امپھال:۔ منی پور میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران تازہ تشدد کے نتیجے میں ایک خاتون سمیت 9 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔ فوج کے ذرائع کے مطابق یہ ہلاکتیں خمین لوک علاقے میں رات گئے فائرنگ کے واقعے میں ہوئیں۔ کئی زخمیوں کو علاج کے لیے امپھال لے جایا گیا ہے۔ تشدد میں ہلاک ہونے والوں میں سے کچھ کے جسموں پر نشانات ہیں اور کئی کو گولیوں کے زخم ہیں۔نیوز ایجنسی اے این آئی نے امپھال ایسٹ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) شیوکانت سنگھ کے حوالے سے بتایا کہ تازہ ترین تشدد میں 10 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مرنے والوں کا پوسٹ مارٹم کیا جا رہا ہے، تاکہ صحیح طور پر پتہ چل سکے کہ ان کی موت کس وجہ سے ہوئی ہے۔شمال مشرقی ریاست میں تشدد کے تازہ دور کے بعد کرفیو میں نرمی محدود کر دی گئی ہے، جو نسلی جھڑپوں کی وجہ سے ایک ماہ سے زیادہ عرصے سے تناؤ کا شکار ہے۔بتا دیں کہ 3 مئی کو پہاڑی اضلاع میں ‘قبائلی یکجہتی مارچ’ منعقد کیے جانے کے بعد پرتشدد جھڑپیں شروع ہوئیں، جس کا مقصد منی پور میں میتئی برادری کے شیڈول ٹرائب (ایس ٹی) کا درجہ دینے کے مطالبے کے خلاف احتجاج کرنا تھا۔ان جھڑپوں میں کم از کم 100 افراد ہلاک اور 310 زخمی ہوئے ہیں۔ 37,450 لوگ اس وقت 272 ریلیف کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔
