بنگلورو:۔کرناٹک میں نئی حکومت آتے ہی وزیر اعلیٰ سدرامیانے احکامات جاری کرتے ہوئے اس بات کی ہدایت دی ہے کہ ریاست کے تمام بورڈ، کارپوریشن اور اکادمیوں کی کمیٹیوں کو تحلیل کردیاجائے،ان بورڈ و کارپوریشن کے صدور کے اختیارات کو ختم کیاجائے،ساتھ ہی ساتھ ان بورڈ وکارپوریشنوں کی ذمہ داری سرکاری اہلکاروں کو اُس وقت تک دی جائیگی ،جب تک کہ حکومت کی جانب سے نئے سرے سے کمیٹیوں کی تشکیل اور بورڈوکارپوریشن کے صدور کی تقرری کے احکامات جاری نہ کردئیے جائیں۔اسی طرح سے ریاستی حکومت نے بورڈ وکارپوریشن کے ماتحت انجام دئیے جانےوالے ترقیاتی کاموں کو بھی روکنے کے احکامات دئیے گئے ہیں اور جو فنڈس جاری ہونے تھے اُنہیں بھی روکنے کی ہدایت دی گئی ہے،اس طرح سے کرناٹک میں اب نئے سرے سے بورڈو کارپوریشن اور اکادمیوں کے صدورکی تقرری ہوگی ۔ کرناٹکا وقف بورڈجو آزاد ادارہ ہے،اس کی ریاستی کمیٹی برقرار رہےگی،البتہ ضلعی سطح پر نامزدمشاورتی کمیٹیوں کو تحلیل کرنے کے احکامات دئیے گئے ہیں،جس سے ہر ضلع کے اڈوائزری کمیٹی کے اختیارات ختم کردئیے جائینگے۔اس سلسلے میں کرناٹکا وقف بورڈنے ابھی تک احکامات جاری نہیں کئے ہیں،البتہ اگلے کچھ وقت میں یہ احکامات بھی جاری ہوجائینگے۔غورطلب بات یہ بھی ہے کہ ریاست کے کئی اضلاع کے وقف مشاورتی کمیٹیوں کی تشکیل ہوئے کچھ ماہ ہی گزرے ہیں،ایسے میں تمام صدورسابق بن جائینگے۔ ریاست کے تمام کارپوریشن ، بورڈ اور اکادمیوں کے صدور کا انتخاب ہونے میں تاخیر ہو گی ، کیونکہ نئی حکومت میں ابھی وزارت کے تعلق سے حتمی فیصلہ نہیں ہواہے،جب تک وزارت کا فیصلہ نہیں ہوتا،اُس وقت تک بورڈوکارپوریشن اور اکادمیوں کے صدورکاانتخاب ممکن نہیں ہے،اس لحاظ سے اگلے پارلیمانی انتخابات تک ان کمیٹیوں کی تشکیل کا سلسلہ روک دیاجائیگا۔کرناٹکا اردواکادمی کی تشکیل پچھلے پانچ سال سے نہیں ہوئی ہے،سابق وزیر اعلیٰ بسواراج بومئی نے کرناٹکا اردو اکادمی کو لیکر کبھی بھی سنجیدگی کا مظاہر ہ نہیں کیاتھا،نہ ہی اس اکادمی کی تشکیل کیلئے اردو دان طبقے سےبراہ راست مطالبہ ہواتھا،چونکہ اب کانگریس حکومت ہے،اس لحاظ سےامکانات ہیں کہ اردو دان طبقہ حکومت پر دبائو ڈالے گا۔
