شکتی اسکیم کے بعدسرکاری بسوں میں خواتین کی بھرمار،بازاروں میں چمک رہاہے کاروبار; بسوں میں خواتین کی وجہ سے طلباء کو ہورہی ہے پریشانی،میٹر ٹیکسی پر بھی سائڈ ایفکٹ،حالات بہترہونےمیں کرناپڑیگا کچھ انتظام

اسٹیٹ نیوز ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر
بنگلورو:۔کرناٹک حکومت کی جانب سے شکتی اسکیم کے ذریعے خواتین کو بسوں میں مفت سفرکا انتظام کئے جانے کے بعد بسوں میں خواتین کی بڑی تعدا د دکھائی دے رہی ہےاور ہر دن عام تعداد سے زیادہ خواتین شہروں کا رخ کررہی ہیں ، بازاروں میں جہاں خواتین کی آمد محدود ایام میں دیکھی جاتی تھی ، اب وہیں یہ تعداداچانک بڑھ گئی ہے اور بازاروں میں کاروباربھی زیادہ ہونے لگا ہے ۔شیموگہ کے کئی دکانداروں کاکہناہے کہ شکتی اسکیم آنے کے بعد سے بازاروں میں گہما گہمی زیادہ ہوچکی ہے، تریکرے، ہونالی سمیت مضافاتی علاقوں کی خواتین کے گروہ مسلسل شیموگہ کارخ کررہی ہیں ، جس کی وجہ سے اب تک جو بازار سردمہری کا شکار تھے اُس میں بڑی تبدیلیاں آرہی ہیں۔حالانکہ کے ایس آر ٹی سی کو روزانہ لاکھوں روپیوں کا نقصان ہورہاہے،مگر اس نقصان کی پرواہ کئے بغیر حکومت اس اسکیم مستقل شکل دینے کی بات کررہی ہے ۔ وہیں دوسری جانب خواتین کی آمدورفت کی وجہ سے اسکول و کالجوں کو آنےوالے طلباء کیلئے مسائل پیداہورہے ہیں،بسوں میں خواتین کی بڑی تعدا د رہنے کی وجہ سے عام طلباء کیلئے مناسب جگہ نہیں مل رہی ہے ، یا پھر بسوں میں افزود مسافروں کو بھرتی کرنےسے کنڈکٹر انکارکررہے ہیں۔اس درمیان بس ڈیپو کے افسران کا کہناہے کہ بسوں کی تعداد معمول کے مطابق ہے،خواتین کی آمدورفت کی تعدادجو بڑھی ہے وہ مزید زیادہ دن نہیں رہے گی،جلدہی حالات معمول پر آجائینگے۔شکتی منصوبے کا سب سے بُرااثر شیموگہ تا بھدراوتی کے میٹر ٹیکسی کو ہورہاہے،عموماً شیموگہ سے بھدراوتی کیلئے برسرِ روزگارخواتین اورعام خواتین میٹر ٹیکسی کا استعمال کیاکرتی تھیں،اب بسوں میں مفت سہولت فراہم کئے جانے کے بعد میٹر ٹیکسی(شیئرینگ ٹرایکس) کا استعمال کم کرنے لگی ہیں۔ ٹرایکس کے مالکان کاکہناہے کہ ہم ہردن صبح6 بجے سے اسٹانڈ پہنچ جاتے تھے،لیکن اب6 بجے اسٹانڈپر پہنچنے کے باوجود11سے12 بجے تک ایک بھی ٹرپ نہیں لگا پارہے ہیں،برسرِ روزگار خواتین سرکاری بسوں کا استعمال کررہی ہیں ،یہاں تک کہ ٹرایکس کے ذریعے انڈسٹریل ایریا پہنچنےوالی خواتین بس کے ذریعے سفرکرتے ہوئے وہاں سے آٹورکشا کا استعمال کررہی ہیں جو پوری طرح سے ہمارے کاروبارکو تہس نہس کرگیاہے،اگر یہی حال رہاتو شیئرنگ ٹیکسی خدمات پوری طرح سے بند ہوجائینگی۔پچھلے پچاس سالوں سے ہم یہ ٹیکسی سرویس سے جڑے ہوئے ہیں،اس وقت شیموگہ سے بھدراوتی کیلئے97 ٹیکسی پرمٹ لئے ہوئے ہیں،جن میں کوروناکے دوران کچھ پرمٹ منسوخ کروائے گئے تھے۔جملہ طورپر جہاں شکتی منصوبہ خواتین کیلئے راحت ثابت ہواہے وہیں ٹرانسپورٹ کاروبارسے جڑے ہوئے لوگوں کو یہ زحمت بن چکا ہے۔