بنگلورو:۔اس دفعہ بجٹ میں تعلیمی شعبہ کیلئے11 فیصدکا بجٹ مختص کیاگیاہے،جس کے تحت37587 کروڑ روپئے تعلیمی شعبے کیلئے استعمال کئے جائینگے،بڑے پیمانے پر بحث کا موضوع بننےوالے مرکزی حکومت کے نیشنل ایجوکیشن پالیسی(این ای پی) کے بدلے میں ریاستی حکومت نے کرناٹکا ایجوکیشن پالیسی یا اسٹیٹ ایجوکیشن پالیسی کوجاری کرنے کافیصلہ لیاگیاہے۔بجٹ میں آج وزیر اعلیٰ سدرامیانےاس بات کی اطلاع دی ہے۔انہوں نے بتایاکہ مرکزی حکومت کی جانب سے جاری کئے جارہے این ای پی ایک متحد سماج کیلئے نقصاندہ ہے،آئین اور جمہوری نظام کے موافق ہے،مختلف مذاہب،مختلف زبانیں اوردرجنوں تہذیب سے لیز بھارت دیش میں ایک ہی طرح کا تعلیمی نظام نافذ نہیں کیاجاسکتا،ریاست کےوجود اور وقار کو بحال رکھنے اوراعلیٰ تعلیم کوعالمی سطح پر لے جانے کیلئے اور نوجوانوں کو روزگارسے جوڑنے و سماجی اور معاشی طورپر مضبوط کرنے کیلئے اسٹیٹ ایجوکیشن پالیسی کو نافذکیاجائیگا۔اسکول ایجوکیشن سسٹم میں طلباء کی شخصیت کو نکھارنے کیلئے یہ پالیسی اہم ہوگی،اس کے علاوہ بچوں کو ذہنی اور جسمانی طورپر بہتربنانے ،ان کے معلومات میں اضافہ کرنے کیلئے ایس ای پی( اسٹیٹ ایجوکیشن پالیسی) کارآمدہوگا۔اس پالیسی کورائج کرنے کیلئے80کروڑ روپئے ابتدائی مرحلےمیں خرچ کئے جائینگے۔اسکولوں وکالجوں میں اینویشن لیاب بنائے جائینگے،ساتھ ہی لائبریریاں بھی بنائی جائینگی۔
