کرناٹک میں 200یونٹ مفت بجلی کا وعدہ بنا سردرد ؛گاہک نے کر دی میسکام ملازم کی پٹائی

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر
کوپل:۔کرناٹک میں اقتدار میں آنے کیلئے کانگریس نے عوام کو مفت بجلی فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ حکومت بننے کے بعد اب لوگ اپنے گھروں کے بجلی کے بل ادا کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔ بجلی کے بل کی میٹر ریڈنگ لینے جانے والے محکمہ بجلی کے ملازمین کو بھی عوام کے حملے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کوپل ضلع میں گلباگو بجلی پولیس نے چہارشنبہ کے روز ایک شخص کو سپلائی کمپنی لمیٹڈ کے ملازم پر حملہ کرنے اور بجلی کا بقایا بل ادا کرنے سے انکار کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ کوپل کے کوکن پلی کے ایک باشندے نے محکمہ بجلی کے ملازم پر اس وقت مار پیٹ کی جب اس سے بجلی کا بل ادا کرنے کو کہا۔بل کی عدم ادائیگی پر ملزم کے گھر کی بجلی منقطع کر دی گئی۔ تاہم بتایا جاتا ہے کہ ملزم نے غیر قانونی کنکشن لیا تھا اور جب محکمہ بجلی کا عملہ اس سے پوچھ گچھ کرنے گیا اور بل ادا کرنے کو کہا تو اس نے مبینہ طور پر بدتمیزی کی اور ان میں سے ایک کے ساتھ مارپیٹ کی۔محکمہ بجلی کے ملازم کے ساتھی نے موبائل فون پر ریکارڈ کیا ہوا یہ واقعہ سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا ہے۔ لوگوں نے اس واقعے کو کئی رپورٹ شدہ واقعات سے جوڑا ہے جن میں لوگوں نے بجلی سپلائی کمپنی کے ملازمین سے جھگڑا کیا، بل ادا کرنے سے انکار کر دیا۔ اس طرح کے واقعات کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں، جس میں لوگ یہ بہانہ بنا رہے ہیں کہ کرناٹک حکومت نے مفت بجلی کی ضمانت دی ہے۔آپ کو بتا دیں کہ کانگریس نے اقتدار میں آنے پر ہر گھر کو 200 یونٹ تک مفت بجلی فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ نئی حکومت نے 20 مئی کو اپنے پہلے کابینہ اجلاس میں 200 یونٹ مفت بجلی سمیت پانچ انتخابی ضمانتوں کی اصولی منظوری دی تھی۔ کابینہ کی میٹنگ کے بعد چیف منسٹر سدارامیا نے تیقن دیا تھا کہ انتخابی وعدے کو کابینہ کی اگلی میٹنگ کے بعد لاگو کیا جائے گا۔