بنگلورو:۔کرناٹک اسمبلی میں منگل کو اس وقت ہنگامہ ہوا جب اپوزیشن بی جے پی نے انتخابات سے قبل حکمراں کانگریس کے پانچ انتخابی وعدوں پر عمل درآمد میں مبینہ تاخیر کے خلاف احتجاج کیا۔ بی جے پی ممبران اسمبلی نے ایوان کے ویل میں ہنگامہ کیا اور اجلاس کی کارروائی میں خلل ڈالا۔ اسمبلی اجلاس کے دوسرے دن کا آغاز طوفانی نوٹ پر ہوا کیونکہ بی جے پی نے دونوں ایوانوں کی کارروائی میں خلل ڈالا۔ پانچ ضمانتوں پر موثر عمل آوری کا مطالبہ کرتے ہوئے بی جے پی ارکان نے اسمبلی کے اندر اور باہر ہنگامہ کیا۔ بی جے پی ذرائع کے مطابق یہ احتجاج 14 جولائی تک جاری رہے گا جب تک اسمبلی اجلاس ختم نہیں ہو جاتا۔ریاستی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سدارامیا نے اپوزیشن لیڈروں پر زور دیا کہ وہ ہنگامہ آرائی بند کریں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ تحریک التواء پر ہمیشہ سوالیہ وقفہ کے بعد ہی بحث کی جاتی ہے۔ چیف منسٹر نے کہا ”آپ (بی جے پی) سوال کے وقت تک جو بھی سوال اٹھانا چاہتے ہیں اٹھا سکتے ہیں۔ ہماری حکومت ہر چیز کا جواب دینے کے لیے تیار ہے۔”ایک طرف جہاں بی جے پی ایم ایل ایز نے اسمبلی کے اندر مظاہرہ کیا۔ جبکہ سابق وزرائے اعلیٰ بی ایس یڈی یورپا، ڈی وی سدانند گوڑا اور بی جے پی کے ریاستی صدر نلین کتیل نے فریڈم پارک میں دھرنا دیا۔بھگوا پارٹی کانگریس کو نشانہ بنا رہی ہے۔ خاص طور پر ‘انا بھاگیہ’ اسکیم کے نفاذ کے بارے میں جو غربت کی لکیر (بی پی ایل) سے نیچے رہنے والے خاندانوں کو 5 کلو اناج فراہم کرتی ہے۔بی ایس یدی یورپا نے نامہ نگاروں سے کہا، ”بی جے پی آج احتجاج کر رہی ہے کیونکہ کانگریس نے بہت سے وعدے پورے نہیں کیے، ہم صرف چاہتے ہیں۔اسے اپنے وعدوں کو پورا کرنا چاہیے۔کمارسوامی جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ سچ ہے اور میں ان کے بیان کی حمایت کرتا ہوں۔ مستقبل میں ہم اور کمارسوامی مل کر لڑیں گے۔کرناٹک کے نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے کہا کہ ہم نے جو بھی وعدہ کیا ہے اسے پورا کریں گے۔ بی جے پی ہمارے خلاف دھرنا دے رہی ہے جبکہ انہیں پہلے مودی جی اور مرکزی حکومت کے خلاف دھرنا دینا چاہئے کیونکہ انہوں نے ایف سی آئی کو چاول دینے سے روک دیا ہے لیکن میں ہماری اسکیم کو فروغ دینے کے لئے ان کا شکر گزار ہوں۔چاول کی مطلوبہ مقدار کی عدم دستیابی کی وجہ سے سدارامیا حکومت اسکیم کے لیے یکم جولائی کی آخری تاریخ سے محروم ہوگئی ہے۔ چاول ملنے تک ہر مستحق کے بینک اکاؤنٹ میں 34 روپے فی کلو کے حساب سے رقم جمع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ فوڈ کارپوریشن آف انڈیا نے گزشتہ ماہ مرکزی حکومت کے حکم کی وجہ سے ریاستوں کو براہ راست چاول فروخت کرنا بند کر دیا تھا۔جبکہ خواتین کے لیے غیر لگژری بسوں میں مفت سفر کی پیشکش والی ‘شکتی’ اسکیم پہلے ہی شروع کی جا چکی ہے۔ اےپی ایل اور بی پی ایل(APL/BPL )راشن کارڈ رکھنے والے خاندانوں کی خواتین سربراہان کو ماہانہ 2000 روپے دینے کی ‘گرہلکشمی’ اسکیم اگست میں نافذ کی جائیگی۔200 یونٹ تک مفت بجلی دینے کا وعدہ کرنے والی ‘گریہ جیوتی’ اسکیم کے فوائد اگست سے بلوں میں ظاہر ہونا شروع ہو جائینگے۔ اسی طرح یووا ندھی اسکیم کے تحت 2022-23 میں بے روزگار گریجویٹس کو ماہانہ 3000 روپے اور ڈپلومہ ہولڈرز کو 1500 روپے دینے کی اسکیم جلد شروع کی جائیگی۔
