دہلی:۔مسلم ورلڈ لیگ یا رابطہ عالم اسلامی کے سکریٹری جنرل ڈاکٹر محمد بن عبدالکریم العیسیٰ کے 10 جولائی سے شروع ہونے والے چھ روزہ دورے پر ہندوستان آرہے ہیں ۔ملک کی راجدھانی میں ایک ایسی شخصیت کی آمد کا بے چینی سے انتظار ہورہا ہے جس کو دنیا میں اسلام کی روشن خیالی کو اجاگر کرنے کا سب سے بڑا مہم جو مانا جاتا ہے، اعتدال پسند اسلام کے لیے ایک سرکردہ آواز اور بین المذاہب مکالمے اور عالمی امن کے وکیل کے طور پر، ڈاکٹر العیسیٰ سعودی عرب کے ایک ممتاز مذہبی رہنما، اسلامی اسکالر، اور اصلاح پسند ہیں۔ 2016 میں مسلم ورلڈ لیگ کے سیکرٹری جنرل کے عہدے پر تعینات ہونے سے پہلے، انہوں نے سعودی کابینہ میں وزیر انصاف کے طور پر کام کیا۔ڈاکٹر العیسی کا چھ روزہ دورہ ابھی سے میڈیا کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے ،جس کے دوران وہ سب سے پہلے قومی سلامتی مشیراجیت ڈوبھال سے ملاقات کریں گے ۔ اس کے بعد وزیر خارجہ ایس جے شنکر سے ملاقات کریں گے۔ ساتھ ہی ان کی ملاقات اقلیتی امورکی وزیر سمرتی ایرانی اور سرکردہ مذہبی رہنماوں سے بھی ہوگی۔ شیخ محمد العیسی کیصدر دروپدی مرمو سے بھی ملاقات کر سکتے ہیں۔ خسرو فاؤنڈیشن نے انہیں 11 جولائی کو بی ایس عبدالرحمن آڈیٹوریم میں خطاب کے لیے مدعو کیا ہے۔ڈاکٹر العیسیٰ گیارہ جولائی کو انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر میں مذہبی اور کمیونٹی رہنماؤں، ماہرین تعلیم اور میڈیا کے ایک اجتماع سے خطاب کریں گے۔ نئی دہلی میں اپنے قیام کے دوران ڈاکٹر العیسیٰ جمعہ کی نماز کے لیے جامع مسجد دہلی بھی جائینگے۔ آگرہ کا سفر بھی کرینگے۔سکریٹر ی جنرل کے طور پر انہوں نے مختلف برادریوں، عقائد اور قوموں کے درمیان شراکت داریوں کو مضبوط بنانے اور تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے کام کیا ہے۔وہ ہندوستان کے اپنے سفر کے دوران وہ مذہبی رہنماؤں کے ایک گروپ کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے وویکانند انٹرنیشنل فاؤنڈیشن جائیں گے۔ وہ اکشردھام مندر بھی جا سکتے ہیں اور ممتاز شخصیات سے ملاقات کر سکتے ہیں۔۔ وہ نیشنل پولیس میموریل پر بھی خراج عقیدت پیش کریں گے۔ڈاکٹر العیسیٰ کا دورہ ہند بین المذاہب مکالمے کو فروغ دینے، شراکت داری کی تعمیر اور متنوع برادریوں اور عقائد کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے کے لحاظ سے اہم اہمیت کا حامل ہے۔ وہ مرکز برائے ذمہ دار قیادت کے چیئرمین بھی ہیں، جو حکومت، مذہب، میڈیا، کاروبار اور کمیونٹی کے شعبوں سے تعلق رکھنے والے بااثر رہنماؤں کا ایک گروپ ہے جو عالمی چیلنجوں کو حل کرنے کے لیے مل کر کام کر رہا ہے۔ان کا دورہ ہندوستان کو سعودی عرب کے ایک بااثر اسلامی اسکالر اور اصلاح پسند کے ساتھ مشغول ہونے اور مذہبی ہم آہنگی، امن اور تعاون سے متعلق مسائل پر بات چیت کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ ہندوستان میں اعلیٰ سطحی عہدیداروں اور سرکردہ شخصیات کے ساتھ ان کی ملاقاتیں دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کو مزید بڑھا سکتی ہیں۔ دراصل سعودی عرب میں انقلابی تبدیلیوں کے اس دور میں ڈاکٹر العیسی کو ولی عہد محمد بن سلمان کا بہت قریبی مانا جاتا ہے،جنہوں نے دنیا میں اسلام کی روشن خیالی کو ایک مثبت طریقہ سے پیش کیا ہے اور مذہب کے بارے میں پھیلی غلط فہمیوں کو دور کرنے کی کوشش کی ہے جسے اقوام متحدہ اور دنیا کی بڑی طاقتوں نے سراہا ہے ہندوستان کا یہ دورہ دونوں ممالک میں سیاسی اور سفارتی تعلقات کے ساتھ سماجی و ثقافتی رشتوں کو بھی استحکام بخشے گاآپ کو بتا دیں کہ اقوام متحدہ میں پچھلے ماہ ہی جنرل شیخ ڈاکٹر محمد العیسی نے”مشرق اور مغرب کے درمیان مفاہمت اور امن کے پُلوں کی تعمیر“ کے لئے رابطہ عالم اسلامی کے اقدام پر کہا تھا کہ اقوام کےدرمیان شناسائی اور تعاون کے لئے باہم رابطہ تمام شرائع میں الہی دعوت ہےاورجس طرح ہر تہذیب کو وجود کا حق حاصل ہے۔ اسی طرح سب کی اپنی انفرادیت ہے۔ تمام تہذیبوں کو ایک تہذیب میں ضم کرنا ممکن نہیں ہے۔اسی طرح ایک تہذیب دوسری تہذیب پر برتی حاصل نہیں کرسکتی ماسوائے اس سچائی کے جو اس کے پاس ہے۔اسی دورے میں واشنگنٹن ڈی سی میں 30 سے زائد ممتاز تحقیقی مراکز، اداروں اور امریکی کانگریس میں پالیسی ساز مشیران کی موجودگی میں شیخ ڈاکٹر محمد العیسی کے ہمراہ کھلی بیٹھک کی۔ جس میں انہوں نے میثاق مکہ مکرمہ میں اسلامی اقدار اور تصورات پر روشنی ڈالی۔ گفتگو کے دوران آپ نے یہ بھی بتایا تھا کہ اس دستاویز نے کس طرح پہلی مرتبہ امت مسلمہ کے مختلف مکاتب فکر کے علمائے کرام ومفتیان عظام کو عصر حاضر کے اہم ترین مسائل پر جمع کیا جوکہ وقت کی اہم ترین ضرورت تھی۔ حاضرین نے ڈاکٹر العیسی کی گفتگو اور تمام سوالات کے جوابات خصوصاً فکری مباحث پر آپ کے اظہار خیال کو سراہا تھا۔ اس انٹرویو کی نظامت سیما فور کے چیف ایڈیٹر اور نیویارک ٹائمز کے کالم نگار اسٹیو کلیمینز نے کی۔ اجلاس میں متعدد نامور مذہبی شخصیات خاص طور پر اسلامی شخصیات نے شرکت کی تھی جنہوں نے اس دستاویز کو اپنے لئے باعث فخر قراردیا تھا۔
