اعلیٰ تعلیم سے دورہوتے جارہے ہیں مسلمان؛ سنسنی خیز انکشاف

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر نمایاں نیشنل نیوز
دہلی:۔18 سے23 سال کی عمرکے مسلم طلباء اعلیٰ تعلیم سے دورہوتے جارہے ہیں،یہ سنسنی خیز انکشاف دی ہندو اخبارنے کیاہے۔اعلیٰ تعلیم سے مسلم نوجوانوں کی دوری آنےوالے وقت کیلئے پریشان کن بات ہے،اس سے مسلم نوجوانوں میں بہتر روزگارکی شرح میں کمی آسکتی ہے۔سال 21-2020 میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں18 تا23 سال کی عمرکے مسلم طلباء کے داخلوں کی شرح5.8 فیصد سے کم ہوچکی ہے۔یونیفائڈ ڈسٹرکٹ انفارمیشن سسٹم فار ایجوکیشن پلس اور آل انڈیا سروے آف ہائر ایجوکیشن کی جانب سے کئے گئے سرو ے کی بنیادپر دی ہندو اخبارنے یہ رپورٹ بنائی ہے۔سال20-2019 میں21 لاکھ مسلم طلباء اعلیٰ تعلیم کیلئے داخلہ لئے ہوئے تھے  ، سال 22-2021 میں یہ تعدادکم ہوکر 21.19لاکھ ہوئی ہے۔نیشنل انسٹیٹیوئٹ آف ایجوکیشن پلاننگ اینڈ ادمنسٹریشن کے سابق پروفیسر ارون سی مہتا نےایک رپورٹ تیارکی ہے ،جس کا عنوان بھارت میں مسلمانوں کی تعلیمی حالت ہے،اس کے مطابق سال17-2016 میں17 لاکھ39 ہزار218 مسلم طلباء نے اعلیٰ تعلیم کیلئے داخلے لئے تھے،سال21-2020 میں یہ تعداد21 لاکھ860 تک پہنچی تھی ، سال22-2021 میں یہ شرح کم ہوکر19 لاکھ21ہزار713 تک ہوئی ہے،جس کے مطابق 1 لاکھ79 ہزار147 طلباء اعلیٰ تعلیم سے دورہوئے ہیں۔سال17-2016 میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنےوالے طلباء کی جو شرح تھی وہ شرح سال 21-2020 میں 64.4 فیصد کم ہوئی ہے۔اعلیٰ تعلیم کے زمرے میں گیارویں اور بارہویں جماعت کے مسلم طلباء کے داخلے تمام ریاستوں میں کم ہوتے جارہے ہیں،تعلیمی حالات کا جائزہ لینےپر مسلم طلباء زیادہ سے زیادہ گیارویں یا بارہویں جماعت تک کی تعلیم کو ہی اہمیت دے رہے ہیں۔ہائرپرائمری اسکول (چھٹویں تا آٹھویں جماعت) میں جملہ67.6 کروڑ طلباء نے داخلہ لیاہے،ان میں سے42.14 فیصد مسلم طلباء ہیں، جبکہ ہائی اسکول میں (نویں تا دسویں جماعت) میں یہ شرح کم ہوکر62.12 فیصد ہے،گیارویں وبارہویں جماعت کو پہنچنے تک یہ شرح76.10 فیصد رہ جاتی ہے۔سب سے خراب حالت بہار اورمدھیہ پردیش جیسی ریاستوں کا ہے،جہاں پر مسلم طلباء کی تعدادبہت کم ہے۔ان ریاستوں میں اب بھی ہزاروں بچے تعلیم سے دورہیں۔ہائی اسکول میں داخلہ لینےوالے مسلم طلباء میں سے64.18 فیصد بچے درمیان میں ہی اسکول چھوڑ دیتے ہیں۔آسام میں52.29 فیصد،مغربی بنگال میں22.23 فیصد مسلم بچے ہائی اسکول کی تعلیم ادھوری کردیتے ہیں،جبکہ جموں وکشمیرمیں یہ شرح سب سے کم ہے،یہاں ہائی اسکول میں تعلیم چھوڑنےوالے بچوں کی تعداد1.5 فیصدہے،جبکہ کیرل میں91.11 فیصد ہے۔مسلم طلباء کی تعلیم سے دوری کی اہم وجہ غربت بتائی گئی ہے،طلباء تعلیمی وسائل کو پوراکرنے کے مسئلے سے جوج رہے ہیں ۔ رپورٹ میں کہاگیاہے کہ مسلم طلباء کیلئے اسکالرشپ،مالی امداد اور دیگر سہولیات فراہم نہیں کی جاتی ہیں تو آنےوالے دنوں میں یہ شرح مزید زیادہ ہوسکتی ہے اور مسلمانوں میں تعلیمی پسماندگی کا مسئلہ بڑھ سکتاہے۔