شیموگہ:۔رکن پارلیمان بی وائی راگھویندرانے22 مئی کو ہبلی کے زونل جنرل مینجر سنجیواور محکمہ ریلوے کے اعلیٰ افسران کے ساتھ ترقیاتی کاموں کا جائزہ لیا ، اس دوران انہوں نے بتایاکہ مرکزی حکومت نے ضلع کے تین ریلوے اسٹیشنوں کی ترقی کیلئے 100 کروڑ روپئے منظورکئے ،جس پرہم مرکزی حکومت کا شکریہ اداکرتے ہیں۔تالگوپہ،شیموگہ سٹی، ساگر ریلوے اسٹیشن کی ترقی کیلئے ریلوے سے باربار مطالبہ کیا جاتا رہاہے،جس کے نتیجے میں مرکزی حکومت نے سال24-2023 کے بجٹ میں اعلان کردہ امرت بھارت اسکیم کے تحت 5.22 کروڑ روپئے ،تالگوپہ ریلوے اسٹیشن ، 28.19 کروڑ روپئے ، شیموگہ ریلوے اسٹیشن، 21.10کروڑ روپئے ،ساگر ریلوے اسٹیشن اور 33 کروڑ روپئے شیموگہ میں گوڈس یارڈ کی ترقی کیلئ منظور کئےگئے ہیں۔تمام ریلوے اسٹیشنوں پر گرانٹس سے بنے ہوئے پلاٹ فارم،ڈیجٹیل سگنل پلاٹ فارم ، پارکنگ شیڈ کی تعمیر ،کمپائونڈ وال کی تعمیر ، سرکیولیٹنگ ایریاکی ترقی ، اسٹیشنوں پر پارک ، فوٹ اوور برڈج،جدید ٹوائلٹ اور سی سی ٹی وی کیمروں کے ساتھ اسٹیشنوں میں خوبصورتی بڑھانے بجلی کے بلب کیلئے اس منصوبے کے تحت کام کیا جائیگا۔اسی طرح سے گوڈس یارڈ میں بنیادی سہولیات کو بڑھاوادینے کیلئے33 کروڑ روپیوں کی رقم استعمال کی جائیگی۔سال2019-20 کے مرکزی بجٹ میں شمالی کرناٹک سے ملناڈکو ریلوے لائن بچھانے کیلئے1200 کروڑ روپئے منظورکئے گئے تھے ، شیموگہ ،شکاری پور،رانے بنورکیلئے نئی ریلوے لائن کا منصوبہ پہلے مرحلے میں ہے، شیموگہ تا شکاری پور کے درمیان (46 کلو میٹر ) کا راستہ تیار کرنے کیلئے زمین کی تحویل کا سلسلہ مکمل ہوچکا ہے ، اب ٹینڈر بھی دے دیا گیا ہے ۔ فروری میں اس تعمیراتی کام کاافتتاح وزیر اعظم نے کیا تھا ۔ آنے والے دنوں میں وندے بھارت کی شروعات کیلئے تیاریاں کرنے کیلئے ریلوے کے افسروں سے گزارش کی ہے،اس پر ریلوے کے افسروں نے یقین دلایا ہے کہ وہ جلدہی اس سلسلے میں رپورٹ پیش کرینگے ۔ تالگوپہ، تڑس، ہوناور ، سرسی ، ہبلی ریلوے لائن کیلئے سروے کا کام مکمل ہوچکا ہے ،اس سروے کی رپورٹ کو ریلوے بورڈکو پہنچائی جارہی ہے ۔رکن پارلیمان بی وائی راگھویندرانے ریلوے کے افسروں سے اس بات کا بھی مطالبہ کیا ہے کہ ارسالو اور ہارنہلی میں بھی میسورو تالگوپہ،میسورو ایکسپریس ریل گاڑیوں کو اسٹاف دیاجائے،اس پر افسروں نے غورکرنے کی بات کہی ہے۔
