مکھی کا گوشت کھاکر برہمن کی ذات خراب ؛اسی طرح سے 3000روپئے کی حقیر رقم پر مسلمانوں کی ذات پر اٹھا سوال

اسٹیٹ نیوز ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر نمایاں

شیموگہ :۔ پچھلے دنو ں ریاستی حکومت نے ریاست کے تمام مساجد کے امام، موذن ، مدرسوں کے علماء ، مولوی اور غیر تدریسی عملے کو 3000 ہزار روپئے کا لاک ڈائون کا معاوضہ دینے کا فیصلہ کیا تھا اور ریاست بھر سے ہزاروں علماء نے عرضیاں بھی دی تھیں لیکن وہ کہتے ہیں نا کہ مکھی کا گوشت کھا کر برہمن نے اپنی ذات خراب کرلی اسی طرح سے حکومت کی جانب سے دئے جانے والے 3000 کو لے کر شر پسند ہندوئوں نے اس رقم پر سوالیہ نشان اٹھاتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ 3 ہزار روپیوں کی رقم کو علماء و اماموں کو جاری نہ کریں کیونکہ یہ مندروں سے وصول کیا جانے والا ٹیکس ہے ۔ آج بھارتیہ جنتا پارٹی سے تعلق رکھنے والے رحیم اچیلا نے بھی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت علماء کو معاوضہ نہ دے ۔ محض تین ہزار روپئے کی امداد جو اندازََ ریاست کے تمام عرضی گذاروں کے لئے 8 کروڑروپئے کی لاگت سے تقسیم کیے جائینگے اسے لے کر مسلمانوں کو بدنام کیا جارہاہے اور خصوصََا اس طبقے کو جو مسلمانوں کی قیادت کرنے والے لوگ ہیں ۔ دوسری جانب ریاست کے وقف بورڈ کے اراکین اور مسلم اراکین اسمبلی پر بھی سانپ سونگھ گیا ہے جو علماء کی عظمت کو 3000 ہزارروپئوں کے لئے دائو پر لگائے ہوئے ہیں ،ریاست میں وقف بورڈ ہوتے ہوئے بھی نہ کہ برابر ہوچکاہے اور اگر وقف بورڈ ہی چاہتا تو ریاست کے تمام علماء اور اماموں کے لئے اوقافی آمدنی سے معقول رقم جاری کرسکتا تھا کیونکہ وقف بورڈ حکومت سے رقم لینا والے ادارہ نہیں بلکہ حکومت کو امداد دینے والا ادارہ ہے اسکے علاوہ ہر ضلع میں اوقاف کی اس قدر املاک اور آمدنی ہے کہ کسی کے بیرونی امداد کے بغیر ہی علماء کو مدد دی جاسکتی تھی ۔افسوسناک بات ہے کہ وقف بورڈ نے کوروناکے ان سنگین حالات میں بھی مسلمانوں کے مذہبی پیشوائوں کا ہاتھ تھامنے سے انکار کردیا ہے اور ایک طرح سے معذور ادارہ ہونے کا ثبوت پیش کیا ہے۔ وشواہندو پریشد نے بھی مسلمانوں کو مالی امداد نہ دینے کا مطالبہ کیا ہے اور اس وقت مسلم علماء بالکل اسی طرح سے بدنام ہورہے ہیں جیسے کہ کچھ سال پہلے تک اپنے ہی پیسے دے کر حج کو جانے والے مسلمان حج سبسیڈی کے نام پر بدنام ہوا کرتے تھے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ وقف بورڈ اس وقت بھی بھکاری ادارہ بننے کے بجائے مالدار ادارہ ہونے کا ثبوت دے اور مسلمانوں کی مالی امداد کرے ۔