از:۔حافظؔ کرناٹکی

کسی بھی قوم اور باالخصوص ملّت کا شیرازہ اس وقت تک نہیں بکھرتا ہے جب تک اس ملّت اور قوم میں علم و آگہی، فکر ودانش، تفکر و تدبر، سیاست و حکومت ، روایت و جدت، روحانیت و مادیت کی کنہہ کو سمجھنے والی شخصیات موجود رہتی ہیں۔
امت مسلمہ کی بڑی خوش نصیبی ہے کہ اللہ اپنے فضل و کرم سے ہر صدی میں اسے ایسی مایہ ناز، قابل قدر، لائق احترام، اور معتبر شخصیات سے نوازتارہا ہے، سچ پوچھیے تو ایسی ہی مایہ ناز شخصیات کے علم و حلم، تفکر و تدبر اور وسعت نظری وبصیرت افروزی کی برکت سے اس دور ابتلامیں بھی اس کی شیرازہ بندی کے امکانات وآثار زندہ و تابندہ ہیں۔ مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ اس صدی میں اس طرح کی کئی شخصیات سے یہ امت محروم ہوچکی ہے جس میں مولانا وحیدالدّین خانؒ، مفتی ظفیرالدّینؒ، مولانا ولی رحمانیؒ مولانا عثمان منصور پوریؒ وغیرہم کے نام بہت ممتاز اور نمایاں ہیں۔ ابھی ملّت اسلامیہ ان شخصیات کے غموں سے نڈھال ہی تھی کہ ایک جانکاہ خبر آئی کہ مفکر ملّت حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی ؒبھی اللہ کو پیارے ہوگئے۔ آج کے دور کے تناظر میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ مولانا رابع صاحبؒ باقیات الصالحات کے آخری وارندوں میں سے ایک تھے۔ اللہ نے یقینا ان کو لمبی عمر عطا کی اور انہوں نے تقریباً سات دہائیوں تک قوم وملّت کی خدمات کے فرائض انجام دیے اور ترانوے سال کی عمر میں ۱۳؍اپریل ۲۰۲۳ء کو اپنے مالک حقیقی سے جاملے۔
مولانا محمد رابع حسنی ندویؒ صاحب حضرت مولانا علی میاں صاحب کے بھانجے تھے۔ وہ یکم اکتوبر ۱۹۲۹ء میں رائے بریلی میں تکیہ کلاں میں پیدا ہوئے اور ان کی تعلیم کا آغاز مکتب سے ہوا۔ بعد ازاں انہوں نے ندوۃ العلماء لکھنؤ میں اپنی تعلیم مکمل کی۔ انہوں نے ۱۹۴۷ء میں ایک سال دارالعلوم دیوبند میں بھی گذارا اور تبلیغی جماعت کے بانی مولانا الیاس کاندھلوی ؒسے بھی ان کے بہت گہرے تعلقات تھے۔ انہیں اردو اور عربی زبان پر یکساں قدرت حاصل تھی۔ ان کا تعلیمی سلسلہ مکتب سے شروع ہو کر ۱۹۴۹ء میں ندوۃ العلماء لکھنؤ میں مکمّل ہوا۔ اور پھر وہ اسی مدرسہ میں مدرس کی خدمات انجام دینے پر مامور ہوئے۔ اپنی لیاقت قابلیت اور عربی زبان پر مہارت کی وجہ سے ۱۹۵۵ء میں عربی شعبہ کے صدر مقرر ہوئے۔ اور ۱۹۷۰ء میں ندوۃ العلماء کے ڈین مقررہوئے۔ بہ حیثیت ڈین ان کی انتظامی صلاحیتوں نے نہ صرف یہ کہ سبھوں کو متأثر کیا بلکہ ندوۃ العلماء کو قابل قدر ترقی بھی ملی، اس لیے ۲۰۰۰ء میں انہیں ندوۃ العلماء لکھنؤ کا ناظم مقرر کیاگیا۔
چوں کہ مولانا رابع حسنی ندویؒ کا علمی مرتبہ بہت بلند تھا اور تعلیم و تدریس کے وہ ماہر سمجھے جاتے تھے، باالخصوص دینی تعلیم کے میدان میں ان کی قابلیت سند کا درجہ رکھتی تھی اسی لیے انہیں دینی تعلیمی کونسل کا صدر منتخب کیا گیا اور یہاں بھی انہوں نے اپنی فراست کا بھرپور ثبوت پیش کیا۔ عربی زبان پر مہارت رکھنے کی وجہ سے اور اپنی تعلیم کے ہر شعبے سے واقف ہونے اور ساتھ ہی ساتھ زبان و ادب کا ستھرا ذوق رکھنے کی وجہ سے انہیں رابطہ عالم اسلامی کے نائب صدر کے لیے منتخب کیاگیا۔ اور سچ پوچھیے تو ان کے صدارت کے عہدے کو قبول کرنے کے بعد رابطہ عالم اسلامی اور ادب اسلامی نے ایک خاص طرح کی پہچان بنائی۔ اور غالباً پہلی بار کھلے انداز میں ادب اسلامی پر گفتگو کا آغاز ہوا اور سالم ادب اور اسلامی ادب کی اہمیت وافادیت کا اعتراف کیا گیا۔ مجھے لگتا ہے کہ انہیں مجھ سے جوانسیت تھی اور وہ مجھ پر جو شفقت فرماتے تھے اس کی وجہ بھی میرا اسلامی ادب تھا۔
میری کتابیں منظوم سیرت النبی ’’ہمارے نبیؐ‘‘، ’’ذکر نبیؐ‘‘ اور میری حمدوں اور نعتوں کی وجہ سے وہ مجھے عزیز رکھتے تھے۔ مگر میں یہاں پر ان کی شفقتوں کا زیادہ ذکر نہیں کرناچاہتا جس سے وہ مجھے نوازتے تھے۔ وہ علم دوست اور ادب دوست بزرگ اور مقدس ہستی تھے۔ ملّت کی شیرازہ بندی، اور اس کے شرعی مسائل پر ان کی بہت گہری نظر تھی اسی لیے انہیں مسلم پرسنل لاکا صدر قاضی مجاہدالاسلام قاسمی ؒ کے انتقال کے بعدبنایا گیا وہ چھ بار مسلم پرنسل لاکے صدر منتخب ہوئے۔ وہ حیرت انگیز شخصیت کے مالک تھے۔ ان کا علمی قداتنا بڑا تھا کہ سبھوں کو اس کا اعتراف تھا اور سبھی ان کا احترام کرتے تھے۔ وہ مجلس تحقیقات و نشریات اسلامی کے بھی چیرمین تھے۔ انہوں نے حجاز میں بھی ایک سال قیام کیا اور اس دوران وہاں کے ماحول اور مزاج کا گہرائی سے مطالعہ کیا جس کی بدولت انہیں عربی و عجمی معاشرے کی باریکیوں کو سمجھنے کا موقع ملا۔
وہ عربی زبان و ادب کے نہ صرف یہ کہ ماہر تھے بلکہ خود بھی بہت اعلیٰ پایہ کے ادیب تھے۔ انہوں نے ۱۹۵۹ء میں ’’الرّاشد‘‘ نام کا عربی پرچہ جاری کیا تا کہ ندوۃالعلماء کے لائق طالب علم اپنی عربی زبان کی مہارت کے لیے مضامین لکھ سکیں۔ اور عرب و ہند بلکہ پورے عالم اسلامی کا آپس میں رابطہ قائم ہوسکے۔ مولانا رابع حسنی ندویؒ اعلیٰ پایہ کے ریسرچ اسکالر بھی تھے۔ انہوں نے متعدد قومی اور بین الاقوامی سیمیناروں میں حصّہ لیا اور اپنے علمی مقالوں سے اہل علم کی پیاس بجھائی۔ چوں کہ مولانا رابع صاحبؒ جامع کمالات شخصیت کے مالک تھے اور قوم کا بھی درد رکھتے تھے اور یہ بھی چاہتے تھے کہ اسلام کا جو انسانیت کا پیغام ہے اسے گھر گھر پہونچایا جائے اس لیے اس کی عملی تدبیریں بھی کیا کرتے تھے اور تحریری طور پر بھی اس کے فروغ کے لیے کوشاں رہتے تھے۔ ان کی اس فکر کے سبھی قائل بھی تھے۔ غالباً اسی لیے متحدہ طور پر انہیں ’’پیام انسانیت فورم‘‘ کا صدر منتخب کرلیاگیاتھا۔ جب وہ پیام انسانیت فورم کے صدر بنے تو انہوں نے ملک بھر میں انسانیت، بھائی چارے، مساوات، اور امن و امان کا پیغام سنانے اور عام کرنے میں بے حد دلچسپی کا مظاہرہ کیا۔ ان کے سارے عہدوں اور کاموں کا ذکر کرنا وہ بھی ایک مضمون میں ممکن نہیں ہے۔ وہ آکسفورڈ یونیوسیٹی کے سینٹرفار اسلامک اسٹڈیز کے تاحیات ممبر رہے۔ انہوں نے اسلامک فقہ اکیڈمی کی بھی رہنمائی کی۔ زبان و ادب کی ان کی گرانمایہ خدمات کے پیش نظر ۱۹۸۲ء میں انہیں صدرجمہوریہ کے ہاتھوں اعزازسے نوازاگیا۔ ان پر کئی یونیورسیٹیوں میں تحقیقی کام بھی ہورہے ہیں۔ ان کو ’’شاہ ولی اللہ ایوارڈ‘‘ سے بھی نوازا گیا۔ چوں کہ وہ عربی زبان پر مہارت رکھتے تھے، اس لیے انہیں کلیۃ اللّغۃ العربیہ کا وکیل بھی مقرر کیاگیا۔ عربی زبان کی خدمات کے اعتراف میں انڈیا کونسل ریاست یوپی کی طرف سے ان کی خدمت میں ایوارڈ بھی پیش کیاگیا۔ ان کا شمار دنیا بھر کے مقبول اور طاقتور پانچ سو مسلم شخصیات میں ہوتا تھا۔ ان باتوں سے واضح ہے کہ مولانا رابع صاحب ؒکی شخصیات جامع کمالات اور عجوبہ روزگار تھی۔ ان کے اندر علمی آگہی اور تفکر و تدبر کا زبردست مادہ تھا تو وہ روحانی اعتبار سے بھی بلند مقام رکھتے تھے۔ انہیں تصنیف و تالیف سے لگاؤ تھا تو وہ انتظام و انصرا م کے معاملے میں بھی یکتائے روزگار تھے۔
ایسا بہت کم دیکھنے میں آتا ہے کہ ایک ہی شخصیت میں اتنی ساری حیرت انگیز خوبیاں جمع ہوگئی ہوں، عام طور پر جو حضرات اسکالر اور ادیب ہوتے ہیں انہیں تصوّف و روحانیت سے کم ہی لگاؤ ہوتا ہے۔ مگر مولانا رابع صاحب ؒایک طرف تو روحانیت اور تصوّف کے باب میں ممتاز مقام رکھتے تھے تو دوسری طرف تحقیق و تدوین اور تصنیف و تالیف کے باب میں بھی سنگ میل کی سی حیثیت رکھتے تھے۔ وہ زبان و ادب کے باب میں سند کی سی حیثیت رکھتے تھے تو سیرت اور تاریخ اور فقہ کے باب میں بھی اعتبار کے مقام پر فائز تھے۔ اور حیرت انگیز کمال دیکھیے کہ وہ انتظامی امور میں بھی اپنا جواب نہیں رکھتے تھے۔ وہ مختلف اقسام کے اداروں کی رہبری کے معاملے میں رہبر صد احترام سمجھے جاتے تھے تو ہر طرح کے بگڑے معاملات کو درست کرنے میں بھی یدطولیٰ رکھتے تھے۔ حکمت و دانائی کے پیکر مولانا سید محمد رابع حسنی ندویؒ کی نظر جس طرح سیرت محمدیؐ پر تھی اسی طرح ان کی چشم بیناپر قرآن و احادیث اور تفاسیر وفقہ کے رازبھی عیاں تھے۔ وہ دل کی بستی سے لے کر دنیاوی الائش و پستی تک کے ہر مرض سے واقف تھے۔ وہ نہ صرف یہ کہ امت مسلمہ کے خوابوں، خواہشوں، اور علمی و ادبی تفکر و تدبر کے ترجمان تھے بلکہ بنی نوع انسانی کے اعلیٰ اخلاق اور مثبت کردار کے بھی حقیقی معمار تھے۔ ان کے اندر غضب کا نظم و ضبط، صبر و تحمل اور فراست و بصیرت پائی جاتی تھی۔ وہ سماج و معاشرے اور سیاست و حکومت کی باریکیوں کو بھی خوب سمجھتے تھے۔ جس طرح وہ عالمی ادب کے واقف کار تھے اسی طرح وہ عالمی رابطے کی نزاکتوں سے بھی آگاہ تھے۔ وہ زبانوں کے بھید سے واقف تھے تو ادب اور اسی ادب کے حوالے سے ثقافت اور تاریخ اور مختلف اقوام کے اخلاقی اقدار اور روایات سے بھی آگاہ تھے ۔ انہیں تحریر و تقریر پر یکساں قدرت حاصل تھی۔ وہ الجھے مسائل کو سلجھانے میں بھی ماہر تھے اور کمال کی بات یہ تھی کہ ہر مکتبۂ فکر کے لوگوں سے اس خلوص اور محبت سے ملتے تھے کہ کبھی بھی مسلکی تعصب کا ذرہ برابر بھی احساس پیدا نہ ہوتا تھا۔ اگر وہ وسیع القلب اور وسیع النظر نہ ہوتے تو مسلم پرسنل لابورڈ کے چھ بار صدر نہیں بن پاتے۔ ظاہر ہے کہ مسلم پرسنل لابورڈ سے ہر مکتبۂ فکر اور مسلک کے لوگ جڑے ہوئے ہیں۔انہیں باہم متحد رکھنا اور ان کا اعتماد حاصل کرنا آسان کام نہیں ہے۔ اگر ان کے اندر مسلکی تنگ نظری، یاتعصب، یا علاقائی حدبندی کی اہمیت کا کوئی احساس ہوتا تو وہ امت کو متحد نہیں کرپاتے ان کے گذرجانے سے امت نے ایک ایسی شخصیت کو کھودیا ہے جو نہ صرف یہ کہ امت کا اعتبار تھے بلکہ عوام الناس کا بھی بھروسہ تھے۔ ان کی وسیع النظری جہاں اسلامی تعلیمات کی روح سے آگاہی کی علامت تھی وہیں ادب اور ادب اسلامی کی حمایت کی بھی تمثیل تھی۔ ان کی تیس سے زائد کتابیں شائع ہو کر مقبول ہوچکی ہیں، ان کی بعض کتابیں اتنی پسند کی گئیں کہ ان کے کئی ایڈیشن شائع ہوئے اور کئی کتابوں کا دنیا کی مختلف زبانوں میں ترجمہ بھی ہوا۔ ان کی بعض کتابیں اپنے موضوع اور مواد کے اعتبار سے اتنی اہم ثابت ہوئیں کہ کئی اسکول و مدارس کے نصاب میں شامل کرلی گئی اور آج تک شامل ہیں۔ ان کا خاندان نورٌ علی نور کی مثال ہے۔ مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی ؒکی جو کتابیں بہت مشہور ہوئیں ان میں سے چند یہ ہیں؛ ’’اسلامی معاشرہ‘‘، ’’اصحاب رسولؐ‘‘، ’’اصلاح معاشرہ کیوں اور کیسے‘‘، ’’افضل انسان‘‘، ’’امت مسلمہ‘‘، ’’رہبراور مثالی امت‘‘، ’’امت مسلمہ کی دوامتیازی خصوصیت‘‘، ’’بنیادپرستی اور دہشت گردی‘‘، ’’مجرم کون؟‘‘، ’’تحفۂ رمضان‘‘، ’’تحفۂ گجرات‘‘، ’’جزیرۂ العرب‘‘، ’’حالات حاضرہ اور مسلمان‘‘، ’’حج اور مقامات حج‘‘، ’’دو مہینے امریکہ میں‘‘، ’’دین وادب‘‘، ’’رہبر انسانیت‘‘، ’’سماج کی تعلیم و تربیت ‘‘، ’’سمرقندوبخارا کی بازیافت‘‘، ’’سیرت محمدی، انسانیت کیلئے اعلیٰ نمونہ‘‘ ، ’’غبار کارواں‘‘، ’’فقہ اسلامی اور عصرجدید‘‘، ’’قرآن مجید انسانی زندگی کارہبرکامل‘‘، ’’محمدؐ کے بعد کوئی نبی نہیں‘‘، ’’مسلمان اور تعلیم‘‘، ’’مسلمانوں کا آئینی قانون‘‘، ’’الادب العربی بین عرض و نقد‘‘، ’’منثورات من ادب العربی‘‘، ’’معلم الانشاء‘‘، ’’جغرافیہ‘‘ وغیرہ۔
ان کتابوں پر ایک سرسری نظر ڈالنے سے بلکہ سچ یہ ہے کہ ان کتابوں کے محض ناموں سے بھی یہ پتہ چل جاتا ہے کہ مولانا رابع حسنی ندوی ؒکو سیرت النبی، فقہ اسلامی، قرآن کریم کی تعلیمات، عربی ادب، تعلیم و تعلّم، انسانیت اور بھائی چارہ، تاریخ اور تاریخ کے گم شدہ اوراق و مقامات کی بازیافت، مسلمانوں کے عائلی اور آئینی حقوق و قوانین، بنیاد پرستی، کٹرپنتھی اور دہشت گردی، امت کی شیرازہ بندی اور اس کی ظاہری وباطنی تربیت، دین حق اور ادب کے رشتے اور اس کے مابین پائے جانے والے فکری تناسبات اور سیروسیاحت اور سفر ناموں اور اقوام عالم کے احوال اسلامی معاشرے کی بنیادی خوبیوں اور اس کی شناخت کے بنیادی حوالوں سے کس قدر آگاہی تھی۔اتنے سارے علوم اور زندگی کے اتنے سارے پہلوؤں سے آگاہی اور ان سارے پہلوؤں کی مبادیات کا علم اپنے آپ میں ایک کمال حیرت کی چیز ہے۔ اور پھر اس پر سے طرہ یہ کہ وہ بہت سارے اداروں کے ذمہ دار بھی تھے۔ انہیں جس ادارے کی کرسی صدارت پر بٹھایاجاتا یا جس تنظیم کا ممبر بنایا جاتا یوں لگتا کہ یہ جگہ انہیں کے لیے ہے۔
ان کی شخصیت کی جامعیت اور مقبولیت کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ وہ ایک تناوردرخت تھے۔ جن کی شاخیں چاروں دشاؤں میں پھیلی ہوئی تھی اور ان گھنی شاخوں پر علم، ادب، سیرت، تاریخ، جغرافیہ، سماج، معاشرہ، اخلاق، سیرت، فقہ، حدیث، قوانین، سماجی سروکار، سیاسی بصیرت، معاشرتی فراست کے رنگارنگ پرندے بسیرا کرتے تھے اور اپنی خوش الحانی سے اس درخت کے حسن میں اضافہ کرتے تھے اور اس کی اہمیت کا احساس دلاکر لوگوں کو اسے سرسبز و شاداب رکھنے کا درس دیتے تھے۔ آج جب کہ وہ درخت اکھڑ چکا ہے ایسا لگتا ہے کہ سارے خوش ذوق و خوش نظر اور خوش الحان پرندے بے گھر ہوچکے ہیں۔ اللہ سے دعا ہے کہ وہ سارے پرندوں کو سارے طائرفکر و نظر کو پھر کوئی ایسا چھتنارا اور تناور درخت فراہم کردے جس سے اس کی بے مکانی کا کرب مٹ جائے اور ملت کی زمین اور قوم کی دھرتی پر نئی بشارتوں کی امید کا سورج طلوع ہوسکے۔
