شیموگہ:۔شیموگہ کارپوریشن کیلئے نومبریا دسمبرمیں انتخابات ہونےوالے ہیں،ان انتخابات کے پیش نظرابھی سے مختلف دعویدارمیدان میں دکھائی دے رہے ہیں،اپنی سماجی اور ملّی سرگرمیوں کی ہلچل کا ثبوت پیش کررہے ہیں،آنےوالے کارپوریشن انتخابات میں امیدواربننے کیلئے دعویدار ہر ممکن کوشش کررہے ہیں۔ایسے میں مسلم اکثریت والے وارڈس میں بھی مسلمان اپنے آپ کو امیدوا ر کے طورپر پیش کرنے کی دعویداری کررہے ہیں،لیکن ہمیشہ کی طرح اس باربھی ہر وارڈ سے8-10 امیدوار الیکشن لڑنےکی تیاری میں ہیں۔کچھ دعویدار پارٹی سے ٹکٹ حاصل کرنے کے خواہشمندہیں تو کچھ دعویدار آزادامیدوارکے طورپر میدان میں اترنا چاہ رہے ہیں،بھلے اس کیلئے وہ کسی بھی طرح کی قیمت اداکرنے کیلئے تیارہیں۔شیموگہ سٹی کارپوریشن میں جملہ35 وارڈ ہیں،جس میں مسلم اکثریت والے علاقے آر ایم ایل نگر ، الیاس نگر ، ٹیپونگر ،ٹیپونگر ائٹ سائڈ،ٹینک محلہ،لشکرمحلہ،سولے بیل ،آزاد نگر ، نیو منڈلی /امام باڑا ،وادی ہدیٰ/ مداری پالیہ جیسے وارڈس شامل ہیں۔کسی دور میں شیموگہ میونسپل کاونسل میں کم و بیش 9-8 مسلم کائونسلر ہوا کرتے تھے،لیکن اب حالات اس قدربدترہیں کہ مسلمان اپنی آپسی رسہ کشی کی وجہ سےمحض زیادہ سے زیادہ پانچ کارپوریٹرس کو نمائندگی کیلئے منتخب کر پا رہے ہیں۔حالانکہ بیشتر دعویداروں میں قیادت کی کوئی صلاحیت نہیں ہوتی،یہاں جیتنے سے زیادہ ہرانے کی کوشش ہوتی ہے،یاپھر نام کے واسطے کارپوریشن الیکشن لڑنے کی تیارکی جاتی ہے۔کئی وارڈس میں مسلمانوں کی بھاری اکثریت ہونےکے باوجود اختلافات کی وجہ سے بی جے پی جیسی فرقہ پرست جماعت اقتدارپر قابض ہورہی ہے۔جو لوگ دن رات محلوں میں بغیر کارپوریٹر ہوئے ہی مستقبل کا منشاء رکھتے ہوئے کام کرتے ہیں ، اُنہیں آخرمیں نقصان اٹھانا پڑتاہے اور جو شوپیس ہوتے ہیں وہ اچانک الیکشن میں اُترکر نہ خود جیت پاتے ہیں اور نہ دوسروں کو جیتنے کا موقع دیتے ہیں،ایسے میں مسلمانوں کی نمائندگی فوت ہورہی ہے۔ آنے والے کارپوریشن انتخابات میں کسے اپنا نمائندہ بناناہےاور کس طرح سے الیکشن کا مقابلہ کرنا ہے ، اس کیلئے لائحہ عمل تیارکرنے کی ضرورت ہے۔ کارپوریشن الیکشن میں افسوسناک بات یہ بھی ہے کہ چند لوگ امیدواروں کاانتخاب مسلک ومکتب کی بنیادپرکرتے ہیں اور راتوں رات بیٹھ کر فہرست بنائی جاتی ہے۔حالانکہ فہرست بنانے والے نہ کبھی مسلمانوں کے مسائل کو حل کرنے کیلئے آگے آئے ہیں نہ ہی انہیں سیاست کا "س "تک معلوم ہے ۔ باوجوداس کے اپنے آپ کو کنگ میکر کہلوانے کیلئے جذباتی فیصلے لیکر ہرایک کو نقصان پہنچارہے ہیں۔ اگر یہی حال رہاتو اگلے کارپوریشن الیکشن میں بھی مسلمانوں کی قیادت پوری طرح سے ٹوٹ جائیگی۔
