از:۔مدثراحمد۔شیموگہ۔کرناٹک۔9986437327
عام طورپر مسلمانوں کی یہ شکایت ہے کہ ان کی آواز سننے والاکوئی نہیں ہے ،نہ ان کا سیاسی قائدہے ،نہ ہی سرکاری دفاترمیں ان کے مسائل حل کرنےوالاکوئی افسرہے۔مسلمان اس تنگ نظری کا شکارہوچکے ہیں کہ ان کیلئےسہارا کوئی نہیں ہے،پولیس ان کی نہیں ہے،میڈیاان کا نہیں ہے،ان کے اپنے تعلیمی ادارے نہیں ہیں اور جو تعلیمی ادارے ہیں وہ ان کے بچوں پر خاص توجہ نہیں دیتے۔یہ شکایتیں یقینی طورپر بجا ہیں،لیکن سوال یہ ہے کہ آخر مسلمانوں نے ان تمام شعبوں کیلئے اپنی حصےداری کیا دی ہے؟۔مسلمانوں نے نہ اپنے بچوں کو تعلیم یافتہ بناکر سرکاری عہدوں میں بھیجنے کی جرات کی ہے،نہ ہی ان کے بچوں کو پولیس میں شامل کروانے کیلئے ہمت افزائی کی ہے،نہ مسلمانوں کے بچے وکالت کی تعلیم حاصل کرتے ہوئے وکیل بنے ہیں،نہ ہی جج کے عہدوں پر فائزہوئے ہیں ،جو مسلمانوں کا اپنا میڈیاہے اُس میڈیاکولیکرمسلمانوں میں ہی بدگمانیاں پیداکرناشیوہ بن چکاہے،جو مسلمانوں کے تعلیمی ادارے ہیں اُن تعلیمی اداروں پر مسلمانوں کو ہی بھروسہ نہیں ہے اور انہیں مسلمانوں کے تعلیمی اداروں کےتعلق سے بہت سارے شک وشبہات ہوتے ہیں۔مسلم تعلیمی اداروں میں جو فیس مانگی جاتی ہے اُس فیس کو اداکرنے کیلئے سینکڑوں سفارشیں،درجنوں منتیں کرتے ہوئے فیس میں رعایت حاصل کرتے ہیں جبکہ غیروں کے یہاں منہ مانگی فیس دینا اپنی شان سمجھتے ہیں۔ہم نے ہماری نسلوں کو شارٹ کٹ میں پیسے کمانےوالی نسل بنانافخر سمجھاہے،جبکہ سنگھ پریوارکا طریقہ بالکل ہی الگ ہے،اسی لئے آج سنگھ پریوار پورے ملک میں اپنی حکومت چلارہاہے۔سنگھ کے لاکھوں رضاکار اپنی خواہشات کو چھوڑکر صرف آر ایس ایس کے ایجنڈے کو پائے تکمیل پہنچانے کیلئے پابندہیں۔جو مسلمان سولہ ستراسالوں میں حکومتیں قائم کرنےوالے تھے ،آج اُن کے سولہ سترا سال کے بچوں کے ہاتھوں میں لاکھوں روپیوں کے موبائل،موٹربائک موجودہے،جبکہ سنگھ پریواراپنی اس عمرکی نسلوں کو مستقبل بنانے کے تعلق سے تربیت دے رہے ہیں۔مسلم قوم کی بیٹیاں شادیوں میں ہزاروں روپیوں کے کپڑے پہننا اپنی شان سمجھ بیٹھی ہیں،وہیں سنگھ سے وابستہ لوگوں کی بیٹیاں اعلیٰ تعلیم حاصل کرتے ہوئے اعلیٰ عہدوں پر فائز ہورہی ہیں۔سنگھ پریوارنے پچھلی95 سالوں کی محنت سے بھارت کے ہرشعبے میں اپنا قدم جمایاہے،وہیں مسلمانوں نے عالیشان شادی محل،کروڑوں روپیوں کی لاگت کی مسجدیں تعمیر کرنے کی تحریک چلائی ہے،جس قوم کے لوگ تعلیم کو اہمیت نہ دیتے ہوئے ریا کاری کو اہمیت دینگے وہ قوم غلام ہی رہے گی،نہ کہ حاکم بنے گی۔مسلمانوں کو اب تو اپنی سوچ میں تبدیلی لانی ہوگی ورنہ اسی طرح سے اپنی نسلوں کو تباہ ہوتے دیکھنا پڑیگا۔قومِ مسلم کو عالیشان شادی محلوں اور لاکھوں روپئے کی میناروالی مسجدوں کی نہیں بلکہ تعلیم کے مراکز قائم کرنے ہونگے،ہماری نسلوں کو لاکھوں روپئے کے موبائل کی نہیں بلکہ اچھی تعلیم کی ضرورت ہے،اس سمت میں مسلمانوں کو سوچنا ہوگا۔
