک یہ محدثین حضرات ﷺ پڑھتے ہیں اور لکھتے ہیں ۔
دنیا میں قیامت تک حدیثِ رسول ﷺ بڑھ کر اونچا مشغلہ کوئی نہیں
حضرت حکیم الامت مولانا تھانویؒ نے زاد السعید میں روایتِ طبرانی کے مطابق رسول اکرم ﷺ کا یہ ارشاد نقل کیا ہیکہ جو شخص مجھ پر درود بھیجے یا کسی کتاب میں لکھے تو ہمیشہ فرشتے اس آدمی پر درود بھیجتے رہینگے ۔ جب تک اس کتاب میں میرانام رہیگا ۔سبحان اللہ ۔
