شیموگہ:۔ضلع کے مختلف جنگلاتی علاقوں اور تیرتھ ہلی تعلقہ کے مہیشی اور منڈگدے میں ریت کی غیر قانونی تسکری کو لیکرعوام کی جانب سے شکایتیں موصول ہورہی ہیں۔اس تعلق سے محکمہ جنگلات کو چاہیے کہ وہ غیر قانونی ریت کی تسکری کرنےوالوں کے خلاف سخت کارروائی کریں۔اس بات کی ہدایت ضلع ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر آر سیلوامنی نے دی ہے ۔ وہ آج اپنے دفترمیں منعقدہ محکمہ مائنز اینڈ جیالوجی کے زیر اہتمام ڈسٹرکٹ سیانڈا سٹیورڈ شپ کمیٹی کے اجلاس میں بات کرتے ہوئے کہاکہ تمام ٹھیکیداروں کواس بات کی ہدایت دی جاتی ہے کہ وہ مانسون کے اختتام تک ضلع میں ریت کی کانکنی روک دیں ،اگر ایسانہیں کیاجاتاہے توایسے ٹھیکداروں کےخلاف سخت کارروائی کرنے کیلئے افسران پہل کریں۔ضلع کے ساگر تعلقہ کے منتخب جنگلاتی علاقے جس میں پر کوگارو، چنا گونڈہ اور بیلندور کے وسطی حصے میں غیرقانونی طورپر اینٹھوں کو تیارکرنےکی شکایات موصول ہوئی ہیں۔ افسران ان علاقوں کا جائزہ لیتے ہوئے ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کو انجام دیں،ساتھ ہوسنگر تعلقہ کے کچھ دیہاتوں میں ریونیو، فاریسٹ، پنچایت ڈیولپمنٹ آفیسر اور کے پی سی ایل کے علاقوں میں غیر قانونی طورپرریت کی کانکنی، نقل و حمل اور ذخیرہ اندوزی کی شکایات موصول ہوئی ہیں۔ ان شکایات کی بنیاد پر محکمہ مائنز اینڈ جیالوجی کی جانب سے عدالتوں میں مقدمات دائر کیے گئے۔ اس کے علاوہ کئی بار ریت کو ضبط کر کے ٹھکانے لگایا جا چکا ہے،لیکن اس کے باوجودریت کی غیر قانونی کانکنی اور نقل و حمل جاری ہے،ایسے میں محکمہ ریونیو، محکمہ جنگلات اورمحکمہ پولیس کی جانب سے مناسب قانونی کارروائی کی جائے۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنرنے مائنز اینڈ جیالوجی کی افسرسندھیا کو ہدایت دی کہ وہ گرام پنچایت سے رپورٹ حاصل کریں اور پھر قواعد کی خلاف ورزی ہونے پر کارروائی کریں۔مزید انہوں نےسینئرماہرین ارضیات کو ہدایت دی کہ وہ ا سٹون کرشنگ یونٹس کے لیے اجازت نامے کی مدت میں توسیع کے سلسلے میں تبادلہ خیال کریںاور ضروری کارروائی کریں جنہوں نے گیجیناہلی کے مختلف سروے نمبروں میں نجی زمینوں پر زمین کی تبدیلی کے دستاویزات جمع کرائے ہیں۔ اس اجلاس میں ایس پی متھون کمار، ڈی ایف او شیواشنکر، آر ٹی او شنکرپا،سب ڈویژنل آفیسر روی چندر نائک اور مختلف محکموں کے افسران موجود تھے۔
