دو مہینے میں 40 میڈیکل کالجوں کی منظوری منسوخ، این ایم سی قوانین کی خلاف ورزی پر ہوئی کارروائی

سلائیڈر نیشنل نیوز
دہلی:۔ملک بھر میں نیشنل میڈیکل کمیشن (این ایم سی) کے طے کردہ معیارات پر عمل نہ کرنے کے الزام میں گزشتہ دو ماہ میں تقریباً 40 میڈیکل کالجوں کی الحاق منسوخ کر دی گئی ہے۔ سرکاری ذرائع نے اس بات کی معلومات دی ہے ۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ تمل ناڈو، گجرات ، آسام، پنجاب، آندھرا پردیش، پڈوچیری اور مغربی بنگال میں تقریباً 100 مزید میڈیکل کالجوں کو بھی اسی طرح کی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایک سرکاری ذریعہ نے بتایا کہ کالج مقررہ اصولوں پر عمل نہیں کررہے تھے اور کمیشن کے ذریعہ کئے گئے معائنہ کے دوران سی سی ٹی وی کیمروں، آدھار سے منسلک بائیو میٹرک حاضری کے طریقہ کار اور فیکلٹی رولس سے متعلق کئی خامیاں پائی گئیں۔سرکاری اعدادوشمار کےمطابق، 2014 کے  بعد سے میڈیکل کالجوں کی تعداد میں کافی اضافہ ہوا ہے۔ مملکتی وزیر صحت بھارتی پراوین پوار نے فروری میں راجیہ سبھا کو بتایا تھا کہ 2014 سے پہلے 387 میڈیکل کالج تھے، لیکن اب 69 فیصد اضافے کے ساتھ ان کی تعداد 654 ہوگئی ہے۔اس کے علاوہ ایم بی بی ایس کی سیٹوں میں 94 فیصد اضافہ ہوا ہے جو کہ 2014 سے پہلے 51348 سیٹوں سے بڑھ کر اب 99763 ہو گئی ہے۔ پی جی سیٹوں کی تعداد میں 107 فیصد کا اضافہ ہوا ہے، جو 2014 سے پہلے 31185 تھی اب 64559 ہو گئی ہے۔بھارتی پراوین پوار نے کہا تھا کہ ملک میں ڈاکٹروں کی تعداد بڑھانے کیلئےحکومت نے پہلے میڈیکل کالجوں کی تعداد بڑھائی اور پھر ایم بی بی ایس کی سیٹیں بڑھائیں۔ ملک میں میڈیکل سیٹوں کی تعداد بڑھانے کے لیے حکومت کی طرف سے اٹھائے گئے اقدامات میں ضلع/ریفرل اسپتالوں کو اپ گریڈ کرکے نئے میڈیکل کالجوں کے قیام کے لیے مرکزی اسپانسر شدہ اسکیم شامل ہے۔ جس کے تحت منظور شدہ 157 میں سے 94 نئے میڈیکل کالج پہلے ہی فعال ہیں۔