شیموگہ:۔کرناٹکا میں ریاستی حکومت اقتدارمیں آنے کے بعد بورڈ ،کارپوریشن اور مختلف عہدوں کیلئے کانگریس لیڈروں کی بھاگ دوڑ تیز ہوچکی ہے،مگر جن مسلمانوں نے متحدہوکر اپنے حصے کے چالیس ہزار ووٹ کانگریس کے نام کئے ہیں اُس قوم کے لیڈروں کو پارٹی میں نظراندازکئے جانے کی بات سامنےآرہی ہے۔الیکشن کے دوران مسلم لیڈروں کے ساتھ کئے گئے وعدے اور دعوے اب عملی طوپر کھوکھلے ثابت ہورہے ہیں۔شیموگہ میں اہم عہدہ تصورکئے جانےوالاشیموگہ بھدراوتی اربن ڈیولپمنٹ اتھاریٹی(سبوڈا)ہے،اسکےبعد کارپوریشن میں نامینٹ کارپوریٹروں اور کمانڈ ایریا ڈیولپمنٹ اتھاریٹی(کاڈا) کے عہدوں کیلئے مسلم لیڈروں کی جانب سے دعویداری کی جارہی ہے،اسی طرح سے مختلف عہدوں کیلئے بھی کانگریس پارٹی میں دعویداری کی جارہی ہے ۔ شیموگہ میں شیموگہ ضلع کانگریس کمیٹی کے عہدے کیلئے بھی باضابطہ طورپر جدوجہد تیزہوچکی ہے،جس میں ایس پی دنیش ،ایس کے مریپا اورآر پرسنناکمارکا نام سرفہرست ہے ، حالانکہ موجودہ صدر ایچ ایس سندریش نے ضلع میں کانگریس پارٹی کو تین اسمبلی حلقوں میں کامیابی دلانے کا سہرا اپنا سر باندھ لیاہے،مگر وہ اب سبوڈاکے صدرکے خواہشمند ہیں۔وہیں دوسری جانب ایچ سی یوگیش کے الیکشن میں یوگیش کے ساتھ دکھائی دینےوالے سائوتھ بلاک کانگریس کے سابق صدر کاشی وشواناتھ بھی سبوڈایا ضلعی صدرکے عہدے کیلئے دوڑ دھو پ کررہے ہیں۔ کاشی وشواناتھ کو سبوڈایا ڈی سی سی صدر بنانے کیلئے یوگیش بنگلورومیں کافی محنت کررہے ہیں اورکاشی کوا پنے ساتھ کانگریس کے تمام لیڈروں کے درپر لے جارہے ہیں ۔ یوگیش کی کوشش ہے کہ کسی نہ کسی طریقےسے کاشی کو سبوڈا یا ڈی سی سی صدرکے عہدے پر فائزکروایاجا ئے ۔ وہیں 60 ہزار ووٹ والی مسلم کمیونٹی کے کانگریسی لیڈران اس فہرست میں دور دورتک دکھائی نہیں دے رہے ہیں، جبکہ کانگریس پارٹی کو ووٹ دینے کیلئے مسلم ووٹروں نے پوری ایمانداری دکھائی تھی،مسلمانوں کے عام وخاص نےکانگریس کو ووٹ دینا اپنا فرض سمجھ رکھاتھا،کانگریس امیدوار ایچ سی یوگیش کے سامنے یہ مطالبہ رکھاتھاکہ کانگریس پارٹی اقتدارمیں آنے کے بعد مسلم لیڈروں کو ایم ایل سی،سبوڈا،نامینٹ کارپوریٹر یا دوسرے اہم عہدوں پر نامزدکروانے کیلئے اُن تعائون ہوناچاہیے،مگر ایسا ہوتا ہوانہیں دکھائی دے رہاہے، جبکہ کانگریس کے مسلم لیڈران اپنے بل بوتے پر اپنی حصے داری مانگنے کی کوشش کررہے ہیں،مگر ہر جگہ ان مسلم لیڈروں کو کاٹنے کی جدوجہد ہورہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق اسماعیل خان ایم ایل سی کیلئے کوشش کررہے ہیں ، وہیں سائوتھ بلاک کانگریس کے صدر کلیم پاشاہ،ضلع اقلیتی کانگریس کے سابق صدر محمدعارف اُللہ ، آصف مسعود،محیب اُللہ جیسے نوجوان اپنی حصے داری کو حاصل کرنے کیلئے اپنے طورپر سرگرم ہیں۔باوجوداس کے ایچ سی یوگیش ان لیڈروں کولیکر نہ بنگلورو کا رُخ کرر ہے ہیں،نہ ہی ان لیڈروں کی قوم کے ساتھ کئے گئے وعدوں کو دوہرارہے ہیں۔ممکن ہے کہ ہر بارکی طرح اس باربھی مسلم لیڈروں کو لالی پاپ دینے کی کوشش ہورہی ہے۔
