جے ڈی ایس180ڈگری سے360ڈگری کی طرف

Uncategorized

از:۔مدثراحمد۔شیموگہ۔کرناٹک۔9986437327
1999 سے پہلےبھارت میں جنتادل ایک مضبوط اپوزیشن کے طورپر بھارت میں جاناجاتاتھا،اُس وقت کرناٹک میں جنتا دل کے وزیر اعلیٰ جے ایچ پٹیل کو اکثریت نہیں ملی تھی تو بی جے پی نے جنتادل کو تائیدکرنے کی بات کہی تھی،اُس وقت کے وزیر اعلیٰ جے ایچ پٹیل نے کہاتھاکہ بی جے پی ایک کینسرکی طرح ہے،اُس کے ساتھ ہاتھ ملانا ممکن نہیں،لیکن اس بیان کے کچھ ہی دن بعد جے ایچ پٹیل نے بی جے پی کا ساتھ لینے کافیصلہ کیاتھاتویہ سوال کیاگیاتھاکہ آپ نے تو بی جے پی کو کینسرکہاہے تو کس بنیادپر بی جے پی کے ساتھ ہاتھ ملایاجارہاہے،تو اس پر جے ایچ پٹیل نے جواب دیاتھاکہ یہ کینسرقابلِ علاج ہے،اس لئے ہاتھ ملایاگیاہے۔جنتا دل کے اس فیصلے کے بعد ایک جنتادل یونیٹیڈ ہوااور جو لوگ بی جے پی کے ساتھ نہیں گئے وہ اپنے آپ کو سیکولر کہلانے لگے اور خودکو جنتادل سیکولرمیں تبدیل کرلیا۔کسے پتہ تھاکہ جس جنتادل کوسیکولر اور کمیونل بنیادوں پر تقسیم کرلیاگیاتھا ،وہ آگے چل کرپھر ایک ہی نظریہ پر کام کرنے لگیں گے۔سال2006میں جے ڈی ایس اپنی سیکولر نظریات کے باوجود بی جے پی کے ساتھ حکومت چلانے کیلئے آگے آئی،ریاست میں غیر کانگریسی جماعت کے طورپر جس پارٹی کو سیکولربنیادوں پر لوگ قبول کرنے کیلئے آگے آرہے تھے وہ جے ڈی ایس کے اس فیصلے سے کنارہ ہونے لگے۔پہلے جے ڈی ایس نے180 ڈگری میں بی جے پی کے ساتھ ہاتھ ملایاتھااور اس کے بعد یہ پارٹی محدودہوتی چلی گئی۔جس طرح سے کرناٹک میں جے ڈی یو کا نام ونشان مٹ گیا،اُسی طرح سے اب جے ڈی ایس بھی اپنےوجودکو دیمک لگاتی جارہی ہے جو کبھی بھی کھوکھلی ہوکر ٹوٹ سکتی ہے۔سال2023 میں ہوئےکرناٹک اسمبلی انتخابات کے بعد بی جے پی تو پوری طرح سے ٹوٹ چکی ہے،وہیں اس ٹوٹی کشتی میں سوارہونے کیلئے جے ڈی ایس بے تاب ہے۔اگر اس دفعہ جے ڈی ایس بی جےپی کے ساتھ ہاتھ ملاتی ہے اوراگلے پارلیمانی انتخابات میں اپنےآپ کو بی جے پی کے حوالے کرتی ہے تو وہ دن دورنہیں ہوگاکہ جے ڈی ایس کا نام ونشان اس ریاست سے مٹ جائیگا،پہلے ہی اس پارٹی کو باپ بچوں کی پارٹی قراردیا جاتاہے،ایسے میں بی جے پی کے ساتھ جے ڈی ایس ایک ہوجاتی ہے تو جنتادل سیکولر کی جگہ جنتادل کمیونل بن جائیگی۔یقیناً کسی سیاسی پارٹی کو چلانا آسان بات نہیں ہے،اس کیلئے بہت ساری قربانیاں دینی پڑتی ہیں،جیساکہ آزادی کے بعد سے اب تک بی جے پی نے قربانیاں دی ہیں،اُسی طرح سے ہر سیاسی پارٹی کوقربانی دینا ضروری ہوتاہے۔مگردیوے گوڈااور کمارسوامی جس طرح سے اپنی ضرورت کے مطابق جے ڈی ایس کا استعمال کررہے ہیں،وہ اس بات کی دلیل ہےکہ یہ پارٹی بھی دوسری پارٹیوں کی طرح زوال کا شکارہوجائیگی۔جمہوری نظام میں اس طرح کی تبدیلیاں ہوتی ہی رہتی ہیں،لیکن پوری طرح سے نظریات کو تبدیل کرتے ہوئے جے ڈی ایس نے اپنا ضمیر گنوانا شروع کردیاہے۔یہاں ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ سال2023 کے انتخابات میں جے ڈی ایس کو سیکولر ہونے اور سیکولر نظریات کو پیش کرنے کے باوجود شکست حاصل ہوئی ہے،اس شکست کو ہی بنیاد بناکر اگر جے ڈی ایس اپنا رُخ کمیونل جماعتوں کی طرف پھیرلیتی ہے تو اس سے رہی سہی شناخت بھی جے ڈی ایس گنواں سکتی ہے۔اگر جے ڈی ایس اپنی شکست کے باوجود اپنے سیکولر نظریات کو بحال رکھتی اور بی جے پی کے ایجنڈے کو سختی سے رد کرتی ،کانگریس کا ساتھ سیکولر بنیادوں پر دیتی اور بطور اپوزیشن صرف عوام کے حقوق کےخلاف بنائے جانےوالی پالیسیوں کی مخالفت کرتی تو شائد آنےوالے انتخابات میں اسے فائدہ مل سکتاتھا،مگراس دفعہ جو حال جے ڈی ایس کا دیکھاجارہاہے اُس سے یہ بات ثابت ہونے لگی ہے کہ جے ڈی ایس بی جے پی کا دوسرا رُخ ہے۔اب بھی جے ڈی ایس کے پاس وقت ہے کہ وہ اپنے آپ کو بی جے پی کے دلدل سےنکال کر اپنے وجود کو بچائے۔