شیموگہ : نجی اسکول والے کورونا کی مشکلات میں پھنسے والدین کو لوٹنےپر آمادہ ہوگئے ہیں۔ یہ الزام کے پی سی سی سکریٹری دیویندرپا نے لگایاہے۔انہوں نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ سال حکومت نےکورونا کی مشکلات کو سمجھتے ہوئےنجی اسکولوں کو 70 فیصد فیس لینےکی ہدایت دی تھی اس کے باوجود اسکولوں میں 100 فیصد فیس وصول کی جارہی ہے اوراس کی مثالیں بھی موجود ہیں۔ موجودہ تعلیمی سال میں داخلوں کا آغاز ہوچکاہے اور نجی اسکولوں نےڈونیشن سمیت دیگر تمام طرح کے اخراجات کا بوجھ ڈالناشروع کردیا ہےاور حکومت کو اس پر روک لگانے کا کام کرناچاہئے۔ مزید الزام لگایا کہ نجی اسکولوں میں سود دینے کی خبریں گھوم رہی ہیں، انٹلیجنس رپورٹس حکومت کےپاس ہے۔ اس پر روک لگانے کے بجائے حکومت نیند کررہی ہےکہتے ہوئے حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔اگر لوگ باہر نکلتے ہیں توان پر جرمانے عائد کرکے گھروںمیں ہی رہنے کی تاکید دی جاتی اور اسکولوں میں سود دے کر والدین کو حراساں کیا جارہا ہے۔ اسطرح لگتا ہے کہ ریاستی حکومت محض سود اور جرمانے کی حکومت بن چکی ہے۔ انہوں نے انتباہ کیا کہ اگر نجی اسکولوں میںسود کے ساتھ داخلے کروانے کا نظام اپناتے ہیں تو یقیناً ہماری تنظیمیں سڑکوں پر نکل اس کے خلاف احتجاج کریں گی۔پریس کانفرنس میں آئی این ٹی یو سی یو اومینس وینگ کے ضلعی صدر کویتا، راگھویندرا، ارجن ،نیہال، سنگھ، جان بھرت وغیرہ موجودتھے۔
