پریاگ راج: الہ آباد ہائی کورٹ نے جمعہ کو گیانواپی مسجد اور وشوناتھ مندر تنازعہ کیس میں اہم فیصلہ سنایا۔ عدالت نے گیانواپی مسجد میں سروے کے دوران پائے گئے مبینہ شیولنگ کی کاربن ڈیٹنگ کا حکم دیا ہے۔ ہائی کورٹ نے ڈسٹرکٹ جج کے حکم کو بھی ایک طرف رکھ دیا، جس میں انہوں نے کاربن ڈیٹنگ کی درخواست کو مسترد کر دیا تھا۔الہ آباد ہائی کورٹ کے جسٹس اروند کمار مشرا کی بنچ نے اے ایس آئی کی رپورٹ کی بنیاد پر مبینہ شیولنگ کے سائنسی سروے کی جانچ کا حکم دیا۔ عدالت نے آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا سے کہا کہ لنگ کو توڑے بغیر سائنسی طور پر اس کی جانچ کرے”۔ وارانسی کی ماتحت عدالت نے جمود برقرار رکھنے کے سپریم کورٹ کے حکم کی وجہ سے کاربن ڈیٹنگ ٹیسٹ کرانے سے انکار کر دیا، اسے چیلنج کیا گیا۔عدالت نے وارانسی عدالت کے حکم کو منسوخ کر دیا ہے۔ ریاستی حکومت کی جانب سے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل ایم سی چترویدی اور چیف اسٹینڈنگ کونسل بپن بہاری پانڈے نے عرضی پر اپنا موقف پیش کیا۔ ایڈوکیٹ ہری شنکر جین اور وشنو شنکر جین ہندو کی طرف سے تھے۔جبکہ گیانواپی مسجد کی جانب سے ایس ایف اے نقوی نے کیس پیش کیا ۔ ڈسٹرکٹ جج وارانسی کے 14 اکتوبر 2022 کے فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا۔ یہ سول نظرثانی درخواست گزار لکشمی دیوی، سیتا ساہو، منجو ویاس اور ریکھا پاٹھک کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔ عدالت نے فریقین کے دلائل کے بعد اسے منظور کرتے ہوئے فیصلہ سنایا۔
