وجئے نگر:۔کرناٹکا کے چیف منسٹر بی ایس یڈی یورپا نےکوویڈ19لاک ڈون کے دوران ریاست کے تمام مساجد کے امام و موذنین کو3000ہزار روپئے دینے کا اعلان تو کیا مگر اس کے لئے جو رقم مختص کرکے اسٹیٹ وقف بورڈ کو دی جانی چاہیئے تھی اس کو نہیں دیااور سفید جھوٹ بول کر بھونڈا مذاق کرتے ہوئےکرناٹکا اسٹیٹ وقف کے سی او کے نام ہدایت نامہ جاری کیا ہے اور اس ہدایت نامہ میں مذاق ہی نہیں بلکہ مسلمانو ںکو بے وقوف بنایاگیا ہے کہ امام ، موذنین ، معلمین ، اور خادمین کو ماہانہ اعزازی طور پر دیجانی والی رقم میں سے ہی اس پیکیج کی رقم ادا کریں۔یہ الزام تنظیم علمائے اہلسنت کے جنرل سکریٹری اور ہرپنہلی کے قاضی مشتاق احمد رضوی نظامی نے لگایا ہے ۔ انہوں نے ریاستی حکومت کی جانب سے علماء و اماموں کو دی جانے والی امداد کو سازش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ نے کوویڈ19 لاک ڈون پیکیج کی کوئی بھی رقم مختص کئے بنا ہی یہ جھوٹا اعلان کیا ہے کہ وقف بورڈ سے منظورشدہ و غیر منظور شدہ مساجد و مدارس کے ائمہ ، موذنین ، معلمین ، اور خادمین کو کوویڈ19 لاک ڈون پیکیج کے طور پر سبھی کو 3000 روپیئے دئے جائینگے۔کرناٹکا اسٹیٹ وقف بورڈ کے سی ای اونے 4جون 2021ء کو اس اعلان کے مد نظر ایک سرکیولر جاری کرتے ہوئے تمام مساجد و مدارس کے ائمہ ، موذنین ، مدرسین و ملازمین سےان کے نام ، بینک اکائونٹ نمبر آدھار نمبر وغیرہ کی تفصیلات صرف اٹھارہ گھنٹے یعنی دیڑھ دن میں جمع کر نے کی ہدایت دی گئی تھی۔یعنی 4 جون کو سرکیولر جاری ہوتا ہے اور 5 جون 2021ء کے دوپہر ڈھائی بجے کا وقت تفصیلات کے ساتھ عرضیاں جمع کرنے کا آخر وقت بتایا جاتا ہے، 8 جون کو کرناٹکا اسٹیٹ وقف بورڈ کے سی۔ او۔ کی جانب سے ایک سرکیولر جاری ہوتا ہے جسمیں وزیر اعلیٰ کی جانب سے کئے گئے اعلان کے مطابق تمام مساجد و مدارس کے ائمہ ، موذنین ، معلمین ، مدرسین ۔ اور ملازمین کی فہرست پیش کرتے ہوئے حکومت سے سفارش کرتے ہیں کہ وقف بورڈ سے منظور شدہ 10193 اور غیر منظور شدہ 1368 مساجد کل 11561 مساجد کے ائمہ موذنین کے لئے پیکیج کے طور پر دئے جانی والی رقم ایک اندازے کے مطابق 6.93کروڑ روپئے اور وقف بورڈ سے منظور شدہ 1572 مدرسوں اور غیر منظور شدہ 495 مدرسے کل ملاکر 2067 مدرسے ان تمام مساجد اور مدارس کے کل 5080 مدرسین کے لئے جو ماہانہ اعزازی طور پر دی جانے والی رقم 52.1 کروڑروپئے اور کووڈ19اسپیشل لاک ڈون پیکیج کی رقم کل ملاکر کل رقم تقریباً 8 کروڑ 46 لاکھ روپئے جاری کرنے کی مانگ کی گئی تھی ،لیکن وزیر اعلیٰ نے اس کے جواب میں کہا ہے جو ماہانہ اماموں اور موذنوں کو اعزازی طور پر دی جانے والی رقم 55 کروڑ روپئے ہے اسی کو رقم میں سے ہی اس کووڈ 19 لاک ڈون پیکیج کی رقم ادا کرنے کے لئے کہا گیا ہے ۔مگراخبارات اور میڈیا سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اب تک کئی اماموں موذنوں کے لئے اعزازی طور پر دی جانے والی رقم جو سالانہ بجٹ میں مختص کی جاتی ہے وہی رقم ابھی تک اسٹیٹ وقف بورڈ کو نہیں ملی ہے اور پچھلے تین چار مہینوں سے کئی علماء سرکاری تنخواہ سے محروم ہیں ۔مولانا مشتاق نے سوال کیاہے کہ جب پہلے ہی رقم نہیں ہے تو کیسے دوبارہ کووڈ 19 لاک ڈون پیکیج کی رقم اس رقم میں سے نکال کر کیسے دی جائے ؟۔اور کرناٹکا کے وہ مسلم یم یل اے جو اس کووڈ 19 پیکیج کے لئے اپنی جانب سے بڑی کوشیشیں کی تھیں وہ حضرات بی جے پی حکومت کی جانب سے کئے گئے اس بھونڈے مذاق کو کس طرح سے لیتے ہیں ۔آخر حکومتِ کرناٹکا کے چیف منسٹر کی دوہری پالیسی اب اس اعلان سے جگ ظاہر ہوچکی ہے ۔ریاستی وقف بورڈ کو چاہئے کہ وہ علماء کے ساتھ اس طرح کا بھونڈا مذاق نہ کرے بلکہ وقف بورڈ کی جانب سے اعزازی رقومات جاری کرے ۔
