’دی کشمیر فائلز ‘کے بعد سنگھ پریوار کا نیا ایجنڈہ، فلم میں ۳۲؍ ہزار خواتین کے قبول اسلام کا جھوٹا پروپیگنڈہ، آئی ایس آئی ایس کی رکن بننے کا بھی الزام، ریلیز کی چوطرفہ مخالفت
ترونت پورم۔۲۹؍اپریل: دی کشمیر فائلس کے بعد اب اسی نوعیت کی ایک اور فلم ریلیز کے لئے تیار ہے جو نہ صرف ہندوستان بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کو بدنام کرنے، ان کیخلاف نفرت کا زہر پھیلانے اور سماج میں انہیں یکا و تنہا کرنے کے مذموم ایجنڈے کے تحت تیار کی گئی ہے۔اس فلم کا نام دی کیرالہ اسٹوری ہے جس کا ٹریلر تمام سوشیل میڈیا پلیٹ فارمس پر جاری ہوچکا ہے جبکہ فلم ہندی، تلگو، تامل اور ملیالم زبانوں میں ملک بھر کے سینما گھروں میں ریلیز کی جارہی ہے۔ ٹریلر دیکھنے سے ہی واضح ہوجاتا ہے کہ یہ فلم کس مقصد کے تحت تیار کی گئی ہے۔ٹریلر ریلیز ہونے کے ساتھ ہی اس فلم کی مخالفت بھی شروع ہوچکی ہے۔ خود کیرالہ میں وہاں حکمران سی پی آئی ایم کے قائدین اور وزرا اس کی ریلیز کی مخالفت کررہے ہیں۔ کیرالہ میں اپوزیشن کانگریس نے بھی اس کی ریلیز روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔سی پی آئی (ایم) اور کانگریس نے آج ‘دی کیرالہ اسٹوری’ پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اظہار خیال کی آزادی معاشرے میں زہر اگلنے کا لائسنس نہیں ہے اور یہ فلم ریاست کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو تباہ کرنے کے مقصد سے بنائی گئی ہے۔سدیپتو سین کی لکھی کہانی اور ہدایت کاری میں بنی دی کیرالہ سٹوری کو کیرالہ میں مبینہ طور پر لاپتہ ہونے والی تقریباً 32 ہزار خواتین و لڑکیوں کے بارے میں بتایا گیا ہے جبکہ ان اعداد و شمار پر ہی عوام یقین کرنے تیار نہیں ہے چہ جائیکہ فلم میں بتائے گئے واقعات پر یقین کرلیں۔
