بنگلور:۔ (تمیم انصاری) ریاستی وزیر برائے اقلیتی بہبود ضمیر احمد خان نے افسروں کو ہدایت دی کہ کرناٹکا مائنارٹی ڈیولپمنٹ کارپوریشن میں بروکروں پر لگام لگایا جائے افسران کو چاہیے کہ وہ کارپوریشن اور حکومت کے منصوبے کو عوام کو روشناس کرائیں اور اور اہل مستحقین کو سرکاری سہولیات ان کی مکان کی دہلیز پر پہنچانے کا کام کیا جائے ۔ مزید کہا کہ کرناٹکا مائناریٹی ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے ذریعے ملنے والی سہولیات کے متعلق عوام میں اعلی پیمانے پر بیداری لایا جائے ساتھ ہی اس کی تشہیر کی جائے۔کے ایم سی کے ذریعے حاصل کیے خزاں کی عدم وصولی پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا قرضہ وصولی صرف 15 فیصد ہے جو کے غیر اطمینان بخش ہے اس میں بہتری لانے کے لئے آپ لوگوں کو تاکید کی کم از کم پچاس فیصد قرضے کی وصولی کرنے کے لئے ٹھوس اقدامات کیے جائیں ساتھ ہی جن طلباء نے تعلیمی میں قرضہ حاصل کیا ہے جن کے بقیہ جات 760 کروڑ روپے ہیں ون ٹائم سیل مین منصوبے کے تحت تحت طلبا سے اصل کل رقم حاصل کر کے سود معاف کرنے کے لئے اقدامات کئے جائیں۔وزیر موصوف نے مزید کہا کہ اقلیتی طبقے سے تعلق رکھنے والے خواتین اگر اسٹارٹ اپ کے لیے آگے آئیں تو سبسڈی سمیت مالی تعاون دیا جائے گا اس کے متعلق بھی بیداری لائی جائے فر قہ ورانہ فسادات کے متاثرین کے کنبے کو باز آباد کاری کے لیے موجود فنڈ استعمال کرنے کی ہدایت دی۔اس موقع پر پیشہ وارانہ کو رسس کرنے والے 6500 اقلیتی طلباء کو ارے وہ منصوبے کے تحت 10 کروڑ روپے کی چیک ایگزامینیشن اتھارٹی کے سپرد کی گئی بی جے پی حکومت کے دوران بیرونی ممالک میں طلباء کو تعلیم حاصل کرنے کی کی اسکیم کو رد کی گئی تھی جس کو بحال کرتے ہوئے بیرون ممالک میں تعلیم حاصل کرنے والے طلباء کے لیے دس کروڑ روپئے اور 5 تا 20 لاکھ تک خود روزگار حاصل کرنے کے لئے راست طور پر قرضہ جات دینے کی اسکیم کو دوبارہ لاگو کیا گیا۔ وزیر موصوف نے بارہ ٹیکسی 12 آٹو چار عدد گوڈس آٹووں کو مستحقین کے حوالے کیا گیا اس موقع پر وزیراعلیٰ کے سیاسی مشیر نصیر احمد ، محکمہ کے سکریٹری منوج جین کارپوریشن نن کے مینیجنگ ڈائریکٹر محمد نذیر و دیگر موجود تھے۔
