شیموگہ:۔رمضان کے مہینے میں عام طورپر مساجدمیں خدمات انجام دینےوالے علماء،امام اور موذنین پر اپنی طرف سے بیشمار عنایتیں پیش کرتے ہیں،جن میں انہیں ہدیہ وتحفے پیش کرتے ہیں،جس کی وجہ سے یہ علماء اور موذنین اپنی ضروریات کو اطمینان کے ساتھ پوراکرلیتے ہیں۔لیکن عیدالاضحیٰ کے موقع پر عیدکے باوجود ان کے یہاں پریشانیوں کا عالم ہوتاہے اور اپنی محدود تنخواہوں کے باعث وہ عیدالاضحیٰ کو محدودوسائل کے ساتھ مناتے ہیں ۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ آخر ان علماء،امام اور موذنین کے مسئلے کو حل کرنے کیلئے اُمت مسلمہ کیوں توجہ نہیں دے رہی ہے۔رمضان میں عیدکٹ،راشن کٹ ، کپڑے اور نقدبھی دی جاتی ہے،اس کے علاوہ مساجدمیں انہیں بونس کے نام پر افزود تنخواہ دی جاتی ہے۔جبکہ بقرعیدکے موقع پریہ تمام چیزیں ناپیدہوجاتی ہیں،یہاں تک کہ مساجدکی کمیٹیاں بھی انہیں ان تحفوں سے محروم رکھتی ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ جس طرح سے رمضان کے مہینے میں بونس اور تحفے دئیے جاتے ہیں ،اسی طرح سے بقرعیدکے موقع پر ان لوگوں کیلئے ہاتھ کھولے جائیں تو ان کیلئے آسانیاں پیداہونگی۔غورطلب بات یہ ہے کہ یہ طبقہ سال کے 365 دن بھی اپنی ذمہ داری کو بخوبی انجام دیتے ہیں،جبکہ دیگر ملازمتوں اور پیشوں سے جڑے ہوئے لوگوں کو ہفتے میں ایک دن،سال میں ایک مہینہ کے طرز پر چھٹی ہوتی ہے،لیکن ان کی کوئی چھٹی نہیں ہوتی اور اگریہ چھٹی لیتے بھی ہیں تو اس کیلئے انہیں یاتو تنخواہ کی کٹوتی کروانی ہوتی ہے،یاپھر نہایت معقول وجہ کی ضرورت پڑتی ہے۔اس وجہ سے اُمت مسلمہ کوچاہیے کہ اس طبقے کے تعلق سے غوروفکرکرتے ہوئے ان کی مددکیلئے آگے آئیں۔
